@hesrtx467: #thebigbangtheory #movies #edit

hesrtx467
hesrtx467
Open In TikTok:
Region: US
Wednesday 07 October 2026 05:57:54 GMT
885
28
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @hesrtx467, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کبھی کبھی انسان کی تھکن جسم کی حدوں سے نکل کر روح کے اُن گوشوں تک جا پہنچتی ہے جہاں الفاظ بھی اپنی معنویت کھو بیٹھتے ہیں؛ پھر زندگی محض ایّام کا تسلسل نہیں رہتی بلکہ ایک ایسی طویل مسافت بن جاتی ہے جس میں ہر قدم اپنے ہی ملبے پر رکھنا پڑتا ہے۔ آدمی بظاہر لوگوں کے درمیان موجود رہتا ہے، گفتگو بھی کرتا ہے، مسکراتا بھی ہے، اپنے فرائض کی ادائیگی بھی کرتا ہے، مگر اُس کے باطن میں ایک ایسی خاموش ویرانی اتر چکی ہوتی ہے جس کا شور کسی دوسرے کان تک نہیں پہنچتا۔ بعض اوقات دل کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اُس کے حصے کی خوشیاں کسی اور تقدیر کے نام لکھ دی گئی ہوں اور اُس کے ہاتھ میں صرف اُن ساعتوں کی بازگشت رہ گئی ہو جو کبھی اُس کی تھیں ہی نہیں۔ ایسے مقام پر انسان کسی اختتام کا نہیں، اُس بوجھ سے رہائی کا طلب گار ہوتا ہے جو مدتوں سے اُس کی روح پر تہہ در تہہ جم رہا ہو۔ پھر اُسے یاد آتا ہے کہ دنیا کے سامنے جن شکستوں کی وضاحت ممکن نہیں، اُن کے لیے بھی ایک در ہے جہاں دلیل نہیں، صرف دل دیکھا جاتا ہے؛ جہاں انسان اپنی محرومیوں کا حساب، اپنی خاموشیوں کا بوجھ، اپنی بے نام کسک اور اپنی تمام شکستہ خواہشیں رکھ کر صرف اتنا کہہ سکتا ہے کہ یا رب، جو بوجھ میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکا، تُو اُس کا مفہوم بھی جانتا ہے؛ اب میرے وجود کو اُس سکون سے آشنا کر دے جس کی تلاش میں میں مدتوں سے اپنے ہی اندر بھٹکتا رہا ہوں @دِلٌرباٌ سَنجٌرَانیٌ  @Bilal Ashraf  @Abdullah Shah
کبھی کبھی انسان کی تھکن جسم کی حدوں سے نکل کر روح کے اُن گوشوں تک جا پہنچتی ہے جہاں الفاظ بھی اپنی معنویت کھو بیٹھتے ہیں؛ پھر زندگی محض ایّام کا تسلسل نہیں رہتی بلکہ ایک ایسی طویل مسافت بن جاتی ہے جس میں ہر قدم اپنے ہی ملبے پر رکھنا پڑتا ہے۔ آدمی بظاہر لوگوں کے درمیان موجود رہتا ہے، گفتگو بھی کرتا ہے، مسکراتا بھی ہے، اپنے فرائض کی ادائیگی بھی کرتا ہے، مگر اُس کے باطن میں ایک ایسی خاموش ویرانی اتر چکی ہوتی ہے جس کا شور کسی دوسرے کان تک نہیں پہنچتا۔ بعض اوقات دل کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اُس کے حصے کی خوشیاں کسی اور تقدیر کے نام لکھ دی گئی ہوں اور اُس کے ہاتھ میں صرف اُن ساعتوں کی بازگشت رہ گئی ہو جو کبھی اُس کی تھیں ہی نہیں۔ ایسے مقام پر انسان کسی اختتام کا نہیں، اُس بوجھ سے رہائی کا طلب گار ہوتا ہے جو مدتوں سے اُس کی روح پر تہہ در تہہ جم رہا ہو۔ پھر اُسے یاد آتا ہے کہ دنیا کے سامنے جن شکستوں کی وضاحت ممکن نہیں، اُن کے لیے بھی ایک در ہے جہاں دلیل نہیں، صرف دل دیکھا جاتا ہے؛ جہاں انسان اپنی محرومیوں کا حساب، اپنی خاموشیوں کا بوجھ، اپنی بے نام کسک اور اپنی تمام شکستہ خواہشیں رکھ کر صرف اتنا کہہ سکتا ہے کہ یا رب، جو بوجھ میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکا، تُو اُس کا مفہوم بھی جانتا ہے؛ اب میرے وجود کو اُس سکون سے آشنا کر دے جس کی تلاش میں میں مدتوں سے اپنے ہی اندر بھٹکتا رہا ہوں @دِلٌرباٌ سَنجٌرَانیٌ @Bilal Ashraf @Abdullah Shah

About