@khizer.hayat112: تجھ سے لازم تھی محبت، نادانی کب تھی ہم کو معلوم تھا تم نے نبھانی کب تھی اب جو اداس طبیعت ہے تو رونا کیسا؟ پہلے بھی میری کوئی شام سہانی کب تھی ہو گئی عمر رسیدہ تو یہ خیال آیا ہم پہ آئی وہ چند روز جوانی کب تھی ہم نے جینے کی تمنا ہی چھوڑ دی ورنہ زندگی ہم سے میرے دوست بیگانی کب تھی اب تیرے ہجر کو تہہ دل سے تسلیم کروں پہلے بھی قرب میں تیرے آسانی کب تھی میری تصویر جلاتے ہوئے کچھ سوچنا تھا ہاں تیرے پاس وہ میں تھا، نشانی کب تھی یہ تیرا درد ہی بہتا ہے رگوں میں ورنہ میرے اشعار میں اتنی روانی کب تھی دل کی ضد پہ ہم آس لگا ہی بیٹھے تم سے امید وفا ہم نے لگانی کب تھی تجھ کو غم نہ ہوا ہم سے بچھڑنے کا تیری مطلبی محبت، روحانی کب تھی..!🙏🙏 #attaullahkhanesakhelvi @آفتاب سَنّجرانیٌ @Muشai 333 @بَشْیْر بَلْوُچْ @😎سردار جہان خان ✨ @خِضرحیات @خِضرحیات