@apkashahab: تمہیں شاید کبھی معلوم ہی نہ ہو کہ میں نے تمہیں صرف محبت نہیں کی تھی… میں نے تمہیں اپنی زندگی کا وہ حصہ سمجھ لیا تھا، جس کے بغیر باقی زندگی کا تصور بھی مشکل تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے، شروع میں تمہارا ایک چھوٹا سا میسج بھی میرا پورا دن بدل دیا کرتا تھا۔ تمہارا “کیا کر رہے ہو؟” پوچھنا بھی میرے لیے بہت خاص ہوا کرتا تھا۔ تم مصروف ہوتیں تو میں بار بار فون دیکھتا، صرف یہ سوچ کر کہ شاید تمہارا کوئی میسج آ گیا ہو۔ مجھے تم سے بات کرنے کے لیے کسی خاص موضوع کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ کبھی گھنٹوں بات ہوتی، کبھی صرف دو لفظ… مگر اُن دو لفظوں میں بھی مجھے پوری محبت محسوس ہوتی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ تم بدلنے لگیں… اور عجیب بات یہ تھی کہ میں تمہارے بدلنے کو بھی محبت سمجھ کر برداشت کرتا رہا۔ تم دیر سے جواب دیتیں، میں خود کو سمجھاتا کہ شاید مصروف ہوں گی۔ تم بات مختصر کر دیتیں، میں سوچتا شاید تھکی ہوئی ہوں گی۔ تم خاموش رہتیں، میں تمہاری خاموشی میں بھی اپنے لیے کوئی امید تلاش کرتا رہتا۔ کبھی تمہیں میری بات بری لگتی، تو میں اپنی ہی بات پر معافی مانگ لیتا۔ کبھی تم ناراض ہوتیں، تو میں اپنی انا ایک طرف رکھ کر تمہیں مناتا۔ مجھے بس یہ ڈر رہتا تھا کہ کہیں میری کوئی بات تمہیں مجھ سے دور نہ کر دے۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ جس خاموشی کو میں عارضی سمجھ رہا ہوں، وہ ہمارے رشتے کا آخری باب بن رہی تھی۔ ایک وقت تھا جب تمہیں کھونے کا خیال بھی مجھے ڈرا دیتا تھا۔ اور پھر ایک وقت ایسا آیا جب تم سامنے ہوتے ہوئے بھی مجھ سے بہت دور لگنے لگیں۔ میں نے بہت کوشش کی کہ سب پہلے جیسا ہو جائے۔ تمہاری پسند کی باتیں کیں، تمہاری ناراضگیاں برداشت کیں، اپنی غلطیوں پر شرمندہ ہوا، اور کئی بار ایسی باتوں پر بھی معافی مانگی جن میں شاید میری کوئی غلطی تھی ہی نہیں۔ کیونکہ مجھے رشتہ بچانا تھا… اور تمہیں شاید رشتہ چھوڑنا تھا۔ یہ فرق مجھے بہت دیر سے سمجھ آیا۔ میں تم سے محبت کرتا رہا، اور تم آہستہ آہستہ مجھ سے نکلتی رہیں۔ ایک دن مجھے احساس ہوا کہ میں تم سے بات کرنے کے لیے وقت نہیں مانگ رہا تھا… میں تمہاری زندگی میں اپنی جگہ مانگ رہا تھا۔ اور شاید یہی وہ لمحہ تھا جب مجھے سمجھ جانا چاہیے تھا کہ جس رشتے میں ایک شخص اپنی جگہ مانگنے لگے، وہ رشتہ پہلے جیسا نہیں رہتا۔ تم اپنی زندگی میں آگے بڑھ گئیں، اور میں آج بھی اُن دنوں میں کھڑا ہوں جہاں تم مجھے اپنا کہتی تھیں۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں، اگر میں اُس وقت تمہیں روک لیتا تو کیا ہوتا؟ اگر میں ایک بار اور تمہیں سمجھاتا تو کیا تم رک جاتیں؟ اگر میں اپنی محبت کا ایک اور ثبوت دے دیتا تو کیا تمہیں یقین آ جاتا؟ پھر خود ہی جواب ملتا ہے… جسے جانے کے لیے روکنا پڑے، وہ رک بھی جائے تو دل سے کہاں رہتا ہے۔ اس لیے آج پہلی بار تمہیں جانے دے رہا ہوں۔ ناراضی میں نہیں… شکایت میں نہیں… بلکہ اُس محبت کے ساتھ جس میں اب تمہیں پانے کی ضد باقی نہیں رہی۔ میں تمہیں برا نہیں کہوں گا، کیونکہ کبھی جس شخص کو دل سے چاہا ہو، اُس کے خلاف بولنا بھی اپنے ہی دل کو تکلیف دیتا ہے۔ بس اتنا ضرور کہوں گا… اگر کبھی میری یاد آئے، تو یہ مت سوچنا کہ میں نے تمہیں بھلا دیا ہوگا۔ کچھ لوگ بھلائے نہیں جاتے، بس اُن کے بغیر جینا سیکھ لیا جاتا ہے۔ تم میری زندگی میں اُس وقت آئیں جب مجھے محبت کی ضرورت تھی، اور اُس وقت چلی گئیں جب مجھے تمہاری عادت ہو چکی تھی۔ اور شاید میری سب سے بڑی غلطی یہی تھی کہ میں نے تمہیں محبت سمجھ کر نہیں، اپنی پوری زندگی سمجھ کر چاہا تھا۔ اب نہ تمہیں واپس بلاؤں گا، نہ تم سے کوئی سوال کروں گا، نہ یہ جاننے کی کوشش کروں گا کہ تم کس کے ساتھ خوش ہو۔ بس دور سے دعا کروں گا کہ جس سکون کی تلاش میں تم مجھ سے دور ہوئی تھیں، وہ سکون تمہیں واقعی مل جائے۔ اور اگر کبھی زندگی میں کسی موڑ پر تمہیں کوئی ایسا شخص ملے جو تمہیں میری طرح بے حد چاہے، تو براہِ کرم اُسے میری طرح مت توڑنا۔ کیونکہ ٹوٹا ہوا انسان دوبارہ محبت تو کر لیتا ہے، مگر پہلے جیسا یقین نہیں کر پاتا۔ شاید اسی کو کہتے ہیں کسی کو کھونا نہیں… بلکہ کسی کے ہوتے ہوئے بھی اُسے کھو دینا۔ اور تمہیں کھونے کا دکھ تو رہے گا… ۔ 💔🥀 #😭😭😭😭😭😭💔💔💔💔 #😢😢😢 #😭😭😭 #💔💔💔 #💔💔