@hamidmir104: ہمارے معاشرے میں عموماً یہ تصور پایا جاتا ہے کہ استاد سے صرف کتابی علم اور سبق حاصل کیا جاتا ہے، لیکن میرے نزدیک حقیقت اس سے کہیں وسیع اور گہری ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں بذاتِ خود یہ مشاہدہ کیا ہے کہ انسان صرف اپنے استاد کے الفاظ سے نہیں، بلکہ ان کے کردار، رویّے، اندازِ گفتگو اور طرزِ زندگی سے بھی بہت کچھ سیکھتا ہے۔ استاد کی شخصیت خاموشی سے اپنے شاگرد کی شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہے اور اسے اپنے اندر مثبت تبدیلیاں لانے کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ بھی میرے لیے ایک حقیقت اور خوش نصیبی ہے کہ زندگی میں جب بھی مجھے کسی اہم فیصلے کا سامنا ہوا، میں نے شعوری یا غیر شعوری طور پر کسی نہ کسی استادِ محترم کے طرزِ فکر، طریقۂ کار اور شخصیت کو اپنے سامنے رکھا۔ ان کی باتوں، کردار اور فیصلوں نے نہ صرف میری سوچ کو وسعت دی بلکہ مجھے زندگی کے مختلف مراحل میں درست راستہ اختیار کرنے کا حوصلہ بھی دیا۔ میرے نزدیک ایک حقیقی استاد وہ نہیں جو صرف کتاب کا سبق پڑھا دے، بلکہ وہ ہے جو اپنی شخصیت اور کردار سے اپنے شاگرد کی زندگی کا رخ بدل دے۔ بعض اساتذہ درس گاہ سے رخصت ہونے کے بعد بھی اپنے شاگردوں کے دل و دماغ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، کیونکہ ان کا دیا ہوا علم الفاظ تک محدود نہیں رہتا بلکہ کردار کا حصہ بن جاتا ہے۔ نائب صدر حامد میر ✍️