@syeedazadi: اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنی سوچ، اپنی سمجھ اور اپنے فیصلے بہت درست محسوس ہوتے ہیں، جبکہ دوسروں کی چھوٹی سی غلطی بھی بہت بڑی دکھائی دیتی ہے۔ اپنی کسی بات میں غلطی ہو جائے تو اس کے پیچھے حالات، مجبوری، جذبات یا وقت کی سختی تلاش کر لی جاتی ہے، لیکن جب یہی غلطی کسی دوسرے سے ہو تو اسے فوراً کردار، نیت یا کمزوری سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ اس بات میں "اپنی عقل" سے مراد صرف ذہانت نہیں بلکہ اپنی سوچ، اپنی سمجھ اور اپنے فیصلوں پر حد سے زیادہ اعتماد بھی ہے۔ بعض اوقات اپنی رائے اتنی درست محسوس ہوتی ہے کہ دوسروں کی بات سننے یا ان کے حالات سمجھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ یہی رویہ انسان کو یہ بھولنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ ہر شخص کے حالات، تجربات اور مجبوریاں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ دوسری طرف "دوسروں کے گناہ زیادہ لگتے ہیں" کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کی خامیاں، غلطیاں اور کمزوریاں بہت جلد نظر آ جاتی ہیں۔ کسی کے ایک غلط قدم کو بار بار یاد رکھا جاتا ہے، مگر اس کی بے شمار اچھی باتیں نظر انداز ہو جاتی ہیں۔ ایک غلطی کبھی کبھی پوری شخصیت پر حاوی کر دی جاتی ہے، جیسے کسی انسان کی پوری حقیقت صرف اس کی ایک لغزش دوسروں کی غلطیاں ہمیشہ نمایاںہوہو اور اپنی غلطیاں ہمیشہ قابلِ جواز محسوس ہوتی ہیں۔ یہی انسانی کمزوری ہے۔ حقیقی دانائی تب پیدا ہوتی ہے جب دوسروں کو پرکھنے سے پہلے اپنے کردار کا جائزہ لیا جائے، کیونکہ ہر شخص کامل نہیں اور ہر شخص کو اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔۔