@tanveerranaofficial1: یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے باہر حادثات کا سلسلہ، آخر ذمہ دار کون؟ یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے باہر ایک بار پھر افسوسناک حادثہ پیش آیا، جہاں شعبہ سوشیالوجی کے پانچویں سمسٹر کے طالب علم عمار علوی بس حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ عمار علوی میرے لیے صرف ایک طالب علم نہیں تھے، بلکہ میرے بہت قریبی دوست اور میرے کالج کے جونیئر بھی تھے۔ وہ میرے گاؤں کے ساتھ والے گاؤں کے رہائشی تھے، اسی لیے ان کی اچانک موت میرے لیے ذاتی طور پر بھی ایک بہت بڑا صدمہ ہے۔ عمار اپنے مستقبل کے خواب لیے یونیورسٹی گئے تھے، لیکن افسوس کہ اپنے گھر واپس نہ لوٹ سکے۔ یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل یونیورسٹی سے وابستہ ایک گارڈ بھی یونیورسٹی کے قریب ٹرین حادثے میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔ جبکہ 19 نومبر 2017 کو بھی یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے قریب ایک طالبہ ٹرین کی زد میں آ کر جاں بحق ہوئی تھی۔ اُس وقت Dawn کی رپورٹ میں بھی محفوظ کراسنگ، مناسب رسائی سڑک اور بس اسٹاپ کی ضرورت کی نشاندہی کی گئی تھی۔ برسوں گزرنے کے باوجود اگر طلبہ کی محفوظ آمدورفت آج بھی ایک سوال بنی ہوئی ہے، تو یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ عوامی مسئلہ ہے۔ ہم یونیورسٹی انتظامیہ اور پنجاب حکومت سے مطالبہ نہیں بلکہ اپیل کرتے ہیں کہ طلبہ کی جانوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر محفوظ کراسنگ اور انڈر پاس سمیت مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ عمار علوی کی المناک موت کا ذمہ دار کون ہے؟ اور آئندہ کسی اور طالب علم کو اپنے گھر واپس نہ جانے کی نوبت سے بچانے کے لیے عملی اقدامات کب ہوں گے؟ اللہ تعالیٰ عمار علوی کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔#viralvideo #lahorepakistan #uni incident #بریکنگ_نیوز #imrankhan