@ahmadhokhar1: جب دشمن کے وار اچانک نشانے پر لگنے لگیں، اس کی چالیں تمہاری کمزوریوں کو عین پہچاننے لگیں، اور ہر قدم تمہارے ارادوں سے پہلے اٹھایا جانے لگے، تو اسے محض اتفاق سمجھنے کی غلطی مت کرنا۔ اکثر دشمن اتنا ماہر نہیں ہوتا، جتنی معلومات اسے کوئی اپنا شخص دے رہا ہوتا ہے۔ جب راز باہر جانے لگیں تو دشمن کی آنکھیں تیز نہیں ہوتیں، اسے اندر کا راستہ دکھانے والا کوئی اپنا ہوتا ہے۔ اصل خطرہ باہر کھڑے دشمن سے زیادہ اس شخص سے ہوتا ہے جو اپنائیت کے پردے میں تمہاری کمزوریاں، منصوبے اور راز جانتا ہے۔ دشمن سامنے ہو تو انسان محتاط رہتا ہے، مگر اپنوں پر اعتماد کرتے ہوئے پہرے ہٹا دیتا ہے۔ یہی اعتماد کبھی کبھی سب سے بڑا نقصان بن جاتا ہے۔ اس لیے ہر مسکراہٹ کو وفا، ہر قربت کو مخلصی اور ہر ساتھ کو اپناپن مت سمجھو۔ وقت لوگوں کے چہروں سے زیادہ ان کے کردار کو بے نقاب کرتا ہے۔ اپنی بات ہر شخص کے سامنے نہ کھولو، اپنے منصوبے خاموش رکھو اور اپنے رازوں کی حفاظت خود کرو۔ یاد رکھو، دشمن کی طاقت سے زیادہ خطرناک اپنے آدمی کی دی ہوئی معلومات ہوتی ہیں۔ جب وار بار بار درست جگہ لگنے لگیں تو تلوار سے پہلے یہ دیکھو کہ تمہارا راز کس کے ہاتھ میں ہے۔ کیونکہ کبھی دشمن نشانہ نہیں سیکھتا، اسے نشانہ بتانے والا کوئی اپنا ہوتا ہے۔#