@f.h.r82: یہ کلام صرف چند لفظوں کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی رویوں، وقت کی چال اور اس کائنات کے بدلتے رنگوں کی ایک گہری اور سچی عکاسی ہے۔ زندگی کے ہر موڑ پر جب حالات کا رخ بدلتا ہے، تو انسانوں کے بنائے ہوئے ضابطے اور وعدے بھی ریت کی دیوار کی طرح ڈھہ جاتے ہیں۔ یہ سطریں اسی تلخ حقیقت کو بڑے خوبصورت اور انوکھے انداز میں بیان کرتی ہیں کہ جب وقت کا پاسا پلٹتا ہے، تو صدیوں پرانے قاعدے اور پکے بولوں کے معاہدے بھی پل بھر میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس کلام کا سب سے طاقتور اور دل کو چھو لینے والا پہلو اس کا آخری شعر ہے، جو فانی انسانوں کی اوقات اور قدرت کے جلال کو آشکار کرتا ہے۔ جب حالات کے طوفان اٹھتے ہیں اور ہوا میں تیزی گھلتی ہے، تو صرف انسان ہی نہیں بلکہ یہ بے زبان زمین اور یہاں کی مٹی بھی اپنا لہجہ بدل لیتی ہے۔ یہ کلام اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اس دنیا میں کچھ بھی مستقل نہیں—نہ رشتے، نہ بول، اور نہ ہی مٹی کی پرانی پہچان۔ جب وقت بدلتا ہے تو سب کچھ بدل کر رہ جاتا ہے۔یہ کلام انسانی وجود کی تہوں میں اترنے والا ایک ایسا فکری آئینہ ہے جہاں انسان کی بے بسی، وقت کے بے رحم تھپیڑے اور کائنات کے جبر کا آمنا سامنا ہوتا ہے۔ یہ سطریں محض فقرے نہیں ہیں، بلکہ اس حفاقت اور مکافاتِ عمل کا نوحہ ہیں جو دنیا کے بدلتے ہوئے رنگوں کے ساتھ جنم لیتی ہے۔ جب حوادثِ زمانہ کا زاویہ ذرا سا بھی بدلتا ہے، تو انسان کے تراشے ہوئے تمام ضابطے، مفادات کے تحت ہونے والے مبینہ معاہدے اور لفظوں کے پکے بندھن ریت کے اس محل کی طرح ڈھہ جاتے ہیں جو پہلی ہی موجِ بلا کی زد میں آ کر بکھر جائے۔ اس فکری سفر کا سب سے روح فرسا اور فلسفیانہ نکتہ وہ مقام ہے جہاں بات انسان کی ذات سے نکل کر اس بے زبان کائنات کے باطن میں سرایت کر جاتی ہے۔ جب حالات کی آندھیاں تیز ہوتی ہیں اور فضا میں طلاطم برپا ہوتا ہے، تو صرف بشر ہی اپنی قلابازیاں نہیں بدلتا، بلکہ یہ زمین، یہ مٹی بھی اپنی پرانی نرم خُو وضع قطع چھوڑ کر ایک ایسا سخت، بے باک اور بیگانگانہ لہجہ اختیار کر لیتی ہے جو ہر انسان کو اس کی اوقات یاد دلا دیتا ہے۔ یہ اس کائناتی حقیقت کی عکاسی ہے کہ اس ارضی کائنات میں کوئی شے جامد یا مستقل نہیں۔ جب وقت کی رت بدلتی ہے، تو رشتوں اور اقدار کے چہرے تو مسخ ہوتے ہی ہیں، ساتھ میں اس زمین کی تاثیر اور اس کی مٹی کا لہجہ بھی اجنبی ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی گہری بیداری کا نام ہے جو انسان کو اس کے جھوٹے غرور، مصلحتوں اور وقتی فریب سے نکال کر اس کائناتی سچائی کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے جہاں مٹی ہی سب کچھ طے کرتی ہے اور مٹی ہی پر سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔#TikTokViral #PoetryStatus