@arsluwrites: ہم نے دنیا میں چیزوں کی قیمت لگانا تو سیکھ لیا، مگر انسان کی قدر پہچاننا بھول گئے۔ سڑک کنارے ایک خالی پلاٹ بھی ہو تو لوگ رُک کر اس کا بھاؤ پوچھتے ہیں، اس کے پھیلاؤ اور اس کی لوکیشن کی باتیں کرتے ہیں۔ مگر اسی سڑک پر کوئی تھکا ہارا انسان بیٹھا ہو تو نگاہیں خود بخود پھر جاتی ہیں۔ ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں اس کی حالت ہمارے ضمیر سے سوال نہ کر بیٹھے۔ مکان کی قیمت اس کی دیواروں سے نہیں، اس کی جگہ سے طے ہوتی ہے۔ اور انسان کی قیمت اس کے وجود سے نہیں، اس کی حیثیت سے طے کر دی جاتی ہے۔ جب تک اس کے پاس چھت ہے، نام ہے، پہچان ہے، وہ "کوئی" ہے۔ جس دن یہ سب چھن جائے، وہ بھیڑ میں رہ کر بھی "کوئی نہیں" بن جاتا ہے۔ سڑک پر بیٹھا شخص صرف بھوکا یا بے گھر نہیں ہوتا، وہ کسی کا بیٹا، کسی کا باپ اور کسی کا بھائی بھی ہوتا ہے۔ کبھی اس کے بھی خواب تھے اور کبھی اس کے بھی دروازے پر دستک ہوتی تھی۔ وقت نے بس اتنا کیا کہ اس کے سر سے چھت اور لوگوں کی آنکھوں سے اس کی عزت ہٹا دی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس دنیا میں اینٹ پتھر مہنگے ہوں اور انسان سستا، وہاں ترقی دیواروں کی ہوئی ہے، انسانیت کی نہیں۔ #trending #viral #deepquotes #unfreezemyacount #arsluwrites