@kingpepsidog: is it really Monday again #so #fast #desk #pep #pet

kingpep
kingpep
Open In TikTok:
Region: US
Monday 05 October 2026 13:46:30 GMT
5984
789
19
74

Music

Download

Comments

kingpeps1fan
Kingpeps#1fan :
I hope he knows he is the goat
2026-10-05 21:06:15
5
livieolivia8
livieolivia🐒 :
What breed is he?
2026-10-05 21:13:25
0
cangelesss
lali :
I have the same mug 😍
2026-10-06 03:00:49
0
user1199796892638
user1199796892638 :
Pep always comes on my FYP at night. I can’t sleep until I’ve seen Pep 🥰🥰🥰
2026-10-06 02:51:00
0
kaidossss
kaidehowden :
Hell yeah Pep
2026-10-06 05:13:37
0
melisa.gcam
Melisa Camarillo :
Pretty boooy ❤️
2026-10-06 02:50:50
0
your_mom19802
💕Maria💕 :
PEP I MISSED YOU ITS BEEN TOO LONG
2026-10-05 13:49:09
2
itsjustchristina04
itsjustchristina04 :
Good morning, handsome boy!
2026-10-05 15:41:17
4
jjx2295
PrismaCinematics :
vibin w king Pep
2026-10-05 21:51:54
1
chelybug
Michele Mintz-Butte :
Good morning
2026-10-05 13:52:05
4
big.david517
big David :
That's why it's called a hard day, it takes coffee and Kingpep to make it a better day
2026-10-05 17:54:21
2
myq7s
しらたまこ :
今日も可愛い🩷
2026-10-05 15:45:48
2
elliecoptar
elbubu :
2026-10-05 19:53:14
1
gabepeller
Gabe Pellergreen :
2026-10-06 03:33:51
0
hhjbbwllpdldl
😘 :
Bello y guapo 🐶❤️
2026-10-06 00:09:32
0
_marie_m
_marie_m :
PEP IT IS TIME TO CANCEL MONDAYS !!! They can’t keep happening all the time !!!
2026-10-05 17:48:22
1
flo102215
Flo :
❤️
2026-10-05 20:18:08
1
To see more videos from user @kingpepsidog, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

السلام علیکم پیارے دوستو گناہ کا خوف اور ندامت کا وہ درجہ جو انسان کی جان لے  لے  کیا آپ نے کبھی ایسی توبہ کے بارے میں سنا ہے؟ یہ ‎ایک نوجوان صحابی کا واقعہ ہے جسکی شدید ندامت آج بھی دلوں کو لرزا دیتی ہے، اور جس کی تلاش میں خود دو عظیم صحابہ جنگل کی طرف نکلے۔ ‎ ‎مرحلہ 1 - پس منظر مشہور روایات میں آتا ہے کہ ثعلبہ بن عبدالرحمن نام کا ایک انصاری نوجوان تھا جو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں رہتا اور آپ ﷺ کے کام کاج کرتا تھا۔ ‎ آپ ﷺ کی مجلس میں بیٹھتا اور دین سیکھتا۔ ان کا دل اللہ کی محبت اور خوف سے لبریز تھا، اور وہ اپنے اعمال کے بارے میں نہایت حساس طبیعت کا مالک تھا۔ ‎ ‎ایک دن ایسا ہوا کہ ثعلبہ کسی کام سے کسی گھر کے قریب سے گزرے، اور نادانستہ طور پر ان کی نظر گھر کے اندر موجود ایک اجنبی عورت پر پڑ گئی جو غسل کر رہی تھی  یہ کوئی جان بوجھ کر کیا گیا گناہ نہ تھا، محض ایک بے اختیار لمحہ تھا جو پلک جھپکتے میں گزر گیا مگر اس کا دل لرز اٹھا۔ ‎ثعلبہ کا دل اس قدر نازک اور حساس تھا کہ اسی وقت ندامت نے ان کے پورے وجود کو جکڑ لیا۔ انہیں یہ خوف لاحق ہو گیا کہ کہیں اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے ان کی یہ لغزش پوری امت کے سامنے ظاہر نہ کر دے، اور مدینہ میں ان کا سر شرم سے جھک نہ جائے۔ ‎ ‎مرحلہ 2 - مرکزی موڑ ‎ ‎ اسی خوف اور شرمندگی میں ثعلبہ نے مدینہ منورہ کو چھوڑ دیا اور پہاڑوں اور بیابان کی طرف نکل گئے۔ وہاں انہوں نے چالیس دن روتے گڑگڑاتے اور اللہ سے معافی مانگتے گزارے۔ نہ کھانے کی فکر نہ آرام کی خواہش - بس ایک ہی دھن تھی کہ رب راضی ہو جائے۔ ‎ ‎کچھ دن ایسے گزرے کہ صحابہ کرام کو ثعلبہ کی غیر حاضری محسوس ہونے لگی۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا تو معلوم ہوا کہ وہ مدینہ چھوڑ کر کہیں چلے گئے ہیں۔ آپ کو وحی کے ذریعے ان کی حالت اور ٹھکانے کی خبر دی گئی، تو رحمت للعالمین ﷺ نے فوراً حضرت عمر اور حضرت سلمان فارسی جیسے جلیل القدر صحابہ کو حکم دیا کہ جاؤ ثعلبہ کو ڈھونڈ کر لے آؤ۔ ‎  ‎جب یہ دونوں عظیم صحابہ پہاڑوں اور بیابان میں پہنچے تو انہیں  راستے میں  ایک چرواہا ملا، جس نے بتایا کہ ایک نوجوان ہے جو روز آدھی رات کو پہاڑ کی اوٹ سے نکلتا ہے، پیشانی پر ہاتھ رکھ کر روتا ہوا چیختا ہے:
السلام علیکم پیارے دوستو گناہ کا خوف اور ندامت کا وہ درجہ جو انسان کی جان لے لے کیا آپ نے کبھی ایسی توبہ کے بارے میں سنا ہے؟ یہ ‎ایک نوجوان صحابی کا واقعہ ہے جسکی شدید ندامت آج بھی دلوں کو لرزا دیتی ہے، اور جس کی تلاش میں خود دو عظیم صحابہ جنگل کی طرف نکلے۔ ‎ ‎مرحلہ 1 - پس منظر مشہور روایات میں آتا ہے کہ ثعلبہ بن عبدالرحمن نام کا ایک انصاری نوجوان تھا جو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں رہتا اور آپ ﷺ کے کام کاج کرتا تھا۔ ‎ آپ ﷺ کی مجلس میں بیٹھتا اور دین سیکھتا۔ ان کا دل اللہ کی محبت اور خوف سے لبریز تھا، اور وہ اپنے اعمال کے بارے میں نہایت حساس طبیعت کا مالک تھا۔ ‎ ‎ایک دن ایسا ہوا کہ ثعلبہ کسی کام سے کسی گھر کے قریب سے گزرے، اور نادانستہ طور پر ان کی نظر گھر کے اندر موجود ایک اجنبی عورت پر پڑ گئی جو غسل کر رہی تھی یہ کوئی جان بوجھ کر کیا گیا گناہ نہ تھا، محض ایک بے اختیار لمحہ تھا جو پلک جھپکتے میں گزر گیا مگر اس کا دل لرز اٹھا۔ ‎ثعلبہ کا دل اس قدر نازک اور حساس تھا کہ اسی وقت ندامت نے ان کے پورے وجود کو جکڑ لیا۔ انہیں یہ خوف لاحق ہو گیا کہ کہیں اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے ان کی یہ لغزش پوری امت کے سامنے ظاہر نہ کر دے، اور مدینہ میں ان کا سر شرم سے جھک نہ جائے۔ ‎ ‎مرحلہ 2 - مرکزی موڑ ‎ ‎ اسی خوف اور شرمندگی میں ثعلبہ نے مدینہ منورہ کو چھوڑ دیا اور پہاڑوں اور بیابان کی طرف نکل گئے۔ وہاں انہوں نے چالیس دن روتے گڑگڑاتے اور اللہ سے معافی مانگتے گزارے۔ نہ کھانے کی فکر نہ آرام کی خواہش - بس ایک ہی دھن تھی کہ رب راضی ہو جائے۔ ‎ ‎کچھ دن ایسے گزرے کہ صحابہ کرام کو ثعلبہ کی غیر حاضری محسوس ہونے لگی۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا تو معلوم ہوا کہ وہ مدینہ چھوڑ کر کہیں چلے گئے ہیں۔ آپ کو وحی کے ذریعے ان کی حالت اور ٹھکانے کی خبر دی گئی، تو رحمت للعالمین ﷺ نے فوراً حضرت عمر اور حضرت سلمان فارسی جیسے جلیل القدر صحابہ کو حکم دیا کہ جاؤ ثعلبہ کو ڈھونڈ کر لے آؤ۔ ‎ ‎جب یہ دونوں عظیم صحابہ پہاڑوں اور بیابان میں پہنچے تو انہیں راستے میں ایک چرواہا ملا، جس نے بتایا کہ ایک نوجوان ہے جو روز آدھی رات کو پہاڑ کی اوٹ سے نکلتا ہے، پیشانی پر ہاتھ رکھ کر روتا ہوا چیختا ہے: "اے کاش! تو میری روح کو روحوں کے ساتھ قبض کر لیتا اور مجھے قیامت کے دن کے لیے باقی نہ رکھتا۔ قریب گئے تو دیکھا، ثعلبہ ریت پر بیٹھے، آنکھیں سوجی ہوئیں، جسم لاغر مگر زبان پر مسلسل استغفار جاری تھی۔ سوچیں جب حضرت عمر جيسا رعب والا صحابی بھی یہ منظر دیکھ کر خاموش رہ گیا ہو، تو وہ کیفیت کتنی شدید ہوگی ‎ مرحله 3 - انجام و اثرات دونوں صحابہ نے ثعلبہ کو نبی کریم ﷺ کے پاس واپس لانے کی کوشش کی اور بالآخر جبرائیل امین نے آپ ﷺ کو ان کی توبہ کی قبولیت کی خوشخبری سنا دی۔ روایت میں ہے کہ وہ نبی ﷺ کے سامنے آیا تو رحمۃ للعالمین ﷺ نے پوچھا: "ثعلبہ! تو مجھ سے کیوں چھپ گیا تھا؟" عرض کیا: "اے اللہ کے رسول! میرے گناہ نے۔" نبی ﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں ایسی آیت نہ بتاؤں جو گناہوں کو مٹا دیتی ہے؟" اور اسے دعا سکھائی: "ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الآخرۃ حسنۃ و قنا عذاب النار" (اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی دے، آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے)۔ وہ بولا: "اے اللہ کے رسول! میرا گناہ تو اس سے بہت بڑا ہے۔" نبی ﷺ نے فرمایا: "نہیں، اللہ کا کلام اس سے بھی بڑا ہے۔" روایت کے مطابق وہ جلد ہی بیمار ہوا اور بیماری میں نبی ﷺ اس کے پاس تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے اس کا سر اپنی گود میں رکھا۔ اس نے عرض کیا کہ میرے گناہ بہت ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "اللہ کی بخشش ان سے بھی بڑی ہے۔" اسی حالت میں اس کی روح پرواز کر گئی۔ نبی ﷺ نے خود اس کی نمازِ جنازہ پڑھی اور تدفین میں شریک ہوئے۔ (روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ نبی ﷺ پنجوں کے بل چل رہے تھے کہ فرشتے اتنے زیادہ ہیں۔ ‎ آپ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ ان کا خوف الہی اتنا شدید تھا کہ اسی خوف نے ان کا جگر پھاڑ دیا۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ سچی ندامت اور اللہ کا خوف انسان کے دل کو کس حد تک بدل سکتا ہے، اور یہ کہ نیک لوگوں کی محبت اللہ کے ہاں کبھی رائیگاں نہیں جاتی حوالہ جات طبرانی (المعجم الکبیر)، تفسیر ابن کثیر، تفسیر قرطبی (سورۂ آل عمران آیت 135)، الاصابہ (ابن حجر) #tiktokyou #fyp #foryouofficialpage #trending

About