@alhanfinashriat_7: *ایمان افروز واقعہ* جب مفتی محمد شفیع صاحب عثمانی رح شیخ الہند محمود الحسن صاحب رح کے کمرے میں داخل ہوا صحافی کو کیا فرماتے ہیں مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے والد ماجد مفتی محمد شفیع صاحب عثمانی رح کے نایاب زبانی انٹرویو سے *Follow Mufti Muhammad Taqi Usmani Channel* https://whatsapp.com/channel/0029VakaHpP6WaKuiympBu41 #foryou #mufti_Muhammad_taqi_usmai #alhanfinashriat_7 #fyp
شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی برصغیر پاک و ہند کے ایک عظیم اسلامی عالم، ممتاز مجاہدِ آزادی اور دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب علم تھے۔ آپ کو برطانوی استعمار کے خلاف آزادی کی جدوجہد اور تعلیمی خدمات کی بنا پر "شیخ الہند" کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
مختصر تعارف اور حالاتِ زندگی
• ولادت: آپ 1851ء میں بریلی (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے۔
• تعلیم: آپ دارالعلوم دیوبند کے اولین اور ممتاز طلباء میں شامل تھے، جہاں آپ نے جلیل القدر اساتذہ سے علومِ نقلیہ و عقلیہ حاصل کیے۔
• تدریس: آپ نے دارالعلوم دیوبند میں طویل عرصے تک تدریسی خدمات انجام دیں اور 1890ء سے 1915ء تک وہاں صدر مدرس کے منصب پر فائز رہے۔
تحریکِ آزادی اور قیدِ مالٹا
• تحریکِ ریشمی رومال (Silk Letter Movement): برطانوی حکومت کا تختہ الٹنے اور ہندوستان کو آزاد کرانے کے لیے آپ نےپوشیدہ طور پر ایک انقلابی تحریک چلائی، جو ریشمی خطوط کی سازش کے نام سے مشہور ہوئی۔
• گرفتاری و اسیری: 1916ء میں آپ کو گرفتار کر کے بحیرہ روم کے جزیرے مالٹا میں قید کیا گیا جہاں آپ نے تین سال سے زائد عرصہ اسیری میں گزارا۔
• رہائی: مئی 1920ء میں مالٹا کی قید سے رہائی کے بعد آپ ہندوستان واپس آئے۔
دینی اور سیاسی خدمات
• جمعیت علماء ہند: رہائی کے فوراً بعد آپ کو نومبر 1920ء میں جمعیت علماء ہند کا صدر منتخب کیا گیا۔ آپ نے تحریکِ خلافت اور تحریکِ ترکِ موالات کی بھرپور قیادت کی۔
• جامعہ ملیہ اسلامیا: آپ نے اکتوبر 1920ء میں علی گڑھ میں جامعہ ملیہ اسلامیا کے سنگِ بنیاد اور قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
• قرآن پاک کا ترجمہ: آپ نے مالٹا کی اسیری اور آخری ایام میں قرآن مجید کا آسان اور عام فہم اردو ترجمہ شروع کیا (جس کو بعد میں آپ کے شاگرد علامہ شبیر احمد عثمانی نے مکمل کیا اور تفسیر عثمانی کے نام سے شائع کیا)۔
نامور شاگرد
آپ کے تلامذہ میں برصغیر کی بڑی علمی و شخصیات شامل ہیں، جن میں مولانا اشرف علی تھانوی، علامہ انور شاہ کاشمیری، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا شبیر احمد عثمانی اور مفتی محمد شفیع دیوبندی کے نام سرفہرست ہیں۔
وفات
آپ کا انتقال 30 نومبر 1920ء (18 ربیع الاول 1339ھ) کو دہلی میں ہوا اور آپ کو دیوبند میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آپ کی پوری زندگی دین متین کی اشاعت اور وطن کی آزادی کے لیے وقف تھی۔
ویکیپیڈیا
محمود حسن دیوبندی - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا
Mahmud Hasan Deobandi (1851–1920), titled Shaykh al-Hind: * Indian Islamic scholar, freedom fighter, 1st student of Darul Uloom Deoband. * Roles: Head teacher (
juipak.org.pk
شیخ الہند مولا