@.enami.yae: caramelldansen🎶🌽✨️ウッーウッーウマウマ(゚∀゚)#手描きアニメ #animation #アニメーション #白上フブキ #ホロライブ

耶絵えなみ / Enami Yae
耶絵えなみ / Enami Yae
Open In TikTok:
Region: JP
Thursday 08 October 2026 09:38:25 GMT
9568
1779
25
65

Music

Download

Comments

annisalicia0
Annis Alicia :
Oh my god! It is absolutely amazing to see my fave dancing to this song!
2026-10-09 11:49:03
0
nata.hololive2009holoota
哪吒 :
可愛い❤可愛すぎてステッカー作っちゃった😊
2026-10-09 09:24:59
10
user8715997143507
風流 凪💻🌿 :
フブさん可愛いしすこん部も可愛い
2026-10-09 14:47:43
1
aaaaaaaa.abc
センコウ ホロ絵描き :
懐かし曲"(∩>ω<∩)"可愛いすぎる💪💪💪‹‹\(´ω` )/››‹‹\(  ´)/›› ‹‹\( ´ω`)/››
2026-10-08 10:41:15
3
tok3_yukimin
tok.3☃️🔴 :
2026-10-09 08:20:50
3
user1208100072681
着ぐるーみー :
懐かしい!可愛い!!
2026-10-09 16:57:17
0
kila.illustrator
kila_1121 :
めっちゃくちゃ可愛い😭😭😭
2026-10-09 16:12:21
0
mk2.kkp
MK2 KKP :
最高だな
2026-10-08 10:59:51
1
user863413627878
芝生 :
めちゃくちゃ可愛いい
2026-10-09 14:12:06
0
yaseynosuconvu
🦊野生のすこん部🌽 :
うぽつ^p^
2026-10-09 13:27:53
0
yuupon19690
鴨ネギ :
2026-10-09 11:39:38
1
zerosiki322409763
零式🌽🐾 :
ふぶさん可愛いーーーーー🥰
2026-10-09 13:19:20
0
user542751481494
大阪青年 :
2026-10-09 12:40:53
0
momonga07223
MOMONGA0722 :
2026-10-09 13:02:16
0
masimaro_salupainter
マシマロ :
食べも いいか? この 子猫ちゃんを?
2026-10-09 13:53:44
0
kuunaa2491
東儀白 :
🥰🥰🥰
2026-10-09 08:55:22
1
argaskuntul
ARGA :
:>
2026-10-09 13:12:30
0
giovanni.martinez954
Giovanni Martinez W20 :
♥️♥️♥️
2026-10-09 13:06:42
0
may_anime7941221
mAy@趣味垢 :
🥰🥰🥰
2026-10-09 11:09:03
0
user4190046274152
user4190046274152 :
🥰🥰🥰
2026-10-09 15:13:39
0
To see more videos from user @.enami.yae, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#نانا پاٹیکر کی زندگی اور وفات تک کا سفر نانا پاٹیکر بھارتی فلمی دنیا کے ان منفرد فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی غیر معمولی اداکاری، مضبوط مکالمہ نگاری اور حقیقت سے قریب کرداروں کے ذریعے لاکھوں لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔ ان کا اصل نام وشواناتھ پاٹیکر تھا۔ وہ یکم جنوری 1951ء کو مہاراشٹرا کے علاقے مروڈ-جنجیرہ میں پیدا ہوئے۔ بعد میں انہوں نے ہندی اور مراٹھی سینما میں اداکار، ہدایت کار اور مصنف کی حیثیت سے اپنی الگ پہچان بنائی۔ ابتدائی زندگی نانا پاٹیکر کا بچپن آسان نہیں تھا۔ ان کا تعلق ایک مراٹھی خاندان سے تھا اور کم عمری میں ہی انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہی حالات نے ان کی شخصیت میں محنت، سادگی اور زندگی کی حقیقتوں کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی۔ انہوں نے ممبئی کے Sir J. J. Institute of Applied Art سے تعلیم حاصل کی۔ نانا نے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے تھیٹر سے وابستگی اختیار کی۔ اسٹیج نے انہیں اداکاری کے بنیادی اصول سکھائے اور بعد میں یہی تجربہ ان کے فلمی کیریئر کی مضبوط بنیاد بنا۔ فلمی سفر کا آغاز نانا پاٹیکر نے 1978ء کی فلم گمن (Gaman) سے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ ابتدائی دور میں انہیں بہت زیادہ شہرت نہیں ملی، لیکن وہ مسلسل مختلف فلموں میں کام کرتے رہے اور اپنی اداکاری کا لوہا منواتے گئے۔ 1980ء کی دہائی کے آخر میں ان کا کیریئر تیزی سے آگے بڑھا۔ 1988ء کی فلم سلام بمبئی! نے انہیں مزید نمایاں کیا، جبکہ 1989ء کی فلم پرِندا (Parinda) میں ان کی اداکاری کو زبردست پذیرائی ملی۔ اس فلم پر انہیں نیشنل فلم ایوارڈ اور فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ کامیابی اور شہرت 1990ء کی دہائی نانا پاٹیکر کے فلمی کیریئر کا اہم ترین دور ثابت ہوئی۔ انہوں نے انگار، ترنگا، کرانتی ویر، اگنی ساکشی اور دیگر فلموں میں مختلف اور یادگار کردار ادا کیے۔ فلم کرانتی ویر (1994) میں ان کی اداکاری کو خاص طور پر سراہا گیا اور انہیں بہترین اداکار کا نیشنل فلم ایوارڈ ملا۔ اگنی ساکشی (1996) کے لیے بھی انہیں نیشنل فلم ایوارڈ ملا۔ اس طرح وہ اپنی اداکاری کے لیے مجموعی طور پر تین نیشنل فلم ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکاروں میں شامل ہوئے۔ نانا پاٹیکر کی خاص بات یہ تھی کہ وہ صرف ایک ہی قسم کے کردار تک محدود نہیں رہے۔ انہوں نے پولیس افسر، جرائم پیشہ شخص، سیاست دان، عام آدمی، فوجی اور مزاحیہ کردار سمیت مختلف نوعیت کے کردار ادا کیے۔ ہدایت کاری اور دیگر صلاحیتیں نانا پاٹیکر صرف اداکار ہی نہیں بلکہ مصنف اور ہدایت کار بھی تھے۔ انہوں نے پراہار: دی فائنل اٹیک (Prahaar: The Final Attack) کی ہدایت کاری کی اور اس میں اداکاری بھی کی۔ بعد کے برسوں میں بھی ان کی اداکاری کا سفر جاری رہا۔ اب تک چھپن، اپہارَن، ویلکم، راج نیتی، نٹسمراٹ اور دیگر فلموں میں انہوں نے یادگار کردار ادا کیے۔ خاص طور پر فلم ویلکم (2007) میں اودے شیٹی کا مزاحیہ کردار ان کے سنجیدہ اور سخت کرداروں سے بالکل مختلف تھا۔ اس کردار نے نئی نسل کے ناظرین میں بھی انہیں بے حد مقبول کیا۔ 2016ء کی مراٹھی فلم نٹسمراٹ میں ان کی اداکاری کو بھی بہت سراہا گیا۔ فوج سے وابستگی نانا پاٹیکر نے بھارتی ٹیریٹوریل آرمی سے بھی وابستگی رکھی۔ 1999ء کی کارگل جنگ کے دوران انہوں نے فوج کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ بعد میں انہیں اعزازی لیفٹیننٹ کرنل کا رینک بھی حاصل ہوا۔ یہ پہلو ان کی شخصیت کا ایک نسبتاً کم معروف مگر اہم حصہ تھا، کیونکہ وہ صرف فلمی دنیا تک محدود شخصیت نہیں تھے۔ سماجی خدمت نانا پاٹیکر نے اپنی شہرت کو سماجی خدمت کے لیے بھی استعمال کیا۔ وہ کسانوں اور خشک سالی سے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے کاموں سے وابستہ رہے۔ انہوں نے اداکار مکرند انسپرے کے ساتھ مل کر Naam Foundation کے ذریعے کسانوں اور ضرورت مند خاندانوں کی مدد کے لیے کام کیا۔ ان کی زندگی کا یہ پہلو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ سماجی مسائل کے بارے میں بھی حساس تھے۔ اعزازات نانا پاٹیکر کو ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں متعدد بڑے اعزازات ملے۔ ان میں تین نیشنل فلم ایوارڈز، فلم فیئر ایوارڈز اور دیگر اعزازات شامل ہیں۔ حکومتِ ہند نے 2013ء میں انہیں پدم شری سے بھی نوازا۔ آخری برس اور وفات نانا پاٹیکر نے عمر کے آخری حصے تک فلموں اور دیگر تخلیقی سرگرمیوں میں کام جاری رکھا۔ وہ ہندی کے ساتھ ساتھ مراٹھی سینما میں بھی فعال رہے اور اپنی مخصوص آواز، مکالمہ بولنے کے انداز اور جذباتی اداکاری کے باعث اپنی الگ شناخت برقرار رکھی۔ 8 اکتوبر 2026ء کو 75 سال کی عمر میں گوا میں ان کا انتقال ہوگیا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق انہیں گھر میں طبی ایمرجنسی پیش آئی، جس کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں انہیں مردہ قرار دیا گیا۔ ابتدائی رپورٹس میں دل کا دورہ/کارڈیک اریسٹ بتایا گیا ہے، جبکہ طبی قانونی کارروائی بھی کی گئی۔ ان کے بیٹے ملہار پاٹیکر
#نانا پاٹیکر کی زندگی اور وفات تک کا سفر نانا پاٹیکر بھارتی فلمی دنیا کے ان منفرد فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی غیر معمولی اداکاری، مضبوط مکالمہ نگاری اور حقیقت سے قریب کرداروں کے ذریعے لاکھوں لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔ ان کا اصل نام وشواناتھ پاٹیکر تھا۔ وہ یکم جنوری 1951ء کو مہاراشٹرا کے علاقے مروڈ-جنجیرہ میں پیدا ہوئے۔ بعد میں انہوں نے ہندی اور مراٹھی سینما میں اداکار، ہدایت کار اور مصنف کی حیثیت سے اپنی الگ پہچان بنائی۔ ابتدائی زندگی نانا پاٹیکر کا بچپن آسان نہیں تھا۔ ان کا تعلق ایک مراٹھی خاندان سے تھا اور کم عمری میں ہی انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہی حالات نے ان کی شخصیت میں محنت، سادگی اور زندگی کی حقیقتوں کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی۔ انہوں نے ممبئی کے Sir J. J. Institute of Applied Art سے تعلیم حاصل کی۔ نانا نے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے تھیٹر سے وابستگی اختیار کی۔ اسٹیج نے انہیں اداکاری کے بنیادی اصول سکھائے اور بعد میں یہی تجربہ ان کے فلمی کیریئر کی مضبوط بنیاد بنا۔ فلمی سفر کا آغاز نانا پاٹیکر نے 1978ء کی فلم گمن (Gaman) سے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ ابتدائی دور میں انہیں بہت زیادہ شہرت نہیں ملی، لیکن وہ مسلسل مختلف فلموں میں کام کرتے رہے اور اپنی اداکاری کا لوہا منواتے گئے۔ 1980ء کی دہائی کے آخر میں ان کا کیریئر تیزی سے آگے بڑھا۔ 1988ء کی فلم سلام بمبئی! نے انہیں مزید نمایاں کیا، جبکہ 1989ء کی فلم پرِندا (Parinda) میں ان کی اداکاری کو زبردست پذیرائی ملی۔ اس فلم پر انہیں نیشنل فلم ایوارڈ اور فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ کامیابی اور شہرت 1990ء کی دہائی نانا پاٹیکر کے فلمی کیریئر کا اہم ترین دور ثابت ہوئی۔ انہوں نے انگار، ترنگا، کرانتی ویر، اگنی ساکشی اور دیگر فلموں میں مختلف اور یادگار کردار ادا کیے۔ فلم کرانتی ویر (1994) میں ان کی اداکاری کو خاص طور پر سراہا گیا اور انہیں بہترین اداکار کا نیشنل فلم ایوارڈ ملا۔ اگنی ساکشی (1996) کے لیے بھی انہیں نیشنل فلم ایوارڈ ملا۔ اس طرح وہ اپنی اداکاری کے لیے مجموعی طور پر تین نیشنل فلم ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکاروں میں شامل ہوئے۔ نانا پاٹیکر کی خاص بات یہ تھی کہ وہ صرف ایک ہی قسم کے کردار تک محدود نہیں رہے۔ انہوں نے پولیس افسر، جرائم پیشہ شخص، سیاست دان، عام آدمی، فوجی اور مزاحیہ کردار سمیت مختلف نوعیت کے کردار ادا کیے۔ ہدایت کاری اور دیگر صلاحیتیں نانا پاٹیکر صرف اداکار ہی نہیں بلکہ مصنف اور ہدایت کار بھی تھے۔ انہوں نے پراہار: دی فائنل اٹیک (Prahaar: The Final Attack) کی ہدایت کاری کی اور اس میں اداکاری بھی کی۔ بعد کے برسوں میں بھی ان کی اداکاری کا سفر جاری رہا۔ اب تک چھپن، اپہارَن، ویلکم، راج نیتی، نٹسمراٹ اور دیگر فلموں میں انہوں نے یادگار کردار ادا کیے۔ خاص طور پر فلم ویلکم (2007) میں اودے شیٹی کا مزاحیہ کردار ان کے سنجیدہ اور سخت کرداروں سے بالکل مختلف تھا۔ اس کردار نے نئی نسل کے ناظرین میں بھی انہیں بے حد مقبول کیا۔ 2016ء کی مراٹھی فلم نٹسمراٹ میں ان کی اداکاری کو بھی بہت سراہا گیا۔ فوج سے وابستگی نانا پاٹیکر نے بھارتی ٹیریٹوریل آرمی سے بھی وابستگی رکھی۔ 1999ء کی کارگل جنگ کے دوران انہوں نے فوج کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ بعد میں انہیں اعزازی لیفٹیننٹ کرنل کا رینک بھی حاصل ہوا۔ یہ پہلو ان کی شخصیت کا ایک نسبتاً کم معروف مگر اہم حصہ تھا، کیونکہ وہ صرف فلمی دنیا تک محدود شخصیت نہیں تھے۔ سماجی خدمت نانا پاٹیکر نے اپنی شہرت کو سماجی خدمت کے لیے بھی استعمال کیا۔ وہ کسانوں اور خشک سالی سے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے کاموں سے وابستہ رہے۔ انہوں نے اداکار مکرند انسپرے کے ساتھ مل کر Naam Foundation کے ذریعے کسانوں اور ضرورت مند خاندانوں کی مدد کے لیے کام کیا۔ ان کی زندگی کا یہ پہلو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ سماجی مسائل کے بارے میں بھی حساس تھے۔ اعزازات نانا پاٹیکر کو ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں متعدد بڑے اعزازات ملے۔ ان میں تین نیشنل فلم ایوارڈز، فلم فیئر ایوارڈز اور دیگر اعزازات شامل ہیں۔ حکومتِ ہند نے 2013ء میں انہیں پدم شری سے بھی نوازا۔ آخری برس اور وفات نانا پاٹیکر نے عمر کے آخری حصے تک فلموں اور دیگر تخلیقی سرگرمیوں میں کام جاری رکھا۔ وہ ہندی کے ساتھ ساتھ مراٹھی سینما میں بھی فعال رہے اور اپنی مخصوص آواز، مکالمہ بولنے کے انداز اور جذباتی اداکاری کے باعث اپنی الگ شناخت برقرار رکھی۔ 8 اکتوبر 2026ء کو 75 سال کی عمر میں گوا میں ان کا انتقال ہوگیا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق انہیں گھر میں طبی ایمرجنسی پیش آئی، جس کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں انہیں مردہ قرار دیا گیا۔ ابتدائی رپورٹس میں دل کا دورہ/کارڈیک اریسٹ بتایا گیا ہے، جبکہ طبی قانونی کارروائی بھی کی گئی۔ ان کے بیٹے ملہار پاٹیکر
يعد برج المملكة واحدًا من أبرز المعالم المعمارية في الرياض، ورمزًا حديثًا يعكس تطور المملكة العربية السعودية ونهضتها العمرانية. منذ افتتاحه، أصبح البرج وجهة رئيسية للسكان والزوار، ليس فقط لارتفاعه المميز، بل أيضًا لما يقدمه من مرافق متنوعة وتجربة فريدة. تم افتتاح برج المملكة عام 2002، وهو مشروع تابع لشركة شركة المملكة القابضة التي يملكها الأمير الوليد بن طلال. يبلغ ارتفاع البرج حوالي 302 متر، ويتكون من 99 طابقًا، ما جعله لفترة طويلة أحد أطول المباني في الشرق الأوسط. تصميمه الفريد الذي يشبه فتحة القوسة في أعلى البرج يميزه عن بقية ناطحات السحاب، وقد صُمم ليكون تحفة معمارية تجمع بين الحداثة والهوية المحلية. يضم البرج مجموعة واسعة من المرافق، منها مكاتب إدارية، وشقق سكنية فاخرة، بالإضافة إلى فندق فورسيزونز الرياض الذي يعد من أفخم الفنادق في المدينة. كما يحتوي على مركز تسوق ضخم يعرف باسم مملكة مول، ويضم العديد من العلامات التجارية العالمية والمطاعم الراقية. من أبرز معالم البرج “جسر المشاهدة” الموجود في أعلاه، والذي يوفر إطلالة بانورامية مذهلة على مدينة الرياض. هذا الجسر يجذب الزوار الذين يرغبون في مشاهدة المدينة من ارتفاع شاهق والتقاط صور مميزة، خصوصًا في أوقات الغروب والليل حيث تتلألأ أضواء المدينة. يمثل برج المملكة أكثر من مجرد مبنى مرتفع؛ فهو رمز للتقدم الاقتصادي والطموح الحضري في المملكة. كما أصبح جزءًا من هوية الرياض الحديثة، ووجهة سياحية وثقافية تعكس روح العصر والانفتاح على العالم#foryou #fyp #fy
يعد برج المملكة واحدًا من أبرز المعالم المعمارية في الرياض، ورمزًا حديثًا يعكس تطور المملكة العربية السعودية ونهضتها العمرانية. منذ افتتاحه، أصبح البرج وجهة رئيسية للسكان والزوار، ليس فقط لارتفاعه المميز، بل أيضًا لما يقدمه من مرافق متنوعة وتجربة فريدة. تم افتتاح برج المملكة عام 2002، وهو مشروع تابع لشركة شركة المملكة القابضة التي يملكها الأمير الوليد بن طلال. يبلغ ارتفاع البرج حوالي 302 متر، ويتكون من 99 طابقًا، ما جعله لفترة طويلة أحد أطول المباني في الشرق الأوسط. تصميمه الفريد الذي يشبه فتحة القوسة في أعلى البرج يميزه عن بقية ناطحات السحاب، وقد صُمم ليكون تحفة معمارية تجمع بين الحداثة والهوية المحلية. يضم البرج مجموعة واسعة من المرافق، منها مكاتب إدارية، وشقق سكنية فاخرة، بالإضافة إلى فندق فورسيزونز الرياض الذي يعد من أفخم الفنادق في المدينة. كما يحتوي على مركز تسوق ضخم يعرف باسم مملكة مول، ويضم العديد من العلامات التجارية العالمية والمطاعم الراقية. من أبرز معالم البرج “جسر المشاهدة” الموجود في أعلاه، والذي يوفر إطلالة بانورامية مذهلة على مدينة الرياض. هذا الجسر يجذب الزوار الذين يرغبون في مشاهدة المدينة من ارتفاع شاهق والتقاط صور مميزة، خصوصًا في أوقات الغروب والليل حيث تتلألأ أضواء المدينة. يمثل برج المملكة أكثر من مجرد مبنى مرتفع؛ فهو رمز للتقدم الاقتصادي والطموح الحضري في المملكة. كما أصبح جزءًا من هوية الرياض الحديثة، ووجهة سياحية وثقافية تعكس روح العصر والانفتاح على العالم#foryou #fyp #fy

About