@qureshidx55: جگا سکے نہ تیرے لب، لکیر ایسی تھی ہمارے بخت کی ریکھا بھی مِیر ایسی تھی یہ ہاتھ چُومے گئے، پھر بھی بے گلاب رهے جو رُت بھی آئی، خزاں کےسفیر ایسی تھی وہ میرےپاؤں چُھونےجُھکا تھا جِس لمحے جو مانگتا اُسے دیتی، امیر ایسی تھی شہادتیں میرے حق میں تمام جاتی تھیں مگر خموش تھے منصف، نظیر ایسی تھی کُتر کے جال بھی صیّاد کی رضا کے بغیر تمام عُمر نہ اُڑتی، اسیر ایسی تھی پھر اُسکے بعد نہ دیکھے وصال کے موسم جُدائیوں کی گھڑی چَشم گِیر ایسی تھی بس اِک نگاہ مجھے دیکھتا، چلا جاتا اُس آدمی کی محبّت، فقیر ایسی تھی رِدا کے ساتھ لُٹیرے کو زادِ رَہ بھی دیا تیری فراخ دلی میرے دِیر ایسی تھی کبھی نہ چاہنے والوں کا خُوں بہا مانگا نگارِ شہرِ سُخن بے ضمیر ایسی تھی #search