حکومت سے ہمارا ایک سادہ سا سوال ہے:
اگر گزشتہ تقریباً 20 سال سے یہی پالیسی جاری ہے، خیبر پختونخوا میں 22 سے زیادہ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، تو پھر آج بھی دہشت گردی ختم کیوں نہیں ہوئی؟ بلکہ کئی علاقوں میں صورتحال دوبارہ خراب ہوتی نظر آ رہی ہے۔
اگر یہی پالیسی اتنی کامیاب ہے تو بلوچستان میں دہشت گردی مسلسل کیوں بڑھ رہی ہے؟ وہاں بھی آخر کب تک یہی طریقہ آزمایا جاتا رہے گا؟
ہماری بات کا مقصد کسی ادارے یا جوان کی قربانیوں کو کم کرنا نہیں۔ ہمارے فوجی اور سیکیورٹی اہلکار دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے رہے ہیں، لیکن سوال پالیسی کا ہے۔ اگر ایک ہی پالیسی بار بار آزمائی جائے اور مسئلہ مکمل طور پر حل نہ ہو تو وقت آ گیا ہے کہ اس پالیسی کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔
اگر موجودہ پالیسی واقعی کامیاب ثابت ہو رہی ہے تو اس کے نتائج واضح طور پر عوام کے سامنے آنے چاہئیں۔ اور اگر نتائج مطلوبہ نہیں ہیں تو پھر نئی، مؤثر اور دیرپا پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔
عوام امن چاہتے ہیں، مزید بدامنی، خوف اور مسلسل آپریشنز نہیں۔ ہمیں ایسی پالیسی چاہیے جو دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کو بھی حل کرے اور مستقل امن قائم کرے۔
2026-10-07 13:02:12
4
Sayed Yahya Fakhri :
2026-10-07 12:04:23
3
amirkhan045 :
2026-10-07 13:04:54
2
To see more videos from user @imoimoimo915, please go to the Tikwm
homepage.