@nawabkhosa12: ساحلوں سے خوشیوں کی ریت بہا لے جاتا ہے۔ یہ اُس خزاں کی مانند ہے جو ہرے بھرے درختوں سے پتّے چھین کر انہیں ویرانی کا لباس پہنا دیتی ہے۔ محبوب کی دوری گویا چاندنی رات میں اچانک بادلوں کا چھا جانا ہو، جہاں روشنی تو موجود ہو مگر دل تک نہ پہنچ پائے۔ غمِ جدائی کبھی اُس بجھے ہوئے چراغ جیسا محسوس ہوتا ہے جس کی لو تو باقی ہو مگر حرارت کھو چکی ہو۔ دل ایک سنسان ریگستان بن جاتا ہے جہاں یادوں کی ہوا ریت کے ذروں کی طرح آنکھوں میں چبھتی رہتی ہے۔ ہر لمحہ یوں لگتا ہے جیسے وقت کی گھڑی نے اپنی رفتار سست کر دی ہو اور ہر سانس ایک بھاری زنجیر بن کر روح پر رکھ دی گئی ہو۔ محبوب کی یادیں بارش کی اُن بوندوں کی مانند ہوتی ہیں جو خشک زمین پر گر کر مٹی کی خوشبو تو بکھیرتی ہیں، مگر ساتھ ہی اداسی کی نمی بھی چھوڑ جاتی ہیں۔ کبھی یہ غم ایک ٹوٹتے ہوئے ستارے جیسا لگتا ہے، جو چند لمحوں کے لیے آسمان کو روشن کرتا ہے مگر پھر ہمیشہ کے لیے اندھیروں میں کھو جاتا ہے۔ جدائی دراصل دل کی وہ خاموش اذیت ہے جو سمندر کی گہرائیوں کی طرح بے آواز ہوتی ہے، مگر اپنے اندر نہ جانے کتنے طوفان چھپائے رکھتی #Wink @Fahad Ahmadani @Azaan Khan @JK🫂