@nawaiwafaq24.7: کراچی تھانہ نیو کراچی انڈسٹریل ایریا کی حدود میں مبینہ طور پر جواء، سٹہ اور چھکے کے کاروبار نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا۔ عادل پلاؤ کے سامنے اللہ رکھا عرف الن اور جعفر کے مبینہ جواء سٹہ کے اڈے سرگرم ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پولیس کے بیٹر ارباز اور علی پر مبینہ طور پر ہفتہ وار لاکھوں روپے وصول کرکے جواریوں کو کاروبار جاری رکھنے کی سہولت فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ الزام ہے کہ پولیس کارروائی کے بجائے مبینہ طور پر جرائم کے اڈوں کی جگہ تبدیل کی جا رہی ہے، تاہم سرگرمیاں مکمل طور پر بند نہیں کرائی جا رہیں۔ متعدد مقدمات کے باوجود مبینہ سرگرمیاں جاری اللہ رکھا عرف الن کے خلاف گٹکا ماوا، اسلحہ اور جواء سٹہ سمیت مختلف نوعیت کے مقدمات درج ہونے کے باوجود مبینہ سرگرمیوں کا جاری رہنا پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گیا۔ دوسری جانب ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر عمران، ڈی ایس پی ندیم، اسپیشل برانچ اور ٹاسک فورس کی جانب سے بھی مبینہ جواء سٹہ کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے پر شہری حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ شہریوں نے کراچی پولیس چیف آزاد خان سے مطالبہ کیا ہے کہ جواء سٹہ کے مبینہ اڈوں اور ہفتہ وصولی کے الزامات سامنے آئیے ہیں ارباز اور علی ایس ایچ او زاہد لودھی کے لاڈلوں کے ممکنہ گٹھ جوڑ کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے