@zubairgujjar9999: سب سے زیادہ شور مچانے والے لوگ نہیں، بلکہ سب سے زیادہ خاموش رہنے والے لوگ اندر سے سب سے زیادہ ٹوٹے ہوتے ہیں۔ ایک وقت آتا ہے جب انسان شکایت کرنا چھوڑ دیتا ہے، وضاحت دینا چھوڑ دیتا ہے، اپنے درد کا ذکر کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ تکلیف ختم ہو گئی ہوتی ہے، بلکہ اس لیے کہ اسے یقین ہو جاتا ہے کہ کوئی سمجھ ہی نہیں پائے گا۔ پھر خاموشی اس کی عادت نہیں، اس کی پناہ بن جاتی ہے۔ وہ ہنستا بھی ہے، لوگوں کے درمیان بیٹھتا بھی ہے، ہر ذمہ داری نبھاتا بھی ہے، مگر اس کے دل میں ایک ایسی ویرانی آباد ہو چکی ہوتی ہے جہاں برسوں سے کسی امید نے قدم نہیں رکھا۔ سب اسے مضبوط کہتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ صرف اتنا تھک چکا ہوتا ہے کہ اب ٹوٹنے کی آواز بھی اپنے اندر ہی دفن کر دیتا ہے۔