@mayajee876: Wife🥹❤️‍🩹#Love #humanity #viral #1millionaudition #trending

Zoya edit
Zoya edit
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 06 October 2026 05:22:16 GMT
57870
8542
186
369

Music

Download

Comments

oresta713
ïqřä čüțë 🧿🇹🇷🇹🇷 :
don't crying 😭😖
2026-10-06 06:49:30
8
asumanprince232
Asuman Prince :
You and me
2026-10-06 18:26:30
3
islamique.fondatio
Nidal le mec élégant :
My Champion, your wife is always like that; I really love your couple—may God protect you.🤣😂
2026-10-06 17:54:55
1
ayaz.ansari62
𝔸𝕪𝕒𝕫_𝔸𝕖𝕤𝕥𝕙𝕖𝕥𝕚𝕔☑️ :
😂😂😂😂😂
2026-10-06 12:40:10
4
sadic.americaine
Sadic americaine :
moi elle m'a trahi 💔
2026-10-06 19:44:35
3
user5012611153400
AA Daddy shop :
😂😂😂ati AA Daddy shop
2026-10-06 15:20:01
2
user3969663068181
باران علیذاده :
great
2026-10-06 05:24:58
2
ebrimajammeh491gma
DIKE 🩸RETO :
2026-10-06 16:07:16
1
user97119191168014
نَـــــ 💜ــــــ👑ــــــدَىَ🔐 :
رد ظل، ظ4
2026-10-07 02:58:55
0
alexissoubeiga815
Alexis Soubeiga :
Toi qui rit la va te marier aussi 🤣😂
2026-10-06 23:06:38
0
kakajan.atayev
⁰⁶Kakajan⁰⁹Ata⁰⁴ :
2026-10-07 02:55:07
0
aktaumore
Aktau(More) :
э бір қудай да қырсық қатын жаратқан екен да😂
2026-10-06 18:09:02
0
alaskocisse745
Alasko Cisse 45⭐ :
🤣🤣🤣
2026-10-07 02:07:07
0
carlking1403v03q
Zeii Ya :
@៩ើ៩ើ។០។ើ។ោ៨៩ើោ៩។។៩ើ
2026-10-06 17:04:42
0
user8297266518204
moussa sow the king :
sow
2026-10-06 15:40:53
0
yayawane21
yayawane21 :
2026-10-06 18:13:49
0
loukman77
Charles loukman.F🫵 :
😏
2026-10-06 17:23:32
0
boxer..23
مراد :
2026-10-06 21:32:43
0
carlking1403v03q
Zeii Ya :
៩៩ោ៩។ឦ៩។ោ។ោល៩
2026-10-06 17:04:05
0
carlking1403v03q
Zeii Ya :
៩។៩ើ។
2026-10-06 17:04:09
0
syed.rana.patwary
Syed Rana Patwary :
মুচকি হাঁসো কেন🥰😁🤭
2026-10-07 04:03:01
1
carlking1403v03q
Zeii Ya :
ើោើ៩ោថើផផ៊😅។ើោ៩៩
2026-10-06 17:04:22
0
carlking1403v03q
Zeii Ya :
។។
2026-10-06 17:04:17
0
carlking1403v03q
Zeii Ya :
៩។
2026-10-06 17:04:13
0
jamshid__0001_
_JAMSHID_ :
2026-10-06 16:23:49
0
To see more videos from user @mayajee876, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

انا للہ وانا الیہ راجعون ​موت کی آہٹ اور ایک اجڑتا ہوا آشیانہ ​بعض خبریں محض الفاظ نہیں ہوتیں، وہ کلہاڑا بن کر دلوں پر گرتی ہیں۔ 11 اگست کا سورج دیارِ غیر (سعودی عرب) سے ایک ایسی قیامت خیز خبر لے کر طلوع ہوا جس نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔ وہ لال جو روزگار کی تلاش میں، اپنے گھر والوں کے روشن مستقبل کے خواب سجا کر سعودیہ گیا تھا، روڈ ایکسیڈنٹ کے ایک ہی خوفناک حادثے میں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ ​آج جب بلال اظہر تارڑ کی میت دیارِ غیر سے اس کے آبائی گاؤں پنڈی کالو پہنچی، تو فضا میں ایک دلدوز چیخ گونج اٹھی۔ وہ بیٹا جو چلتا پھرتا، مسکراتا ہوا رخصت ہوا تھا، آج لکڑی کے تابوت میں لپٹا ہوا لوٹا۔ گاڑی سے تابوت کا اترنا تھا کہ ہاہاکار مچ گئی۔ در و دیوار سے ماتم کی صدائیں آنے لگیں، ہر آنکھ سے آنسوؤں کا سمندر بہہ نکلا اور گاؤں کا ہر کونہ سسکنے لگا۔ اس بھری جوانی میں بلال کی ناگہانی موت نے ہر دل کو چھلنی کر دیا۔ ​باپ کا ٹوٹا ہوا مان اور ممتا کی ویرانی ​لوگ آتے رہے، تسلیاں دیتے رہے، اظہر تارڑ صاحب کے شانے پر ہاتھ رکھ کر صبراً صبراً کہتے رہے... لیکن ایک جوان بیٹے کے جنازے کا بوجھ کتنا بھاری ہوتا ہے، یہ صرف وہی باپ جان سکتا ہے جس نے اپنے بڑھاپے کی لاٹھی کو اپنے ہی ہاتھوں سے دفن کیا ہو۔ باپ کی نم آنکھیں اور پتھرایا ہوا چہرہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ بیٹے کا لاشہ اٹھانا دنیا کا سب سے بڑا دکھ ہے۔ اور وہ ماں... جس کے جگر کا ٹکڑا، جس کی آنکھوں کا نور یوں بے دردی سے چھن گیا، اس کے دل پر کیا گزری ہوگی؟ اس دکھ کا اندازہ نہ الفاظ لگا سکتے ہیں نہ کوئی دل۔ ​جنازے کا منظر: لوگوں کا سمندر اور آخری رخصت ​صبح 10:30 بجے جب پنڈی کالو میں نمازِ جنازہ کا وقت ہوا، تو ایسا منظر تھا کہ دیکھنے والوں کا دل دہل گیا۔ یوں لگتا تھا جیسے پورا پنجاب امڈ آیا ہو۔ سر ہی سر، انسانوں کا ایک بے پناہ سمندر تھا! دور دور سے لوگ کھنچے چلے آئے تھے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ کسی وزیر یا عہدے دار کا جنازہ ہے یا کسی عام انسان کا—یہ تو بس ایک جوان کی ناگہانی موت پر انسانیت کا روپ تھا، ایک غمزدہ باپ کی ٹوٹی ہوئی پیٹھ کو سہارا دینے کی ایک تڑپ تھی، اور ایک بوڑھے باپ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا سمندر تھا۔ ​ہر چہرہ غمزدہ تھا، ہر آنکھ تر تھی، اور فضا میں صرف سسکیوں اور آہ و زاری کی آوازیں تھیں۔ ​دعا ​اے ہمارے پروردگار! بلال اظہر تارڑ کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرما، اس کے گناہوں سے درگزر فرما کر اسے جنت الفردوس میں بلند درجات عطا کر۔ اور اس کے والدین، بالخصوص اس کے والد اظہر تارڑ اور غمزدہ ماں کو اس قیامت خیز صدمے پر صبرِ جمیل اور حوصلہ عطا فرما۔ (آمین
انا للہ وانا الیہ راجعون ​موت کی آہٹ اور ایک اجڑتا ہوا آشیانہ ​بعض خبریں محض الفاظ نہیں ہوتیں، وہ کلہاڑا بن کر دلوں پر گرتی ہیں۔ 11 اگست کا سورج دیارِ غیر (سعودی عرب) سے ایک ایسی قیامت خیز خبر لے کر طلوع ہوا جس نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔ وہ لال جو روزگار کی تلاش میں، اپنے گھر والوں کے روشن مستقبل کے خواب سجا کر سعودیہ گیا تھا، روڈ ایکسیڈنٹ کے ایک ہی خوفناک حادثے میں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ ​آج جب بلال اظہر تارڑ کی میت دیارِ غیر سے اس کے آبائی گاؤں پنڈی کالو پہنچی، تو فضا میں ایک دلدوز چیخ گونج اٹھی۔ وہ بیٹا جو چلتا پھرتا، مسکراتا ہوا رخصت ہوا تھا، آج لکڑی کے تابوت میں لپٹا ہوا لوٹا۔ گاڑی سے تابوت کا اترنا تھا کہ ہاہاکار مچ گئی۔ در و دیوار سے ماتم کی صدائیں آنے لگیں، ہر آنکھ سے آنسوؤں کا سمندر بہہ نکلا اور گاؤں کا ہر کونہ سسکنے لگا۔ اس بھری جوانی میں بلال کی ناگہانی موت نے ہر دل کو چھلنی کر دیا۔ ​باپ کا ٹوٹا ہوا مان اور ممتا کی ویرانی ​لوگ آتے رہے، تسلیاں دیتے رہے، اظہر تارڑ صاحب کے شانے پر ہاتھ رکھ کر صبراً صبراً کہتے رہے... لیکن ایک جوان بیٹے کے جنازے کا بوجھ کتنا بھاری ہوتا ہے، یہ صرف وہی باپ جان سکتا ہے جس نے اپنے بڑھاپے کی لاٹھی کو اپنے ہی ہاتھوں سے دفن کیا ہو۔ باپ کی نم آنکھیں اور پتھرایا ہوا چہرہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ بیٹے کا لاشہ اٹھانا دنیا کا سب سے بڑا دکھ ہے۔ اور وہ ماں... جس کے جگر کا ٹکڑا، جس کی آنکھوں کا نور یوں بے دردی سے چھن گیا، اس کے دل پر کیا گزری ہوگی؟ اس دکھ کا اندازہ نہ الفاظ لگا سکتے ہیں نہ کوئی دل۔ ​جنازے کا منظر: لوگوں کا سمندر اور آخری رخصت ​صبح 10:30 بجے جب پنڈی کالو میں نمازِ جنازہ کا وقت ہوا، تو ایسا منظر تھا کہ دیکھنے والوں کا دل دہل گیا۔ یوں لگتا تھا جیسے پورا پنجاب امڈ آیا ہو۔ سر ہی سر، انسانوں کا ایک بے پناہ سمندر تھا! دور دور سے لوگ کھنچے چلے آئے تھے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ کسی وزیر یا عہدے دار کا جنازہ ہے یا کسی عام انسان کا—یہ تو بس ایک جوان کی ناگہانی موت پر انسانیت کا روپ تھا، ایک غمزدہ باپ کی ٹوٹی ہوئی پیٹھ کو سہارا دینے کی ایک تڑپ تھی، اور ایک بوڑھے باپ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا سمندر تھا۔ ​ہر چہرہ غمزدہ تھا، ہر آنکھ تر تھی، اور فضا میں صرف سسکیوں اور آہ و زاری کی آوازیں تھیں۔ ​دعا ​اے ہمارے پروردگار! بلال اظہر تارڑ کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرما، اس کے گناہوں سے درگزر فرما کر اسے جنت الفردوس میں بلند درجات عطا کر۔ اور اس کے والدین، بالخصوص اس کے والد اظہر تارڑ اور غمزدہ ماں کو اس قیامت خیز صدمے پر صبرِ جمیل اور حوصلہ عطا فرما۔ (آمین

About