@elperiodicoextremadura: .

El Periódico Extremadura
El Periódico Extremadura
Open In TikTok:
Region: ES
Monday 05 October 2026 09:15:41 GMT
1012
2
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @elperiodicoextremadura, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

حماد خان صاحب اور اے ایس ٹی فیکٹری آفیشل (AST Factory Official) ایبٹ آباد کی طرف سے جو مؤقف سامنے آیا ہے، وہ پتنگ سازی کی صنعت، اس سے جڑے معاشی پہلوؤں اور کے پی کے (KPK) کے ہنر مندوں کے حوالے سے انتہائی اہم اور حقیقت پسندانہ ہے۔ آپ نے بالکل درست نشاندہی کی ہے کہ اس صنعت کو صرف ایک صوبے (پنجاب) یا ایک شہر (لاہور) تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ اس کے وسیع تر معاشی اثرات اور خیبر پختونخوا میں اس کے کردار کو بھی مدنظر رکھنا ناگزیر ہے۔ اس پورے معاملے کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں: 1. معاشی وسعت اور ڈھائی لاکھ خاندانوں کا روزگار پتنگ سازی اور اس سے وابستہ کاروبار صرف ایک وقتی شوق نہیں ہے، بلکہ یہ لاکھوں گھروں کا چولہا ہے۔ آپ نے جو ڈھائی لاکھ خاندانوں (یعنی لاکھوں افراد) کی بات کی ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ انڈسٹری ہنر مند کاریگروں کے لیے روزگار کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ 2006 اور اس کے بعد کی پابندیوں کے باوجود کے پی کے کی طرف اس صنعت کا رخ کرنا اور وہاں کے مقامی قوانین کے تحت پرامن طریقے سے کام جاری رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں کے کاریگروں نے اپنی محنت سے اس ہنر کو زندہ رکھا۔ 2. ریٹ کنٹرول اور کے پی کے کا انتظامی کردار پچھلے 16 سے 20 سال کے دوران کے پی کے میں اس کام کے ریٹ کنٹرول میں رہنا اور مقامی انتظامیہ کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بہترین نظم و ضبط کے ساتھ چلنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اگر صنعت کو مناسب ماحول اور سپورٹ ملے تو یہ بغیر کسی انتشار کے پھول پھل سکتی ہے۔ 3. ایکسپورٹ کوالٹی اور بین الاقوامی سطح پر پہچان پاکستانی پتنگیں اور ڈور اپنی خوبصورتی، کاریگری اور اڑانے میں مہارت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔  بین الاقوامی مارکیٹ: یہ سامان ان ممالک میں بھی برآمد کیا جاتا رہا ہے جہاں اوورسیز پاکستانی بستے ہیں یا جہاں سرکاری و نجی سطح پر فیسٹیول اور بسنت کے تہوار منائے جاتے ہیں۔  افغانستان کے ساتھ تجارت: آپ نے افغانستان کے ساتھ تجارتی تعلقات اور سپلائی کا جو ذکر کیا، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہماری یہ روایتی مصنوعات خطے کے دوسرے ممالک میں بھی انتہائی مقبول اور پسندیدہ ہیں۔
حماد خان صاحب اور اے ایس ٹی فیکٹری آفیشل (AST Factory Official) ایبٹ آباد کی طرف سے جو مؤقف سامنے آیا ہے، وہ پتنگ سازی کی صنعت، اس سے جڑے معاشی پہلوؤں اور کے پی کے (KPK) کے ہنر مندوں کے حوالے سے انتہائی اہم اور حقیقت پسندانہ ہے۔ آپ نے بالکل درست نشاندہی کی ہے کہ اس صنعت کو صرف ایک صوبے (پنجاب) یا ایک شہر (لاہور) تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ اس کے وسیع تر معاشی اثرات اور خیبر پختونخوا میں اس کے کردار کو بھی مدنظر رکھنا ناگزیر ہے۔ اس پورے معاملے کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں: 1. معاشی وسعت اور ڈھائی لاکھ خاندانوں کا روزگار پتنگ سازی اور اس سے وابستہ کاروبار صرف ایک وقتی شوق نہیں ہے، بلکہ یہ لاکھوں گھروں کا چولہا ہے۔ آپ نے جو ڈھائی لاکھ خاندانوں (یعنی لاکھوں افراد) کی بات کی ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ انڈسٹری ہنر مند کاریگروں کے لیے روزگار کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ 2006 اور اس کے بعد کی پابندیوں کے باوجود کے پی کے کی طرف اس صنعت کا رخ کرنا اور وہاں کے مقامی قوانین کے تحت پرامن طریقے سے کام جاری رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں کے کاریگروں نے اپنی محنت سے اس ہنر کو زندہ رکھا۔ 2. ریٹ کنٹرول اور کے پی کے کا انتظامی کردار پچھلے 16 سے 20 سال کے دوران کے پی کے میں اس کام کے ریٹ کنٹرول میں رہنا اور مقامی انتظامیہ کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بہترین نظم و ضبط کے ساتھ چلنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اگر صنعت کو مناسب ماحول اور سپورٹ ملے تو یہ بغیر کسی انتشار کے پھول پھل سکتی ہے۔ 3. ایکسپورٹ کوالٹی اور بین الاقوامی سطح پر پہچان پاکستانی پتنگیں اور ڈور اپنی خوبصورتی، کاریگری اور اڑانے میں مہارت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ بین الاقوامی مارکیٹ: یہ سامان ان ممالک میں بھی برآمد کیا جاتا رہا ہے جہاں اوورسیز پاکستانی بستے ہیں یا جہاں سرکاری و نجی سطح پر فیسٹیول اور بسنت کے تہوار منائے جاتے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ تجارت: آپ نے افغانستان کے ساتھ تجارتی تعلقات اور سپلائی کا جو ذکر کیا، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہماری یہ روایتی مصنوعات خطے کے دوسرے ممالک میں بھی انتہائی مقبول اور پسندیدہ ہیں۔

About