تو پھر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے یہ کیوں فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل تمام انبیاء وفات پا گئے ہیں؟
2026-10-10 10:23:07
20
ALONE BOY :
Kia ya waki sach ha please koi Rahnamai fermay please 😥😭
2026-10-08 08:21:43
6
khalid khanzada :
ایک دفعہ حضرت عزیر علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک بستی سے گزر ہوا وہ بستی ایک بادشاہ نے نست و نابود کر دی تھی حضرت عزیر علیہ السلام نے اپنے دل میں یہ کہا کہ اللہ اس بستی کو دوبارہ کیسے اباد کرے گا تو اللہ تعالی نے ان کو اسی وقت موت دی اور پھر جب اٹھا لیا تھا تو اللہ تعالی نے ان سے کہا کہ اپ کتنے عرصہ مرے رہے تو انہوں نے کہا ایک دن تو اللہ تعالی نے کہا ایک دن نہیں بلکہ سو سال اپ یہاں پر پڑے رہے تھے ان کے ساتھ ایک دراز گوشت یعنی خچر بھی تھا جو مر چکا تھا اور کھانا ایسا تھا کہ جو چند دنوں میں چند گھنٹوں میں خراب ہونے والا تھا تو کہانا اسی طرح تازہ پڑا ہوا تھا اور گدھے کی ہڈیاں ہڈیاں ہو چکی تھی تو اللہ تعالی نے کہا جس طرح میں نے تمہیں دوبارہ زندہ کیا اسی طرح اس بستی کو دوبارہ میں اباد کروں گا سورہ بقرہ ایت نمبر 259 میں یہ واقعہ مذکور ہے
2026-10-08 17:00:05
144
Waseem Bhiii :
یہ واقعہ آدھا اپلوڈ کیا ہے ادریس علیہ السلام آج بھی آسمانوں پہ موجود ہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور جنت کی سیر کے بعد آپ علیہ السلام کو چھٹے/ چوتھے آسمان پہ روک دیا گیا
2026-10-08 21:48:19
28
Sheikh Mujeeb.تنہائی کا بادشاہ :
معراج کے سفر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ادریس سے چھوتھے آسمان میں ملے۔۔نیی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جنت کوئی پیغمبر داخل نہیں ہوسکتا
2026-10-10 16:12:18
16
★͙≛͙⃝͙❤️♡پردیسی کی گڑیا♡💜༄ :
ya mery Rab hamen bhi jannatul firdoaus nasib farmaa ameen
2026-10-08 15:12:00
112
🍁 :
بیشک قرآن ہاک سچی کتاب ہے جو اس میں لکھا ہے بس وہی سچ ہے باقی سب من گھڑت ہیں
2026-10-11 04:43:20
5
Umar khokhar :
Kitna pyara Islam Deen hai Hmaray ....Ya Allah hum sb ko maaf kar day ....Beshak TU Maaf Karnay walay hai ..... MashaAllah
2026-10-09 06:16:51
9
♥️ *Syeda Aamir* ♥️ :
اللہ اکبر
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
2026-10-16 17:02:28
2
ghulam Murtaza :
ham be inshallah ak din in k sath jannat mn hon gy inshallah
2026-10-09 07:06:04
13
Muhammad Sami :
اللہ ہم کو بھی جنت جیسی عظیم نعمت سے نوازے گا ہماری کوشش ہے انشاءاللہ
2026-10-09 07:10:45
6
sigma rule 🤬 :
To pir jab Hazrat Muhammad SAW nai jannat Mai Hazrat Usman رضہ اللّٰہ غنہ ki tilawat ki awaz jannat Mai sunni to aap SAW nai jibraiel se kaha muj se pehle bi jannat Mai koi ayya hai to jibraiel nai kaha ye to Usman ki tilawat ki awaz hai Jo Wo rat k waqt parta hai [Thinking][Thinking]
2026-10-08 18:21:18
5
sincere person ❤️ :
ya Allah ham gunah garon ko bakhsh Dena .
2026-10-09 09:40:58
1
shizakhan :
Allah hu akbar 🫀
2026-10-09 07:29:37
8
محمد خلیل کالرو :
subhan
2026-10-09 10:01:27
2
𝑰𝒏𝒏𝒐𝒄𝒆𝒏𝒕 _𝑮𝒊𝒓𝒍 :
subhanallah
2026-10-09 09:59:08
4
afzalangaria :
Masha Allah subhan allah ❤️
2026-10-09 04:17:55
2
khalid khanzada :
یہ واقعہ صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ حدیث کی کتابوں میں ملتا ہے اور نہ ہی اور نہ ہی قران میں حضرت ادریس علیہ السلام کا یہ قصہ موجود ہے حضرت ادریس علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں قران میں صرف اتنا اتا ہے 'ورفعناه مكانا عليا اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم نے اپ کو ایک بلند درجہ عطا فرمایا سورہ مریم ایت نمبر 57 میں اللہ تعالی نے صرف اتنا ہی کہا ہے حضرت ادریس علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں نبوت مل جانے کے بعد اللہ تعالی نے یہ ان کو فرمایا ہے حضرت ادریس علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں دو بڑے یہودی تھے جو بعد میں مسلمان ہو چکے تھے ایک کا نام احبار اور دوسرے کا نام وہب بن منبہ تھا وہ دونوں یہ واقعہ اسرائیلی روایات سے بیان کرتے ہیں مگر حضرت علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر البدایہ والنہایہ میں لکھتے ہیں کہ یہ اسرائیلی روایات میں سے ہے مگر اس کی صحیح سند نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچی۔ عقیدے کے طور پر تمام اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ موت کے بعد دوبارہ زندگی میں انا صرف معجزہ کے طور پر ہوا ہے وہ بھی حضرت عزیر علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ جن کو اللہ تعالی نے 100 سال کے بعد اٹھا لیا تھا اور اسمانوں پر زندہ صرف حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام ہے اور باقی تمام انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام بشمول حضرت ادریس علیہ الصلاۃ والسلام برزخی زندگی میں زندہ ہے اور اس دنیا سے وہ پردہ کر چکے ہیں خلاصہ یہ ہے کہ اس کو قران کا کوئی حصہ یا حدیث سمجھ کر بیان نہ کیا جائے اس واقعہ سے تو عبرت ملتی ہے مگر اس کو بیان کرنا بالکل قطعا درست نہیں ہے۔ تو اپ تمام حضرات سے التجا ہے کہ اس طرح کی کہانیاں سنی سنائی کہانیاں اگے بیان نہ کی جائے جب تک اس کی پوری تحقیق نہ کر لے یا محلے کسی بڑے عالم سے اس کی تحقیق کریں کیونکہ حدیث میں اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ بغیر تحقیق کے لوگوں تک بات پہنچائے تو اپ سب سے گزارش ہے کہ پہلے اپ مکمل تصدیق کر لیں پھر اگے ان کو بیان کریں جزاك الله خيرا 🙏🙏🙏🙏