@s_y_e_d_.a: عشق صرف کسی کے چہرے، لباس، آواز یا ظاہری حسن کو پسند کرنے کا نام نہیں۔ ظاہری حسن وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے، مگر کردار، اخلاص، رحم، حیا، وفا اور دل کی پاکیزگی انسان کی اصل خوبصورتی کو ظاہر کرتے ہیں۔ خالق اور خلق کیا ہیں؟ خالق: اللہ تعالیٰ، جو ہر چیز کو وجود دینے والا ہے۔ قرآن کہتا ہے: اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ “اللہ ہر چیز کا خالق ہے۔” (الزمر 39:62) خلق: اللہ کی پیدا کی ہوئی تمام مخلوقات—انسان، جانور، زمین، آسمان، ستارے، درخت اور پوری کائنات۔ یعنی: خالق = پیدا کرنے والا خلق = پیدا کی ہوئی مخلوق صوفیانہ زبان میں انسان جب باہر کی مخلوق کو دیکھ کر اس کے اندر موجود حکمت، حسن اور نظم پر غور کرتا ہے تو اس کی نظر خلق سے خالق کی طرف اٹھتی ہے۔ “اللہ کو کہاں تلاش کروں؟ آسمان میں، زمین میں یا کسی خاص جگہ؟” عارف نے اس کے دل کی طرف اشارہ کرکے کہا: “اپنے دل کو پاک کر؛ مگر یہ نہ سمجھ کہ اللہ اس جسم کے اندر مقید ہے۔ دل کو اس لیے پاک کر کہ پاک دل میں حق کی معرفت، محبت اور اطاعت کی روشنی زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔” یہ واقعہ ایک صوفیانہ تمثیل کے طور پر سمجھنا چاہیے، مستند حدیث کے طور پر نہیں۔ ۔۔۔ ظاہر کے حسن میں اکثر نگاہ الجھ جاتی ہے، باطن کا حسن دیکھو تو روح سنور جاتی ہے۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر باطن دیکھے تو کردار نظر آتا ہے؛ اور اگر معرفت کی نگاہ پیدا ہو جائے تو خلق میں خالق کی نشانیاں نظر آنے لگتی ہیں۔ مگر یاد رہے: نشانی خالق نہیں ہوتی۔ پھول اللہ نہیں، مگر پھول میں اللہ کی قدرت کی نشانی ہے۔ انسان اللہ نہیں، مگر انسان کا وجود اللہ کی تخلیق اور قدرت کی نشانی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ #forypage💕 #unfreezemyaccount #dontunderreviewmyvedio #fypシ゚viral #foryou