@nanaazzahra10: Anting wanita titanium #CicipRasaKuliner #anting #antingtitanium #antinganak #antingwanita

nanaazzahra10
nanaazzahra10
Open In TikTok:
Region: ID
Wednesday 07 October 2026 05:18:31 GMT
12
0
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @nanaazzahra10, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی آفریدی کا صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب! گورنر کی جانب سے گزشتہ روز کیا جانے والا ڈرامہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے، خیبرپختونخوا میں عوام کی دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت موجود ہے، صوبائی اسمبلی، کابینہ اور حکومت مکمل طور پر فعال اور برقرار ہیں، گورنر چیف سیکرٹری اور آئی جی کو بلا رہے ہیں اور غیر آئینی اجلاس منعقد کر رہے ہیں، گورنر کا اس نوعیت کے اجلاس کی صدارت کرنا آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے، پیپلز پارٹی ماضی میں بھی غلط کردار ادا کر چکی ہے، موجودہ اقدامات سے ایک اور مشرقی پاکستان بنانے کی کوشش نظر آ رہی ہے، دو تہائی اکثریت والی صوبائی حکومت کی موجودگی میں گورنر کا اس طرح اجلاس منعقد کرنا ناقابل قبول ہے، پاکستان کو توڑنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، گزشتہ روز ہونے والے اجلاس کی آئینی حیثیت پر ایڈووکیٹ جنرل سے رائے لی جائے گی،  وزیراعلیٰ کو ہٹانے کا آئینی طریقہ موجود ہے، اس کے لیے عدم اعتماد کا طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے، کسی کو جمہوریت پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے، گورنر نے غیر آئینی کام کیا ہے، جمہوریت کا نعرہ لگانے والی جماعت نے ماضی میں ذاتی مفادات کے لیے بنگلہ دیش کو پاکستان سے جدا کیا، ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینا پیپلز پارٹی کا وتیرہ رہا ہے، گورنر کی غیر آئینی سرگرمیوں کا مقصد صوبائی حکومت کو اشتعال دلانا اور ردعمل پر مجبور کرنا ہے، خیبرپختونخوا میں دوبارہ دہشتگردی مسلط کیے جانے کے بعد حالات مسلسل خراب کیے گئے ہیں، عمران خان اور ان کی حکومت نے ہمیشہ خیبرپختونخوا پولیس اور عوام کا ساتھ دیا ہے، 15 اکتوبر 2025 کو حلف اٹھانے کے بعد سے پولیس، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو مسلسل مضبوط کر رہے ہیں، خیبرپختونخوا پولیس کے پاس پاکستان میں موجود کسی بھی پولیس کے مقابلے میں جدید ترین اسلحہ اور آلات موجود ہیں، سی ٹی ڈی کے انفراسٹرکچر اور اسپیشل برانچ کو مضبوط بنانے کے لیے بھرپور سرمایہ کاری اور اقدامات کیے جا رہے ہیں، وفاقی حکومت کا ہمیشہ خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک رہا ہے، 2018 میں قبائلی اضلاع خیبرپختونخوا میں ضم کیے گئے لیکن آج تک مالی طور پر مکمل انضمام نہیں کیا گیا، قبائلی اضلاع کے وہ مالی حقوق آج تک نہیں دیے جا رہے جو ان کے انضمام کے وقت طے کیے گئے تھے، 2024 سے آج تک وفاقی حکومت مسلسل خیبرپختونخوا پر ملٹری آپریشن مسلط کرتی رہی ہے، پشاور: وفاق کی غلط پالیسیوں سے بے گھر ہونے والے لوگ سڑکوں پر روتے رہے لیکن انہیں آج تک مکمل معاوضہ نہیں ملا، قبائلی اضلاع کے متاثرین کے تقریباً 100 ارب روپے کے معاوضے اب بھی واجب الادا ہیں، جن کے گھر اجڑے، گھرانے متاثر ہوئے اور مساجد شہید ہوئیں وہ لوگ آج بھی اپنے معاوضوں کے لیے دربدر ہیں، پاکستان کے لیے قربانیاں دینے والے قبائلی خاندانوں کے لیے فی گھر صرف چار لاکھ روپے معاوضہ مقرر کیا گیا،  اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی بیگمات کے پرس کروڑوں روپے کے ہوتے ہیں لیکن قربانی دینے والے قبائلی خاندانوں کو چار لاکھ روپے بھی نہیں دیے گئے، بکا خیل کیمپ میں شمالی وزیرستان کے متاثرین کو ماہانہ 37 سے 38 کروڑ روپے دینے کی کمٹمنٹ کی گئی تھی، بکا خیل کے متاثرین کو آج تک وعدے کے مطابق ماہانہ رقم فراہم نہیں کی جا رہی، وفاق کی غلط پالیسیوں سے بے گھر کیے گئے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، حکومت سنبھالنے کے بعد اب تک بے گھر افراد کے لیے 21 ارب روپے فراہم کیے ہیں، ملٹری آپریشنز اور ڈرون حملوں سے ہونے والے نقصانات کی ذمہ داری بھی صوبائی حکومت کو پوری کرنا پڑتی ہے، وفاق میں بیٹھ کر فیصلے کرنے والوں کو ان فیصلوں کے نتیجے میں عوام پر پڑنے والی مشکلات کا احساس نہیں، اگر وفاق خیبرپختونخوا کے ساتھ مخلص ہے تو صوبے کا این ایف سی شیئر اپ گریڈ کرے اور 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دینے والے صوبے کے تقریباً سوا ارب روپے کے واجبات ادا کرے، دہشتگردی کا مقابلہ بھی کرنا ہے اور وفاق کی غلط پالیسیوں سے پیدا ہونے والے حالات کا بھی سامنا کرنا ہے، خیبرپختونخوا حکومت اور پولیس امن و امان کے قیام کے لیے سنجیدہ ہیں، پولیس کو ذاتی نوکر بنا کر دوسرے کاموں میں لگانا غلط ہے، خیبرپختونخوا کے اسٹیک ہولڈرز کی پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں امن قائم کیا جا سکتا ہے، 22 سال میں 14 ہزار انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز اور 22 بڑے ملٹری آپریشنز کے باوجود امن قائم نہیں ہو سکا، 22 سال میں 80 ہزار جانوں کی قربانی کے باوجود امن نہ آنا وفاقی پالیسی کی ناکامی ہے، 22 سال بعد بھی خیبرپختونخوا میں امن کا مسئلہ موجود ہے، وفاقی حکومت سنجیدہ ہے تو دہشتگردی کے خلاف پالیسی تبدیل کرے، خیبرپختونخوا کے تعاون نہ کرنے کا بہانہ قابل قبول نہیں، بلوچستان
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی آفریدی کا صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب! گورنر کی جانب سے گزشتہ روز کیا جانے والا ڈرامہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے، خیبرپختونخوا میں عوام کی دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت موجود ہے، صوبائی اسمبلی، کابینہ اور حکومت مکمل طور پر فعال اور برقرار ہیں، گورنر چیف سیکرٹری اور آئی جی کو بلا رہے ہیں اور غیر آئینی اجلاس منعقد کر رہے ہیں، گورنر کا اس نوعیت کے اجلاس کی صدارت کرنا آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے، پیپلز پارٹی ماضی میں بھی غلط کردار ادا کر چکی ہے، موجودہ اقدامات سے ایک اور مشرقی پاکستان بنانے کی کوشش نظر آ رہی ہے، دو تہائی اکثریت والی صوبائی حکومت کی موجودگی میں گورنر کا اس طرح اجلاس منعقد کرنا ناقابل قبول ہے، پاکستان کو توڑنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، گزشتہ روز ہونے والے اجلاس کی آئینی حیثیت پر ایڈووکیٹ جنرل سے رائے لی جائے گی، وزیراعلیٰ کو ہٹانے کا آئینی طریقہ موجود ہے، اس کے لیے عدم اعتماد کا طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے، کسی کو جمہوریت پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے، گورنر نے غیر آئینی کام کیا ہے، جمہوریت کا نعرہ لگانے والی جماعت نے ماضی میں ذاتی مفادات کے لیے بنگلہ دیش کو پاکستان سے جدا کیا، ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینا پیپلز پارٹی کا وتیرہ رہا ہے، گورنر کی غیر آئینی سرگرمیوں کا مقصد صوبائی حکومت کو اشتعال دلانا اور ردعمل پر مجبور کرنا ہے، خیبرپختونخوا میں دوبارہ دہشتگردی مسلط کیے جانے کے بعد حالات مسلسل خراب کیے گئے ہیں، عمران خان اور ان کی حکومت نے ہمیشہ خیبرپختونخوا پولیس اور عوام کا ساتھ دیا ہے، 15 اکتوبر 2025 کو حلف اٹھانے کے بعد سے پولیس، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو مسلسل مضبوط کر رہے ہیں، خیبرپختونخوا پولیس کے پاس پاکستان میں موجود کسی بھی پولیس کے مقابلے میں جدید ترین اسلحہ اور آلات موجود ہیں، سی ٹی ڈی کے انفراسٹرکچر اور اسپیشل برانچ کو مضبوط بنانے کے لیے بھرپور سرمایہ کاری اور اقدامات کیے جا رہے ہیں، وفاقی حکومت کا ہمیشہ خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک رہا ہے، 2018 میں قبائلی اضلاع خیبرپختونخوا میں ضم کیے گئے لیکن آج تک مالی طور پر مکمل انضمام نہیں کیا گیا، قبائلی اضلاع کے وہ مالی حقوق آج تک نہیں دیے جا رہے جو ان کے انضمام کے وقت طے کیے گئے تھے، 2024 سے آج تک وفاقی حکومت مسلسل خیبرپختونخوا پر ملٹری آپریشن مسلط کرتی رہی ہے، پشاور: وفاق کی غلط پالیسیوں سے بے گھر ہونے والے لوگ سڑکوں پر روتے رہے لیکن انہیں آج تک مکمل معاوضہ نہیں ملا، قبائلی اضلاع کے متاثرین کے تقریباً 100 ارب روپے کے معاوضے اب بھی واجب الادا ہیں، جن کے گھر اجڑے، گھرانے متاثر ہوئے اور مساجد شہید ہوئیں وہ لوگ آج بھی اپنے معاوضوں کے لیے دربدر ہیں، پاکستان کے لیے قربانیاں دینے والے قبائلی خاندانوں کے لیے فی گھر صرف چار لاکھ روپے معاوضہ مقرر کیا گیا، اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی بیگمات کے پرس کروڑوں روپے کے ہوتے ہیں لیکن قربانی دینے والے قبائلی خاندانوں کو چار لاکھ روپے بھی نہیں دیے گئے، بکا خیل کیمپ میں شمالی وزیرستان کے متاثرین کو ماہانہ 37 سے 38 کروڑ روپے دینے کی کمٹمنٹ کی گئی تھی، بکا خیل کے متاثرین کو آج تک وعدے کے مطابق ماہانہ رقم فراہم نہیں کی جا رہی، وفاق کی غلط پالیسیوں سے بے گھر کیے گئے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، حکومت سنبھالنے کے بعد اب تک بے گھر افراد کے لیے 21 ارب روپے فراہم کیے ہیں، ملٹری آپریشنز اور ڈرون حملوں سے ہونے والے نقصانات کی ذمہ داری بھی صوبائی حکومت کو پوری کرنا پڑتی ہے، وفاق میں بیٹھ کر فیصلے کرنے والوں کو ان فیصلوں کے نتیجے میں عوام پر پڑنے والی مشکلات کا احساس نہیں، اگر وفاق خیبرپختونخوا کے ساتھ مخلص ہے تو صوبے کا این ایف سی شیئر اپ گریڈ کرے اور 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دینے والے صوبے کے تقریباً سوا ارب روپے کے واجبات ادا کرے، دہشتگردی کا مقابلہ بھی کرنا ہے اور وفاق کی غلط پالیسیوں سے پیدا ہونے والے حالات کا بھی سامنا کرنا ہے، خیبرپختونخوا حکومت اور پولیس امن و امان کے قیام کے لیے سنجیدہ ہیں، پولیس کو ذاتی نوکر بنا کر دوسرے کاموں میں لگانا غلط ہے، خیبرپختونخوا کے اسٹیک ہولڈرز کی پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں امن قائم کیا جا سکتا ہے، 22 سال میں 14 ہزار انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز اور 22 بڑے ملٹری آپریشنز کے باوجود امن قائم نہیں ہو سکا، 22 سال میں 80 ہزار جانوں کی قربانی کے باوجود امن نہ آنا وفاقی پالیسی کی ناکامی ہے، 22 سال بعد بھی خیبرپختونخوا میں امن کا مسئلہ موجود ہے، وفاقی حکومت سنجیدہ ہے تو دہشتگردی کے خلاف پالیسی تبدیل کرے، خیبرپختونخوا کے تعاون نہ کرنے کا بہانہ قابل قبول نہیں، بلوچستان

About