@gulsisters0: انسان کی فطرت میں یہ کمزوری موجود ہے کہ وہ اکثر دوسروں کی غلطیوں کو دیکھنے میں جلدی کرتا ہے، مگر اپنی خامیوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ جب ہم کسی دوسرے انسان کو گناہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو فوراً اسے برا بھلا کہنے اور اس کے کردار پر فیصلہ سنانے لگتے ہیں، جیسے ہم خود ہر عیب سے پاک ہوں۔ حالانکہ ہر انسان سے غلطی ہو سکتی ہے اور کسی کے ظاہر کو دیکھ کر اس کے باطن کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ دوسروں کی اصلاح کرنے سے پہلے ہمیں اپنے اعمال اور کردار کا جائزہ لینا چاہیے۔ دین ہمیں دوسروں کی عیب جوئی کے بجائے اپنی اصلاح اور اچھے اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔ یاد رکھیں! دوسروں کے گناہ گننے سے پہلے اپنے اعمال کا حساب کرنا زیادہ ضروری ہے، کیونکہ حقیقی نیکی دوسروں کو نیچا دکھانے میں نہیں بلکہ خود کو بہتر بنانے میں ہے۔