@babarai422: زید لوگوں پر جلدی یقین کر لیتا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ جس کے ساتھ ہنس کر وقت گزارا جائے، وہ کبھی دل نہیں توڑ سکتا۔ اس کا ایک دوست تھا، حمزہ۔ زید اسے اپنا بھائی سمجھتا تھا۔ اپنی خوشیاں، اپنے دکھ، حتیٰ کہ اپنی زندگی کے راز بھی اس کے ساتھ بانٹتا تھا۔ جب زید مشکل میں ہوتا، حمزہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتا: "فکر نہ کرو، میں تمہارے ساتھ ہوں۔" زید ان الفاظ کو سچ سمجھتا رہا۔ پھر ایک دن اسے معلوم ہوا کہ جن باتوں کو وہ اپنے دوست کے سامنے راز سمجھ کر بیان کرتا تھا، وہی باتیں لوگوں کی محفلوں میں مذاق بن چکی تھیں۔ زید کا دل جیسے اندر سے ٹوٹ گیا۔ اس نے حمزہ سے پوچھا: "میں نے تمہیں اپنا سمجھ کر اپنے دل کی باتیں بتائیں تھیں، تم نے انہیں لوگوں کے سامنے کیوں بیان کیا؟" حمزہ نے نظریں جھکا لیں، مگر کوئی جواب نہ دے سکا۔ زید کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے صرف اتنا کہا: "دشمن سے ملنے والا زخم اتنا درد نہیں دیتا، جتنا اپنوں کے ہاتھوں ملنے والا دھوکا دیتا ہے۔" اس دن کے بعد زید نے کسی سے نفرت نہیں کی، بس لوگوں پر اندھا یقین کرنا چھوڑ دیا۔ کچھ عرصے بعد حمزہ دوبارہ اس کے پاس آیا اور معافی مانگی۔ زید نے اسے معاف تو کر دیا، مگر پہلے جیسا مقام دوبارہ نہ دے سکا۔ کیونکہ کچھ رشتے معافی سے بچ تو جاتے ہیں، مگر پہلے جیسا اعتماد واپس نہیں آتا۔ زید نے آسمان کی طرف دیکھا اور دل میں کہا: "یا اللہ! مجھے ایسے لوگوں سے بچا جو سامنے محبت اور پیچھے نفرت رکھتے ہیں، اور مجھے اتنا مضبوط بنا کہ کسی کی منافقت میرے دل کو ہمیشہ کے لیے تلخ نہ کر دے۔" اس رات زید بہت رویا، مگر صبح جب سورج نکلا تو اس نے اپنے آنسو پونچھے اور خود سے کہا: "میں نے ایک مخلص دل کھویا نہیں، میں نے صرف یہ سیکھا ہے کہ ہر مسکراہٹ کے پیچھے مخلصی نہیں ہوتی۔" اور پھر وہ خاموشی سے آگے بڑھ گیا۔ کیونکہ کبھی کبھی زندگی میں سب سے بڑا سبق کسی کتاب سے نہیں، بلکہ کسی منافق انسان کے دھوکے سے ملتا ہے۔

BabaRai
BabaRai
Open In TikTok:
Region: PK
Monday 05 October 2026 10:42:56 GMT
329
11
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @babarai422, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos


About