@spacta5: #fyp #blacko

SUN SHERIF 🌞
SUN SHERIF 🌞
Open In TikTok:
Region: GH
Wednesday 07 October 2026 22:31:14 GMT
2304
390
9
5

Music

Download

Comments

danny.boy362
danny.boy362 :
💯💯💯
2026-10-08 02:33:29
0
rich.kagawa8
NBA 💵RICHES💕👹👿 :
😂😂😂
2026-10-08 00:37:35
0
kartell1030
Vybes Kartel :
[Victory][Victory][Victory]
2026-10-08 00:28:08
0
eronboy4
ERONBOY :
👍👍👍
2026-10-08 00:23:35
0
kweku.forman
Kweku Forman :
🥰🥰🥰
2026-10-07 22:38:51
0
pabloyephs
pablo :
🥰🥰🥰
2026-10-07 22:36:44
0
fatawu.1237
fatawu 123 :
🥰🥰🥰
2026-10-07 22:36:33
0
pastor.avonyoh
Pastor Avonyoh :
😳😳😳
2026-10-07 22:36:04
0
agenda787
AGENDA :
🥰🥰🥰
2026-10-08 11:09:40
0
To see more videos from user @spacta5, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دَو میں پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا یہ شعر علامہ اقبال کی فکرِ خودی اور اسلامی غیرتِ ایمانی کا نچوڑ ہے۔ اقبال یہاں
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دَو میں پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا یہ شعر علامہ اقبال کی فکرِ خودی اور اسلامی غیرتِ ایمانی کا نچوڑ ہے۔ اقبال یہاں "غیرت" کو ایک ایسی عظیم صفت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو دنیا کی کشمکش، جدوجہد اور مقابلے کے میدان میں انسان کو عزت، بلندی اور قیادت عطا کرتی ہے۔یہاں "جہانِ تگ و دَو" سے مراد دنیا کی وہ زندگی ہے جو مسلسل کوشش، جدوجہد، محنت اور چیلنجز سے بھرپور ہے۔ اقبال فرماتے ہیں کہ اس دنیا میں اصل کامیابی کسی مادی طاقت یا دولت سے نہیں بلکہ "غیرت" سے حاصل ہوتی ہے۔"غیرت" کا مفہوم یہاں بہت وسیع ہے،دینی غیرت، قومی حمیت، خودداری، باطل کے آگے نہ جھکنے کا حوصلہ اور حق کے لیے کھڑے ہونے کا جذبہ۔ یہی غیرت انسان کو بے حس مخلوق سے زندہ انسان بناتی ہے، جو خود کو پہچانتا ہے اور اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔ یہاں "درویش" ایک سادہ، باعمل، خدا پر بھروسا رکھنے والے اور دنیا کی ظاہری چمک دمک سے بے نیاز شخص کی علامت ہے۔ اور "دارا" سے مراد دارا سکندر جیسا شہنشاہ ہے، جس کے سر پر دنیا کا تاج تھا۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگر درویش میں غیرت ہو، تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ اُسے سلطنتیں عطا ہوں، حکمرانی ملے، اور اس کے کردار کی عظمت بادشاہوں کو مات دے دے۔ درویش کا وقار اس کے باطن کی طاقت میں ہوتا ہے، نہ کہ کسی تخت یا تاج میں۔ آج کا مسلمان، جو اپنی روحانی عظمت اور غیرت کو بھلا بیٹھا ہے، اقبال کے اس پیغام سے سیکھ سکتا ہے کہ صرف تعلیم، دولت یا طاقت کچھ نہیں دیتی اصل کامیابی اور سربلندی غیرتِ ایمانی اور کردار کی سچائی میں ہے۔ اقبال کے اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ غیرت — یعنی خودداری، دینی شعور، اور حق پر ڈٹے رہنے کا جذبہ انسان کو بلندیوں تک لے جا سکتی ہے۔ یہ غیرت ہی ہے جو انسان کو ظاہری طاقتوں سے بالا تر کر کے اُسے دنیا میں اثر و رسوخ عطا کرتی ہے۔ نظم: بُڈھّے بلوچ کی نِصیحت بیٹے کو کتاب: ارمغان حجاز

About