@@ishtiaqueali mughal:⚠️ایک دن ایسا آنے والا ہے جب جوانی بھی جواب مانگے گی!
ذرا اپنے دل سے پوچھو…
اللہ پاک نے ہمیں جوانی دی، صحت دی، آنکھیں دیں، کان دیے، زبان دی، طاقت دی، وقت دیا، عقل دی—مگر ہم نے ان نعمتوں کو کہاں استعمال کیا؟
کتنے گھنٹے گانوں میں گزر گئے؟
کتنے لمحات موبائل اور بے مقصد مشغولیات میں گزر گئے؟
کتنی مرتبہ نگاہ کو حرام سے نہ بچایا؟
کتنی نمازیں قضا ہوئیں؟
کتنے دن قرآن کھولے بغیر گزر گئے؟
کتنی مرتبہ گناہ کے بعد بھی توبہ کو مؤخر کرتے رہے؟
قیامت کے دن یہی زندگی ہمارے سامنے ہوگی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن بندے کے قدم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے اس کی عمر کے بارے میں نہ پوچھا جائے کہ اسے کہاں خرچ کیا، اس کے علم کے بارے میں نہ پوچھا جائے کہ اس پر کیا عمل کیا، مال کے بارے میں نہ پوچھا جائے کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، اور جسم کے بارے میں نہ پوچھا جائے کہ اسے کہاں کھپایا۔
(جامع ترمذی، حدیث 2417؛ امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا)
اور جوانی کے بارے میں خصوصی سوال والی روایت بھی جامع ترمذی 2416 میں منقول ہے: جوانی کہاں کھپائی؟
سوچو!
جس جوانی پر آج ہمیں ناز ہے، کل اسی کا حساب دینا ہے۔
اور ہمارے نبی کریم ﷺ… جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا، اپنی امت کے غم میں روئے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہاتھ اٹھا کر فرمایا:
"اے اللہ! میری امت، میری امت!"
اور آپ ﷺ رو پڑے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل علیہ السلام کو بھیجا اور فرمایا کہ محمد ﷺ سے پوچھو انہیں کس چیز نے رلایا، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم آپ ﷺ کو آپ کی امت کے بارے میں راضی کر دیں گے اور آپ کو رنجیدہ نہیں کریں گے۔
(صحیح مسلم، حدیث 202)
ذرا سوچیں…
وہ نبی ﷺ ہماری فکر میں روئے،
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے دین کے لیے اپنی جوانیاں قربان کر دیں،
اور ہم اپنی جوانیاں کن چیزوں میں ضائع کر رہے ہیں؟
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور اہلِ بیتِ اطہار کی زندگی ہمیں عبادت، صبر، حیا اور اللہ کی طرف رجوع کا درس دیتی ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی راحتیں چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیا اور دین کے لیے قربانیاں پیش کیں۔
تو اے میرے بھائیو اور بہنو!
ابھی وقت ہے۔
نماز کی طرف لوٹ آؤ۔
قرآن کی طرف لوٹ آؤ۔
توبہ کی طرف لوٹ آؤ۔
نگاہوں کی حفاظت کرو۔
گانے، فحاشی اور گناہوں سے اپنے دل کو بچاؤ۔
اپنی جوانی کو اللہ تعالیٰ کی رضا میں لگا دو۔
یاد رکھو:
موت سے پہلے توبہ کا دروازہ کھلا ہے،
لیکن موت کے بعد عمل کا دروازہ بند ہو جائے گا۔
آج تم خود اپنے اعمال بدل سکتے ہو؛
کل تمہارے اعمال تمہارا فیصلہ
2026-10-08 09:05:11
0
To see more videos from user @kashmirii6862, please go to the Tikwm
homepage.