Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@jimitherevsulivenas7: asyik kna take down je 🥺🥺🥹 #fypシ #ometv #fypmalaysia #xyzbca #awektudung
jimitherevsulivenas7
Open In TikTok:
Region: MY
Monday 05 October 2026 13:24:18 GMT
1907
16
1
37
Music
Download
No Watermark .mp4 (
0.99MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
1.22MB
)
Watermark .mp4 (
1.99MB
)
Music .mp3
Comments
آدم أنجلر?🥀 :
@ᠻỉꪹꪖకꫝ @ytts 67
2026-10-05 14:45:14
0
To see more videos from user @jimitherevsulivenas7, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
#اكسبلورexplore #اكسبلورر #تصميم_فيديوهات🎶🎤🎬 #تصميمي #اكسبلور
this audio sums up all of spook shack so well LMAO #zenlesszonezero #zzz #hoyoverse #genshin #HonkaiStarRail
#المسجد_النبوي #الروضة_الشريفة بالمدينة المنورة
قرآنِ کریم کی ایک ایسی سورت ہے جسے پڑھتے ہوئے انسان بار بار ایک ہی سوال سنتا ہے۔ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ "پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟" یہ آیت سورۃ الرحمٰن میں 31 مرتبہ دہرائی گئی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ نے ایک ہی آیت کو اتنی مرتبہ کیوں دہرایا؟ کیا یہ صرف تکرار ہے؟ نہیں! یہ تکرار نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی طرف بار بار توجہ دلانے کا انداز ہے۔ سورۃ الرحمٰن کا آغاز ہی ایک عظیم نعمت سے ہوتا ہے: الرَّحْمَٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ "رحمٰن نے قرآن سکھایا۔" ذرا غور کریں! اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے دنیا، مال، مکان یا کھانے کا ذکر نہیں کیا، بلکہ قرآن کی نعمت کا ذکر فرمایا۔ کیونکہ انسان کے پاس دنیا کی ہر نعمت ہو، لیکن اگر اسے اپنے رب کی پہچان نہ ہو تو وہ اصل نعمت سے محروم ہے۔ ہماری زندگی میں کتنی نعمتیں ایسی ہیں جن کی قدر ہمیں اس وقت ہوتی ہے جب وہ ہم سے چلی جاتی ہیں۔ سانس چل رہی ہو تو ہمیں اس کی قیمت محسوس نہیں ہوتی۔ آنکھیں سلامت ہوں تو ہم آنکھوں کی نعمت نہیں سوچتے۔ صحت ہو تو صحت یاد نہیں آتی۔ والدین پاس ہوں تو ان کی قدر کم محسوس ہوتی ہے۔ رزق مل رہا ہو تو ہم اسے معمول سمجھ لیتے ہیں۔ اسی لیے سورۃ الرحمٰن ہمیں بار بار جھنجھوڑتی ہے: "پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟" گویا اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے: ایک بار پھر دیکھو... تمہارے پاس کیا کچھ ہے! سورۃ الرحمٰن میں کبھی آسمان و زمین کا ذکر آتا ہے، کبھی سورج اور چاند کا، کبھی سمندر کا، کبھی پھلوں اور کھجوروں کا، کبھی انسان کی تخلیق کا، کبھی جنات کا، کبھی جنت کی نعمتوں کا۔ اور پھر وہی سوال: فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ یعنی: اب بتاؤ! ان نعمتوں میں سے کس نعمت کا انکار کرو گے؟ یہ ایسا ہے جیسے کوئی شخص آپ کے سامنے ایک ایک کر کے اللہ کی نعمتیں رکھتا جائے اور ہر بار پوچھے: "اب بتاؤ، اس نعمت کو بھی بھول جاؤ گے؟ آیت میں صرف "نعمت" کا مفہوم نہیں، بلکہ "آلاء" کا لفظ آیا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں، احسانات اور قدرت کی نشانیاں شامل ہیں۔ بلکہ انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے: "تمہارے رب نے تم پر کتنا احسان کیا ہے؟" اللہ تعالیٰ نے فرمایا: رَبِّكُمَا یعنی: "تم دونوں کے رب" مفسرین نے یہاں جن و انس دونوں کو مراد لیا ہے۔ یعنی یہ سوال صرف انسان سے نہیں بلکہ انسان اور جن دونوں سے ہے: اے جن و انس! تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ہم اکثر نعمت کا مطلب صرف پیسہ، گھر، گاڑی، صحت اور آسائش سمجھتے ہیں۔ لیکن اللہ کی نعمت اس سے کہیں وسیع ہے۔ ہدایت نعمت ہے۔ ایمان نعمت ہے۔ قرآن نعمت ہے۔ نماز کی توفیق نعمت ہے۔ توبہ کی توفیق نعمت ہے۔ گناہ کے بعد شرمندگی بھی نعمت ہے۔ اللہ کو یاد کرنے والا دل بھی نعمت ہے۔ اور سب سے بڑھ کر: اللہ تعالیٰ کا ہمیں اپنا بندہ بنانا ایک عظیم نعمت ہے۔ قرآن میں بعض الفاظ اور آیات کا بار بار آنا ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انسان کو نصیحت ایک مرتبہ سن کر ہمیشہ یاد نہیں رہتی۔ ایک ہی بات بار بار سننے سے دل پر اثر گہرا ہوتا ہے۔ جیسے ماں اپنے بچے کو بار بار سمجھاتی ہے: "بیٹا! اس راستے پر مت جانا۔" محبت کی وجہ سے بات دہرائی جاتی ہے۔ اسی طرح سورۃ الرحمٰن میں نعمتوں کا ذکر بار بار آتا ہے، تاکہ غفلت میں ڈوبا ہوا انسان جاگ جائے۔ اس سورت کو پڑھتے ہوئے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انسان کو محسوس ہوتا ہے جیسے قرآن کسی اور سے نہیں، مجھ سے سوال کر رہا ہے۔ میرے پاس آنکھیں ہیں میرے پاس کان ہیں میرے پاس صحت ہےمیرے پاس ایمان ہے میرے پاس قرآن ہے... پھر انسان کے پاس جواب کیا رہ جاتا ہے؟ بس ایک: اے میرے رب! میں تیری کسی نعمت کا انکار نہیں کرتا۔ ہماری زندگی میں شاید بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو ہمیں نہیں ملیں۔ لیکن اگر ہم صرف ان چیزوں کو دیکھتے رہیں جو ہمارے پاس نہیں، تو ہم ان بے شمار نعمتوں کو بھول جاتے ہیں جو پہلے ہی ہمارے پاس موجود ہیں۔ سورۃ الرحمٰن ہمیں یہی سکھاتی ہے جو نہیں ملا، اس کا غم کرنے سے پہلے جو ملا ہے، اس کا شکر ادا کرو۔ ایک سانس... ایک سجدہ... ایک دعا... ایک ماں... ایک باپ... ایک گھر... ایک نوالہ... ایک قطرہ پانی... ایک لمحہ زندگی... اور سب سے بڑھ کر اللہ کی پہچان۔ پھر فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ "پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟" اے اللہ! ہمیں اپنی نعمتوں کو پہچاننے والا، ان پر شکر کرنے والا اور انہیں تیری رضا میں استعمال کرنے والا بنا دے۔ اے اللہ! جو نعمتیں ہمیں حاصل ہیں ان کی قدر نصیب فرما، جو نعمتیں ہم بھول گئے ہیں ان کا احساس عطا فرما، اور ہماری سب سے بڑی نعمت ایمان کو ہماری زندگی کی آخری سانس تک محفوظ فرما۔ آمین یا رب العالمین۔ اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ۔ ﷺ #Allah #motivation #foryou #islamic_video #Quran
Nettoyage complet plus refaire les joints
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy