@gehri_chup..9: اتنا سوچنے سے anxiety تو ہوگی ہی ؟ سوچیں خود سے ختم نہیں کی جا سکتی سوچیں کبھی بھی خود کے اختیار میں نہیں ہوتی جیسے پلکوں کا جھپکنا انسان کے اختیار میں نہیں ویسے ہی یہ بھی بس سے باہر کی چیز ہے بیٹھے بیٹھے دل کا گھبرانا ،جو بات ہوئی ہی نہیں اسکو سوچ کر دل بھاری ہو جانا ،سانس نہ آنا ، نیند نہ آنا ، یہ سب خود کے اختیار میں نہیں ہوتا ۔۔۔ کوئی چاہ کر بھی ان سب پر کنٹرول نہیں کر سکتا "انزائٹی (Anxiety) صرف ایک لفظ نہیں ہے، یہ وہ کیفیت ہے جو انسان کو جیتے جی مار دیتی ہے۔ جب آنے والے کل کا ڈر آپ کے آج کا سکون چھین لے، اور آپ اس بات پر رونے لگیں جو ابھی تک ہوئی ہی نہیں، تو سمجھو آپ اندر سے بہت اکیلے ہو چکے ہو۔ دل کی دھڑکن کا اچانک تیز ہونا اور سانس کا رکنا یہ بتاتا ہے کہ اب برداشت کی حد ختم ہو چکی ہے۔ سب سے مشکل وہ جنگ ہوتی ہے جو انسان اپنے ہی دماغ کے ساتھ لڑ رہا ہو۔ جب باہر سب کچھ پرسکون ہو، لیکن اندر ایک طوفان برپا ہو۔ بات صرف اتنی ہوتی ہے کہ ہم کچھ چیزوں کو سوچ سوچ کر خود کو اس حد تک تھکا دیتے ہیں کہ دل بے چین اور روح بے بس ہو جاتی ہے۔ سانس پھولنے لگتی ہے اور ہاتھ کانپنے لگتے ہیں، پر دنیا کو صرف ہماری خاموشی نظر آتی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس مسکراہٹ کے پیچھے کتنی بار دل اندر سے ٹوٹا ہے۔" #fyppppppppppppppppppppppp #viralvideo #unfreezemyacount #viralvideo #unfrezzmyaccount