@silentstrength9661: میں ہر وہ رات نہیں بھولتی! جس میں میرا دم غم سے گھٹتا رہا! میرا دل دُکھ سے سکڑ گیا! اور مجھے اپنے ارد گرد کوئی نہیں ملا! میں وہ راتیں کیسے بھول جاؤں؟ جب میرا دل سینے میں چیخ رہا تھا اور میری زبان خاموش تھی۔ جب آنسو گالوں پر نہیں، دل پر گر رہے تھے۔ جب میں نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل اٹھایا کہ کسی کو بتا دوں میں ٹھیک نہیں ہوں، اور پھر یہ سوچ کر رکھ دیا کہ کس کو بتاؤں؟ کون سنے گا؟ کوئی نہیں تھا، سچ میں کوئی نہیں تھا۔ وہ سارے لوگ جو کہتے تھے ہم تمہارے اپنے ہیں، وہ اس رات سو رہے تھے۔ اور میں جاگ رہی تھی، اپنے غم کے ساتھ اکیلی۔ میں مری نہیں ہوں! نہ ہی دنیا ختم ہوئی ہے! ہاں، صبح ہوئی، سورج نکلا، لوگ پھر سے ہنسے، دنیا پھر سے چلی۔ لیکن اس ایک رات نے مجھے ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ اس رات میں نے جان لیا کہ لوگ صرف خوشی میں اچھے لگتے ہیں، غم میں تو اپنا سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ اس رات میں نے جان لیا ہے کہ جینے کے لیے تمہارا خود اپنے بل بوتے پر مضبوط ہونا ضروری ہے! اب میں کسی کے کندھے کا انتظار نہیں کرتی، میں نے خود کو اپنا کندھا بنا لیا ہے۔ اب میں کسی سے یہ نہیں کہتی کہ مجھے سنبھال لو، میں خود کو خود سنبھال لیتی ہوں۔ کیونکہ جو راتیں اکیلے رو کر گزری ہوں، وہی عورت کو پتھر سے لوہا بنا دیتی ہیں۔ اب مجھے کوئی توڑ نہیں سکتا، کیونکہ میں اس رات ٹوٹ کر خود کو جوڑنا سیکھ چکی ہوں۔