بعد از انبیاء، افضل البشر خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم
امتِ مسلمہ کا اجماع ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعد سب سے افضل ہستیاں چار خلفائے راشدین ہیں: سیدنا ابوبکر صدیقؓ جن کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا: "اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا" (بخاری 3656)، سیدنا عمر فاروقؓ جن کے بارے میں فرمایا: "میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا" (ترمذی 3686)، سیدنا عثمانؓ جن کے متعلق نبی ﷺ نے فرمایا: "ہر نبی کا رفیقِ جنت ہوتا ہے، اور میرا رفیق عثمان ہے" (ترمذی 3705)، اور سیدنا علیؓ جن کے بارے میں فرمایا: "علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں" (ترمذی 3712)۔
پھر سیدنا امام حسنؓ، جنہیں نبی ﷺ نے جنتی سردار کہا: "یہ میرا بیٹا سردار ہے، اللہ اس کے ذریعے دو گروہوں میں صلح کروائے گا" (بخاری 2704)، اور سیدنا امیر معاویہؓ، کاتبِ وحی، نبی ﷺ کے رازدان، جن کے لیے نبی ﷺ نے دعا فرمائی: "اللّٰهم اجعله ھادیا مھدیا واهد به" (ترمذی 3842) یعنی: "اے اللہ! اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا، اور اس کے ذریعے ہدایت دے"۔
یہ سب کے سب عظمت، عدل، علم، حلم اور خلافتِ راشدہ کے روشن چراغ ہیں، جن کی پیروی ہی اہلِ سنت کا دین و عقیدہ ہے۔