@emmaburnze: please laugh with me

emmaburnze
emmaburnze
Open In TikTok:
Region: CA
Monday 05 October 2026 15:19:42 GMT
1621
120
12
5

Music

Download

Comments

jaysen.m
jay :
that is giving casa Loma vibes
2026-10-05 15:24:54
0
onlyemmajo
onlyemmajo :
I’m screaming 💀😂
2026-10-05 15:30:34
0
oliviaagrosso
olivia :
the entire room*
2026-10-05 16:49:05
0
ihaveabasketblgametmr
Iwokeuplikethis :
Real asf
2026-10-05 17:04:56
0
ihaveabasketblgametmr
Iwokeuplikethis :
EMMA😭😭😭
2026-10-05 17:04:52
0
ttbarbss
Tori Barban :
Nobody suspects the pretty girl
2026-10-05 18:49:13
1
graemelg
graemelg :
[Tears of joy]
2026-10-05 15:41:13
0
mashkov47
mashkov47 :
❤️❤️❤️
2026-10-05 15:24:31
0
user59512584269226
Katie :
[Tears of joy][Tears of joy][Tears of joy][Tears of joy]
2026-10-05 19:35:22
0
To see more videos from user @emmaburnze, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

قرآن مجید کے ایک انتہائی خوبصورت اور روحانی مکالمہ جو ہر سوچنے والے ذہن میں آتا ہے جب حضرت موسیٰ کوہِ طور پر پہنچے اور اللہ تعالیٰ کی تجلی ظاہر ہوئی، تو اللہ نے ان سے پوچھا:
قرآن مجید کے ایک انتہائی خوبصورت اور روحانی مکالمہ جو ہر سوچنے والے ذہن میں آتا ہے جب حضرت موسیٰ کوہِ طور پر پہنچے اور اللہ تعالیٰ کی تجلی ظاہر ہوئی، تو اللہ نے ان سے پوچھا: "وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَا مُوسَىٰ" "اور اے موسیٰ! یہ تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟" (سورہ طٰہٰ: 17) اللہ تعالیٰ، جو "عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ" ہے، وہ بخوبی جانتا (چھپی اور ظاہر ہر چیز کو جاننے والا) تھا کہ حضرت موسیٰ کے ہاتھ میں ایک لکڑی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ سوال کیوں پوچھا؟ (لاٹھی/عصا) اس سوال کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی بے پناہ محبت، نفسیاتی حکمت اور انبیائے کی تربیت کے بہت بڑے راز پوشیدہ ہیں۔ مفسرین (تفسیر کرنے والے علماء) نے اس کی درج ذیل شاندار حکمتیں بیان کی ہیں: 1- موسیٰ کی گھبراہٹ دور کرنے کے لیے (انسانی نفسیات) حضرت موسیٰ اس وقت ایک اندھیری رات میں، اکیلے، ایک ویران پہاڑ پر تھے، جہاں اچانک اللہ کی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی۔ اللہ سے ڈائریکٹ بات کرنے یہ ان کا پہلا تجربہ تھا۔ اس کائناتی آواز کی ہیبت (جلال) سے حضرت موسیٰ شدید خوف اور گھبراہٹ میں آگئے تھے۔ حکمت: اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ میرا بندہ (موسیٰ) ریلیکس ہو جائے اور اس کا ڈر ختم ہو ہو۔ اس لیے اللہ نے ان سے ایک ایسا عام سا، مانوس سوال پوچھا (کہ ہاتھ میں کیا ہے؟) جس کا جواب انہیں معلوم تھا۔ جب موسیٰ نے جواب دینا شروع کیا تو ان کا دل پرسکون ہو گیا اور انہیں اللہ سے بات کرنے کا حوصلہ مل گیا (یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے کوئی استاد ڈرے ہوئے بچے کو نارمل کرنے کے لیے اس سے اس کا نام پوچھتا ہے)۔ 2- اللہ تعالیٰ کے ساتھ بات کرنے کی لذت (محبت کا تقاضا) حضرت موسیٰ کو جب پتہ چلا کہ کائنات کا مالک مجھ سے بات کر رہا ہے، تو وہ اس گفتگو کو لمبا کرنا چاہتے تھے۔ اللہ نے بھی انہیں بات لمبی کرنے کا موقع دیا۔ جب اللہ نے پوچھا "ہاتھ میں کیا ہے؟" تو حضرت موسیٰ صرف یہ کہہ سکتے تھے کہ "یہ لائی ہے۔" لیکن انہوں نے بات کو طول دیا اور فرمایا: "قَالَ هِيَ عَصَايَ أَتَوَكَّأُ عَلَيْهَا وَأَهُشُّ بِهَا عَلَىٰ غَنْمِي وَلِيَ فِيهَا مَآرِبُ أُخْرَىٰ" ("یہ میری لائی ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں اور میرے لیے اس میں اور بھی کئی فائدے ہیں")۔ یہ حضرت موسیٰ کے دل کا وہ عشق تھا جو اللہ کی آواز سن کر مچل گیا تھا اور وہ ہر بہانے سے بات کو لمبا کھینچنا چاہتے تھے۔ اللہ ان کے اس شوق کو دیکھ رہے تھے اور انہیں یہ موقع دے رہا تھا۔ 3- معجزے کی تیاری اور حیرت (تربیتی حکمت) یہ اس سوال کی سب سے بڑی تکنیکی اور معجزاتی وجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چند سیکنڈ بعد اسی لائی کو ایک زندہ، بھاگتا ہوا اور خوفناک سانپ (اژدھا) بنانا تھا۔ اگر اللہ اچانک لاٹھی کو سانپ بنا دیتا، تو شاید موسیٰ سوچتے کہ "کیا یہ میری ہی لائی تھی؟ یا شاید پہلے سے کوئی سانپ تھا؟" اللہ نے سوال کر کے حضرت موسیٰ سے اقرار کروایا کہ "موسیٰ، اچھی طرح دیکھ لو اور مان لو کہ یہ بے جان لکڑی کی لائی ہے۔ اب میں اسے زمین پر پھینکنے کا حکم دوں گا، تو تم دیکھنا کہ میں اسی سوکھی لکڑی کو کیسے زندگی دیتا ہوں!" یعنی اللہ نے انہیں شعوری طور پر تیار کیا کہ جس لاٹھی کے فائدے تم گنوا رہے ہو، اب دیکھو میں اس سے کیا کمال دکھاتا ہوں۔ 4- توکل (بھروسہ) کا امتحان حضرت موسیٰ نے لائی کے بارے میں کہا کہ "اس میں میرے لیے بہت سے فائدے (مآرب اخریٰ) ہیں" (یعنی اس سے مجھے سہارا اور تحفظ ملتا ہے)۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "أَلْقِهَا يَا مُوسَىٰ" (!اے موسیٰ! اسے پھینک دو) اس میں یہ سبق چھپا تھا کہ اے موسیٰ! آج کے بعد تمہارا سہارا یہ مادی لاٹھی نہیں ہے، بلکہ آج کے بعد تمہارا اصل سہارا صرف اور صرف اللہ کی ذات ہے۔ اس لاٹھی کو پھینک دو اور مجھ پر توکل (بھروسہ) کرو۔ اللہ تعالیٰ کا یہ سوال لاعلمی کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ یہ اپنے بندے سے محبت، اس کی گھبراہٹ کو دور کرنے اور اس کو ایک عظیم معجزے کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنے کی وجہ سے تھا۔ یہ مکالمہ خالق اور مخلوق کی محبت کا کائنات کا سب سے خوبصورت منظر ہے!اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب بندے کا آپس میں ایک بہت ہی پیارا مکالمہ 🌍 #علم_کی_دنیا #اللہ #fyp #foryou #قرآن

About