@sajidullah3590:

Sajid ullah
Sajid ullah
Open In TikTok:
Region: SA
Sunday 04 October 2026 15:10:37 GMT
110
19
10
1

Music

Download

Comments

noor.muhammad2911
Noor Muhammad :
🥰🥰🥰
2026-10-04 16:47:12
0
ibadullah__99
ibad ullah :
🥀🥀🥀
2026-10-04 16:43:20
0
siraj.ulhaq456
SIRAJ Ulhaq :
🥰🥰🥰
2026-10-04 16:34:35
0
badshah.uddin95
badshah uddin :
🥰🥰🥰
2026-10-04 15:45:34
0
lalzadarodbary
lalzada Rudbari :
💞💞💞
2026-10-04 15:39:59
0
muhammadzada7745
muhammadzada302 :
❤️❤️❤️
2026-10-04 15:17:38
0
siraj.khan447
Siraj khan :
🥰🥰🥰
2026-10-04 15:17:14
0
user464033053
Anas Comrade :
🥰🥰🥰
2026-10-04 15:12:56
0
peermuhammadtnha7744
꧁🐆Peer ꕥMuhammad꧁🐆 :
🥰🥰🥰
2026-10-04 16:58:44
0
To see more videos from user @sajidullah3590, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

*منم محوِ جمالِ او، نمی دانم کجا رفتم*   میں اس کے حُسن میں ایسا محو ہوا کہ مجھے پتہ ہی نہ چلا میں کہاں چلا گیا۔ *شدم غرقِ وصالِ او، نمی دانم کجا رفتم*   میں اس کے وصال میں ڈوب گیا، مجھے ہوش ہی نہ رہا کہ میں کہاں ہوں۔ *غلامِ روئے او بودم، اسیرِ بوئے او بودم*   میں اس کے چہرے کا غلام تھا، اس کی خوشبو کا قیدی تھا۔ *غبارِ کوئے او بودم، نمی دانم کجا رفتم*   میں اس کی گلی کی خاک تھا، پھر جانے میں کہاں کھو گیا۔ *بہ آن مہ آشنا گشتم، ز جان و دل فدا گشتم*   جب اس چاند جیسے محبوب سے آشنا ہوا، تو جان و دل سے فدا ہو گیا۔ *فنا گشتم، فنا گشتم، نمی دانم کجا رفتم*   میں فنا ہو گیا، بالکل فنا ہو گیا، پتہ نہیں کہاں چلا گیا۔ *شدم چوں مبتلائے او، نہادم سر بہ پائے او*   جب میں اس کے عشق میں مبتلا ہوا تو اس کے قدموں میں سر رکھ دیا۔ *شدم محوِ لقائے او، نمی دانم کجا رفتم*   اس کے دیدار میں ایسا کھویا کہ ہوش ہی نہ رہا۔ *قلندر بو علی ہستم، بنامِ دوست سر مستم*   میں قلندر بو علی ہوں، دوست کے نام پر سرمست ہوں۔ *دل اندر عشقِ او بستم، نمی دانم کجا رفتم*   دل میں اس کا عشق باندھ لیا ہے، اور اب نہیں جانتا میں کہاں چلا گیا ہوں۔
*منم محوِ جمالِ او، نمی دانم کجا رفتم* میں اس کے حُسن میں ایسا محو ہوا کہ مجھے پتہ ہی نہ چلا میں کہاں چلا گیا۔ *شدم غرقِ وصالِ او، نمی دانم کجا رفتم* میں اس کے وصال میں ڈوب گیا، مجھے ہوش ہی نہ رہا کہ میں کہاں ہوں۔ *غلامِ روئے او بودم، اسیرِ بوئے او بودم* میں اس کے چہرے کا غلام تھا، اس کی خوشبو کا قیدی تھا۔ *غبارِ کوئے او بودم، نمی دانم کجا رفتم* میں اس کی گلی کی خاک تھا، پھر جانے میں کہاں کھو گیا۔ *بہ آن مہ آشنا گشتم، ز جان و دل فدا گشتم* جب اس چاند جیسے محبوب سے آشنا ہوا، تو جان و دل سے فدا ہو گیا۔ *فنا گشتم، فنا گشتم، نمی دانم کجا رفتم* میں فنا ہو گیا، بالکل فنا ہو گیا، پتہ نہیں کہاں چلا گیا۔ *شدم چوں مبتلائے او، نہادم سر بہ پائے او* جب میں اس کے عشق میں مبتلا ہوا تو اس کے قدموں میں سر رکھ دیا۔ *شدم محوِ لقائے او، نمی دانم کجا رفتم* اس کے دیدار میں ایسا کھویا کہ ہوش ہی نہ رہا۔ *قلندر بو علی ہستم، بنامِ دوست سر مستم* میں قلندر بو علی ہوں، دوست کے نام پر سرمست ہوں۔ *دل اندر عشقِ او بستم، نمی دانم کجا رفتم* دل میں اس کا عشق باندھ لیا ہے، اور اب نہیں جانتا میں کہاں چلا گیا ہوں۔

About