@expert.x5: تم وہی ہو نا، جو کبھی مجھے جان کہا کرتے تھے؟ وہی، جن کی آواز میں میرے لیے محبت ہوا کرتی تھی، جن کی ایک نظر میرے سارے دن کو خوبصورت بنا دیتی تھی۔ آج تمہاری باتوں میں اتنی اجنبیت کیوں ہے؟ آخر ایسا کیا بدل گیا کہ جس شخص کو کبھی میری موجودگی عزیز تھی، آج وہی میرے نام سے بھی خفا ہے؟ میں نے تمہیں بدلتے ہوئے دیکھا ہے، مگر اپنے دل کو آج بھی وہیں کھڑا پایا ہے جہاں تم نے آخری بار مجھے محبت سے دیکھا تھا۔ شاید تمہارے لیے سب ختم ہو چکا ہے، مگر میرے لیے کچھ رشتے ختم نہیں ہوتے، بس خاموش ہو جاتے ہیں۔ بس ایک سوال ہے… اگر میں اتنا ہی برا تھا تو کبھی مجھے جان کیوں کہا تھا؟ اور اگر کبھی واقعی محبت تھی، تو پھر آج اتنی نفرت کیوں ہے؟ تمہارا، جو آج بھی تمہیں اپنا سمجھتا ہے۔