@qaziwassemabbas: لاہور کے رضوان کے ہاں شادی کے 13 سال بعد بیٹا پیدا ہوا تھا، جو ابھی صرف تین ماہ کا تھا۔ 18 جولائی 2024ء کی رات رضوان اپنے بھائی مبین کے ہمراہ قصور فیروز پور روڈ سے لاہور آرہے تھے کہ تھانہ مصطفیٰ آباد (للیانی) کی پولیس نے انہیں ناکے پر روکا۔ پولیس سے انکی کچھ تلخ کلامی ہوئی تو پولیس ان دونوں بھائیوں کو تھانے لے آئی۔ یہ رات دس بجے کی بات ہے۔ تھانے لا کر پولیس نے رضوان پر پہلی FIR دس بجکر تیس منٹ پر ڈکیتی کی دی۔ ٹھیک پانچ منٹ بعد ایک اور FIR رضوان پر دیدی گئی۔ ٹھیک تین گھنٹے بعد پولیس نے ایک اور سائنس لڑائی۔ اپنے ایک ٹاؤٹ سے ایک فیک 15 پر کال کروائی گئی کہ اسکے ساتھ ڈکیتی ہورہی ہے۔ بعد میں FIA انکوائری میں ثابت ہوا کہ اس کالر کی لوکیشن تھانے کے آس پاس ہی پائی گئی اور یہ اپنے دوسرے نمبر سے پولیس سے مسلسل رابطے میں تھا۔ چنانچہ رات گئے ایک تیسری FIR بھی دیدی گئی۔ اس FIR کے سلسلے میں پولیس رضوان کو تھانے سے باہر لے کر گئی اور اسکی پنڈلی پر گولی ماری۔ جس کو یہ نام دیا گیا کہ رضوان ڈکیتی کررہا تھا۔ پولیس 15 کال کے ریسپانس میں وہاں پہنچی تو رضوان اپنے ایک صابر نامی ساتھی کی فائرنگ سے زخمی ہوا پڑا تھا (حالانکہ رضوان رات دس بجے کا پولیس حراست میں تھا)۔ پولیس کئی گھنٹے زخمی رضوان کو ٹانگ سے شدید بہتے خون کے ساتھ ادھر ادھر گھماتی رہی اور بالآخر وہ انہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔ دونوں بھائیوں کے اہلخانہ کو ان کے بارے میں کوئی علم نہ تھا۔ اگلے روز پولیس نے انکے ایک بھائی عرفان کو کال کی کہ آپ کے بھائی کا انکاؤنٹر ہوگیا ہے۔ دوسرا بھائی زیرِ حراست ہے، اسے تب چھوڑیں گے جب آپ لکھ کردیں کہ پولیس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے گی۔ رضوان کے بھائی عرفان نے فی الوقت لاش لینے سے انکار کردیا اور مقامی مجسٹریٹ کو درخواست دی کہ اسے سیف سٹی، تھانے اور ہسپتال کے کیمروں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے، جو لے لیا گیا۔ مقتول رضوان کا بھائی عرفان قانونی کارروائی کیلئے کافی عرصہ عدالتوں اور پولیس افسران کے دفاتر میں چکر کاٹتا رہا۔ بالآخر اس نے "انسدادِ ٹارچر و قتل زیرِ حراست ملزمان قانون" کے تحت FIA کو درخواست دی کہ اسکے بھائی رضوان کا پولیس نے حراست کے دوران جعلی پولیس مقابلے میں قتل کردیا ہے، FIR درج کی جائے۔ FIA نے پھر ٹال مٹول سے کام لیا۔ جس پر معاملہ ایک بار پھر سیشن کورٹ پہنچا تو عدالت نے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا کہ ایک شہری جسکا سابقہ کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں ہے، اس پر چند گھنٹوں میں تین تین FIR دے کر اسے ریکارڈ یافتہ ملزم بنا کر اسکا مبینہ جعلی پولیس مقابلہ کردیا گیا۔ ایف آئی اے نے FIR درج کرلی۔ دورانِ تفتیش جب ایف آئی اے لاہور کی جانبداری سامنے آئے تو عرفان نے مقدمہ کی تفتیش تبدیل کرنے کی درخواست دی۔ عدالت کے حکم پر تفتیش ایف آئی اے گوجرانوالہ کو سپرد کردی گئی۔ FIA نے تیسری FIR کو تفتیش کا محور بنایا، جس میں پولیس کے مطابق وقوعہ ساڑھے چار بجے کا ہے۔ جبکہ عرفان کی حاصل کردہ ہسپتال کی CCTV فوٹیجز میں نظر آرہا ہے کہ پولیس ساڑھے تین بجے سے پہلے ہی رضوان کو مردہ حالت میں ہسپتال لاچکی تھی۔ FIA نے ایس ایچ او حسن عمران سمیت 7 پولیس اہلکاران کو گناہگار ٹھہرایا۔ ان ملزمان نے قصور سیشن کورٹ سے گرفتاری سے بچنے کیلئے ضمانت قبل حاصل کررکھی تھی، جسے انہوں نے 9 ماہ لٹکائے رکھا۔ جب وہاں سے ضمانت خارج ہوئی تو ملزمان نے لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت لے لی، جسے مزید کئی ماہ کھینچ کر گرفتاری سے بچتے رہے۔ بالآخر پچھلے ہفتے لاہور ہائیکورٹ نے انکی ضمانت خارج کی تو انہوں نے اپنے سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار ساتھیوں کی مدد سے وہاں سے فرار ہونا چاہا۔ لیکن وکلاء نے مداخلت سے یہ کوشش ناکام کرنا چاہی تو اس سے کچھ ہاتھا پائی کی افسوسناک صورتحال بھی پیدا ہوئی۔ خیر، FIA نے ان تمام ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ اگلے دن گوجرانوالہ کی ایک مقامی عدالت نے انکو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر FIA کے حوالے کردیا اور آج ریمانڈ کی مدت ختم ہونے پر انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔ عرفان کہتے ہیں کہ میرا بھائی تو واپس نہیں آسکتا۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ ان ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے تاکہ کسی اور کا بھائی یوں بیگناہ نہ مارا جائے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ☆ ایس ایچ او حسن عمران کو شاید اسی "کارکردگی" کی بنا پر بعد میں CCD میں بھی تعینات کیا گیا۔ مقتول رضوان کے بھائی عرفان ایک وکیل ہیں، وہ یہ تنِ تنہا دو سال سے زائد جدوجہد کرنے کے بعد آج ملزمان کو جیل بھجوا سکے ہیں۔ اندازہ کرلیں کہ اس طرح کتنے ہی بے گناہ رضوان جعلی مقابلوں کی بھینٹ چڑھ کر پولیس افسران کی شاباشی اور ترقی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اور یہ بھی کہ ایک عام آدمی کے لیے اس ظلم کے خلاف کھڑا ہونا کتنا مشکل اور صبر آزما کام ہے۔
Un logo k leay shrm ka Muqaam h jo aj b is SHO ki posts lgaa lgaa k promote kr rhyy hyn isyyy Allah hidaytt dy sbkooo Or in k ghr walii ko Sbrr dy Ameen
2026-10-09 02:02:33
11
⚖️ Advocate in Progress :
police ny aaj tak insaaf ni kiya
ya waqeel he ha jinho n isko andr krwa diya ha
beshak Allah insaf krny walo k Sath ha
2026-10-08 21:15:15
46
M Shahbaz bhatti 2🚔 :
bilkul Bhai police buht zalim hai
2026-10-09 04:22:01
6
Heritage Haveli by VENUS :
Such a sad story! I’m so sorry for the family!
2026-10-09 01:59:24
1
Maazkhan⚖️ :
اسی لیے میں چیخ چیخ کر اپنے انے والی نئی نسل کو بتا رہا ہوں کہ کم سے کم اپ گھر میں ایک بندہ وکیل بننے کی کوشش کرے چار سال کی ڈگری مکمل کر کے اپ ایک اچھی وہ چیز بن سکتے ہیں اپنے ملک کی خدمت کر سکتے ہیں اپنے خاندان کی حفاظت کر سکتے ہیں سلام پاکستان زندہ باد
2026-10-09 04:39:48
2
مرزا حسن ناصر :
لعنت اس ظلم کے نظام پر۔
2026-10-09 02:45:06
11
Mansar Hassan Official :
اس کا بہت آسان حل ہے لیکن اس ملک میں ووٹ کی ویلیو نہیں ہمارے مینڈیٹ کی کوئی اہمیت نہیں اس میں کسی حد تک نہیں بڑی حد تک پچھلی نسلیں شامل تھی وہ دولت شہرت اور طاقت سے مرعوب ہوکر ووٹ دیتی آئی انہیں دولت طاقت اور سیاسی شہرت والوں نے اور ان کو چلانے والوں نے یہ سسٹم کھڑا کیا اور سیاسی سسٹم اور سوسائٹی کی عادت بن گیا کبھی سنا ہے کہ محلے کے ایک عام عزت دار اور پڑھے لکھے سمجدار انسان کو ووٹ دیا ہو ایسا نہیں ہوتا لیکن آب لوگوں کی سوچ بدل رہی ہے اب سوال کرنا ہوگا سیاسی جماعتوں سے کہ ہمارے ووٹ کے قابل ہے تو اسے ووٹ کے لئے لوگوں کے مینڈیٹ کے لئے کھڑا کرو جس دن یہ سوال اٹھنا شروع ہوگا اس دن اچھے لوگ سیاست میں آنا شروع ہوں گے تب سسٹم بھی بدلے گا ظلم بھی کم ہوگا
2026-10-09 00:45:08
6
sszz3200 :
keep following your case. sir
2026-10-08 23:30:07
0
Basit Ali Wahid :
Lanat hai aise gandy galeez paleed system par
2026-10-09 03:56:28
3
TAQI SHEIKH 1 :
ماشاءاللہ عرفان صاحب اللہ تعالیٰ آپ کے بھائی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ درجات سے نوازیی اور ان پولیس آفیسرز کو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میی عبرت ناک سزا دیی گیی انشاء اللہ تعالیٰ
2026-10-09 04:26:33
2
sheen :
boht afsos Hota he is molq k log kis Tara zolm seh Rhy Hain
2026-10-09 04:48:30
0
R a x i R a n a 🇵🇰 :
Good Adv 1👍🏻⚖️
2026-10-09 04:47:37
0
پنڈاں 👑آلے :
Bs Isko saza milni chahye
2026-10-08 23:39:15
3
Thakur Shah :
ہمارے ملک میں کوئ قانون نہیں ہے😭😭😭😭😭یہاں ظلم پی ظلم ہے۔۔۔جس کی جتنی طاقت ہے اتنا ہی دوسروں کو تکلیف دیتا ہے
2026-10-09 01:22:39
5
ahsanali4374 :
asa nai hota ap achi story likhi he
2026-10-09 03:16:35
0
Bilal Bali🇵🇰.🇸🇦.🇦🇪✨ :
us ka Bhai Wakeel ji Kitna time lag gaya inssaf ki lie hum log tu bus amm awam hi 😭😭
2026-10-09 01:13:03
3
Faheem :
pakistan me jungle wala qanoo. bhi nhi hy. yeh badtreen misal hy
2026-10-09 00:40:02
3
Adnan_meher :
Allah pak karm kr is mulk py🥺
2026-10-09 01:31:16
0
TAQI SHEIKH 1 :
لعنت ایسے غلیظ نظام پر اور ایسے غلیظ پولیس آفیسر پر جو ظلم کرتے ہیی
2026-10-09 04:25:17
2
Ch Usman6503 :
Idr bach be gaya to ak adalat Allah pak ki be ha jaha sab ka hisab ho ga waha na pasa chala ga na sifarish chala gi koi Or afsos us din ko sab bol jata ha
2026-10-09 04:46:52
0
Abu harara :
i love you wakeel bahi
2026-10-09 03:40:39
4
Noshad Khan 2055 :
in ko ya akhtayar kis na deah ha
2026-10-09 05:04:40
0
زوار احمد پھپھرا :
یہ تو ہو گی ایک ایڈوکیٹ کے بھائی کی کہانی جس نے دوڑ دھوپ کر کے ملزمان کو گرفتار کروایا اگر یہی واقع کسی عام شہری کے ساتھ پیش آتا تو یہ پولیس کی وردی میں فرعون اس کا کیا حال کرتے جو شخص قانون کو سمجھتا ہے اس کو ان لوگوں نے اتنا زلیل کیا اور جس نے کبھی تھانے یا کچری کا کبھی منہ نہیں دیکھا اس کے ساتھ یہ کیا کرتے ہوں گے
2026-10-09 04:53:16
0
Smart :
پنجاب پولیس کی دہشت گردی
2026-10-09 04:47:36
0
Syed Noman🌸 :
یقین کریں جب وکلا کو کیس میں دو سال لگے تو عام عوام کا کیا ہوگا 😭
2026-10-09 04:47:14
0
To see more videos from user @qaziwassemabbas, please go to the Tikwm
homepage.