@danielrolimoficial: Não baixo a cabeça pra ninguém #reza #danielrolim #tiktok #danielrolimoficial #verdades 🌪️🕺🌪️

danielrolimoficial
danielrolimoficial
Open In TikTok:
Region: BR
Friday 09 October 2026 00:06:16 GMT
5081
313
10
20

Music

Download

Comments

xeko0921
Xeko :
毎回クオリティ高い
2026-10-09 00:11:47
2
user74430830
Maria Da Consolaç116 :
amém amém amém
2026-10-09 12:34:16
1
user357886619
KELLY SILVA :
verdade
2026-10-09 11:34:18
1
angelinewenzel2
凌惠嫻 :
給你一個大拇哥
2026-10-09 03:05:47
1
helooliver335
Helo :
Bem isso!
2026-10-09 03:35:50
1
barbaravcomacento
Bárbara :
Sim ,verdade!!
2026-10-09 16:27:08
0
bela.kikuchi5
Bela Kikuchi :
Só!!!!
2026-10-09 01:10:30
2
luciene.oliveira80
Luciene Oliveira :
isso aí bem eu
2026-10-09 16:06:02
0
maria.dos.anjos0143
Maria Dos anjos :
amém 🙏
2026-10-09 16:15:17
0
user379312593505
user379312593505 :
🥰🥰🥰
2026-10-09 17:24:18
0
To see more videos from user @danielrolimoficial, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کبھی کبھی ماں کی ایک معمولی سی بات دل کے اُس حصے کو چھو جاتی ہے جہاں انسان اپنی تمام کمزوریاں چھپا کر رکھتا ہے۔ جب وہ کہتی ہے، “میرے بعد تمہیں کسی نے نہیں پوچھنا،” تو یہ صرف ایک جملہ نہیں ہوتا، اس میں ایک ماں کی پوری زندگی کی فکر، محبت اور بےغرض وابستگی چھپی ہوتی ہے۔ ماں جانتی ہے کہ دنیا اُس وقت تک اپنے لہجے میں نرمی رکھتی ہے جب تک انسان مضبوط دکھائی دیتا ہے؛ مگر جب حالات انسان کو توڑنے لگیں تو بہت سے رشتوں کی حقیقت بھی سامنے آ جاتی ہے۔ ماں وہ واحد ہستی ہے جو اولاد کی ناکامی میں بھی اُس کے لیے دعا کرتی ہے، اُس کی خاموشی میں بھی اُس کا درد پڑھ لیتی ہے اور اُس کے بکھرنے سے پہلے ہی اُس کے لیے فکر مند ہو جاتی ہے۔ شاید اسی لیے ماں کے بعد انسان صرف ایک شخص نہیں کھوتا، بلکہ اپنی زندگی کا وہ سب سے محفوظ گوشہ کھو دیتا ہے جہاں اسے بغیر کسی دلیل کے قبول کیا جاتا تھا۔ دنیا میں لوگ آپ کی کامیابی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، مگر ماں آپ کی شکست کو بھی اپنی دعا کا حصہ بنا لیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ماں کی قدر اُس وقت نہیں ہونی چاہیے جب اُس کی آواز یاد بن جائے؛ اُس وقت ہونی چاہیے جب وہ ہمارے سامنے بیٹھ کر ہماری فکر کر رہی ہو۔ کیونکہ ماں کا سایہ زندگی کی وہ نعمت ہے جس کی قیمت انسان اکثر اُس کے اٹھ جانے کے بعد سمجھتا ہے۔ ماں کی قدر اُس وقت نہیں ہونی چاہیے جب اُس کی آواز صرف یاد بن کر رہ جائے؛ اُس وقت ہونی چاہیے جب وہ ہمارے سامنے موجود ہو، ہماری فکر میں جاگتی ہو اور ہماری خاموشی میں بھی ہمارا درد محسوس کرتی ہو۔ کیونکہ ماں صرف ایک رشتہ نہیں، زندگی کی وہ آخری پناہ گاہ ہے جہاں انسان دنیا سے ہار کر بھی خود کو محفوظ سمجھتا ہے۔ شاید اسی لیے جب ماں کہتی ہے، “میرے بعد تمہیں کسی نے نہیں پوچھنا،” تو آنکھیں صرف نم نہیں ہوتیں، دل کے اندر ایک خوف سا اتر جاتا ہے—کہ جس دن یہ آواز خاموش ہو گئی، اُس دن دنیا شاید ویسی ہی رہے گی، مگر ہماری دنیا ہمیشہ کے لیے بدل جائے گی۔
کبھی کبھی ماں کی ایک معمولی سی بات دل کے اُس حصے کو چھو جاتی ہے جہاں انسان اپنی تمام کمزوریاں چھپا کر رکھتا ہے۔ جب وہ کہتی ہے، “میرے بعد تمہیں کسی نے نہیں پوچھنا،” تو یہ صرف ایک جملہ نہیں ہوتا، اس میں ایک ماں کی پوری زندگی کی فکر، محبت اور بےغرض وابستگی چھپی ہوتی ہے۔ ماں جانتی ہے کہ دنیا اُس وقت تک اپنے لہجے میں نرمی رکھتی ہے جب تک انسان مضبوط دکھائی دیتا ہے؛ مگر جب حالات انسان کو توڑنے لگیں تو بہت سے رشتوں کی حقیقت بھی سامنے آ جاتی ہے۔ ماں وہ واحد ہستی ہے جو اولاد کی ناکامی میں بھی اُس کے لیے دعا کرتی ہے، اُس کی خاموشی میں بھی اُس کا درد پڑھ لیتی ہے اور اُس کے بکھرنے سے پہلے ہی اُس کے لیے فکر مند ہو جاتی ہے۔ شاید اسی لیے ماں کے بعد انسان صرف ایک شخص نہیں کھوتا، بلکہ اپنی زندگی کا وہ سب سے محفوظ گوشہ کھو دیتا ہے جہاں اسے بغیر کسی دلیل کے قبول کیا جاتا تھا۔ دنیا میں لوگ آپ کی کامیابی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، مگر ماں آپ کی شکست کو بھی اپنی دعا کا حصہ بنا لیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ماں کی قدر اُس وقت نہیں ہونی چاہیے جب اُس کی آواز یاد بن جائے؛ اُس وقت ہونی چاہیے جب وہ ہمارے سامنے بیٹھ کر ہماری فکر کر رہی ہو۔ کیونکہ ماں کا سایہ زندگی کی وہ نعمت ہے جس کی قیمت انسان اکثر اُس کے اٹھ جانے کے بعد سمجھتا ہے۔ ماں کی قدر اُس وقت نہیں ہونی چاہیے جب اُس کی آواز صرف یاد بن کر رہ جائے؛ اُس وقت ہونی چاہیے جب وہ ہمارے سامنے موجود ہو، ہماری فکر میں جاگتی ہو اور ہماری خاموشی میں بھی ہمارا درد محسوس کرتی ہو۔ کیونکہ ماں صرف ایک رشتہ نہیں، زندگی کی وہ آخری پناہ گاہ ہے جہاں انسان دنیا سے ہار کر بھی خود کو محفوظ سمجھتا ہے۔ شاید اسی لیے جب ماں کہتی ہے، “میرے بعد تمہیں کسی نے نہیں پوچھنا،” تو آنکھیں صرف نم نہیں ہوتیں، دل کے اندر ایک خوف سا اتر جاتا ہے—کہ جس دن یہ آواز خاموش ہو گئی، اُس دن دنیا شاید ویسی ہی رہے گی، مگر ہماری دنیا ہمیشہ کے لیے بدل جائے گی۔

About