@sivaskulishaber58: #sondakika Sivasspor Pendikspor Karşısında İlk Golü Rey Manaj’ın Ayağından Buldu. #sivas #pendik #futbol #video

SivasKulis Haber
SivasKulis Haber
Open In TikTok:
Region: TR
Friday 09 October 2026 14:34:45 GMT
25552
463
5
2

Music

Download

Comments

mehmet..1986
Mehmet :
valla bu adam olmasa Sivas bitik osimen olmasa g.s bitik
2026-10-09 20:23:25
2
osman.tan83
Osman Tan :
kıral sıvas spor
2026-10-09 19:08:33
1
42_58sivasli
mehmet ertas :
manajjj🔥🇹🇷🤲🏻👏🏻👏🏻
2026-10-09 19:53:17
1
musa.irin6
MUSA ŞİRİN :
kıralllll
2026-10-09 18:07:56
1
ibrahimtokcan58
ibrahimtokcan58 :
Adammmmm
2026-10-09 16:29:59
1
To see more videos from user @sivaskulishaber58, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کہتے ہیں کہ ایک طالبِ معرفت نے درویش سے پوچھا: ”انسان اپنے نفس کو کیسے پہچانے، جبکہ کبھی کبھی اُسے اپنی غلطی بھی حق دکھائی دیتی ہے؟“ درویش نے جواب دیا: ”جب تم حق کو صرف اُس وقت قبول کرتے ہو جب وہ تمہارے حق میں ہو، تو سمجھ لو کہ تم حق کے طالب نہیں، اپنی انا کے محافظ ہو۔ حق کی پہچان یہ نہیں کہ وہ تمہاری سوچ کی تصدیق کرے، بلکہ یہ ہے کہ جب وہ تمہاری سوچ کو غلط ثابت کرے، تب بھی تم اُس کے سامنے جھکنے کی ہمت رکھو۔“ انسان کے باطن میں ایک ایسی خاموش کشمکش جاری رہتی ہے جسے دنیا کی آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ ایک طرف حقیقت ہوتی ہے اور دوسری طرف اپنی ذات کو درست ثابت کرنے کی خواہش۔ جب حقیقت انسان کی انا کے خلاف جاتی ہے تو نفس فوراً دلیلیں تراشنا شروع کر دیتا ہے۔ کبھی وہ اپنی غلطی کو مجبوری کا نام دیتا ہے، کبھی اپنی ضد کو اصول کہتا ہے، اور کبھی اپنی برتری کے احساس کو غیرت کا لباس پہنا دیتا ہے۔ یوں انسان سچائی کی تلاش میں نکلتا ہے، مگر انجانے میں اپنی ہی سوچ کا قیدی بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر علم انسان کو صاحبِ معرفت نہیں بناتا، ہر عبادت دل میں عاجزی پیدا نہیں کرتی، اور ہر حق بات کہنے والا اپنی انا سے آزاد نہیں ہوتا۔ انسان بہت کچھ جان سکتا ہے، مگر اپنے اندر چھپی خود پسندی سے ناواقف رہ سکتا ہے۔ اصل مجاہدۂ نفس اُس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان اپنی ذات کے خلاف بھی سچ سننے کی ہمت پیدا کر لیتا ہے۔ جب وہ یہ تسلیم کر لیتا ہے کہ ممکن ہے غلطی اُس سے ہوئی ہو، ممکن ہے اُس کی نیت میں کوئی پوشیدہ خواہش شامل ہو، اور ممکن ہے جس برتری پر اُسے فخر ہے، وہ محض اُس کے نفس کا فریب ہو۔ یاد رکھو، عاجزی کا مطلب خود کو بے وقعت سمجھنا نہیں؛ بلکہ اپنی حقیقت کو پہچاننا ہے۔ جو شخص ہر اختلاف کو اپنی توہین سمجھتا ہے، وہ ابھی اپنی انا کے حصار میں ہے۔ اور جو شخص حق سامنے آنے پر اپنی غلطی تسلیم کر لیتا ہے، وہ اپنے نفس کی گرفت کمزور کرنے کا آغاز کر چکا ہے۔ اپنے دل سے کبھی یہ سوال ضرور کرنا: کیا میں سچ جاننا چاہتا ہوں، یا صرف یہ چاہتا ہوں کہ سچ میری بات کو درست ثابت کرے؟ کیا مجھے حقیقت عزیز ہے، یا لوگوں کی نگاہوں میں اپنی برتری؟ ان سوالوں کے جواب آسان نہیں، کیونکہ نفس دوسروں کے سامنے بے نقاب ہونے سے پہلے انسان کو خود اپنی نگاہوں میں بے قصور رکھنا چاہتا ہے۔ جس دن تم نے حق کو اپنی انا سے زیادہ عزیز کر لیا، اُس دن تم نے اپنے نفس کے خلاف ایک حقیقی قدم اٹھا لیا۔ درویش راز 🍂 فکرِ حقیقت • محاسبۂ نفس • راہِ فقر #Nafs #SelfReformation #Dhikrullah #IslamicReminder #viral
کہتے ہیں کہ ایک طالبِ معرفت نے درویش سے پوچھا: ”انسان اپنے نفس کو کیسے پہچانے، جبکہ کبھی کبھی اُسے اپنی غلطی بھی حق دکھائی دیتی ہے؟“ درویش نے جواب دیا: ”جب تم حق کو صرف اُس وقت قبول کرتے ہو جب وہ تمہارے حق میں ہو، تو سمجھ لو کہ تم حق کے طالب نہیں، اپنی انا کے محافظ ہو۔ حق کی پہچان یہ نہیں کہ وہ تمہاری سوچ کی تصدیق کرے، بلکہ یہ ہے کہ جب وہ تمہاری سوچ کو غلط ثابت کرے، تب بھی تم اُس کے سامنے جھکنے کی ہمت رکھو۔“ انسان کے باطن میں ایک ایسی خاموش کشمکش جاری رہتی ہے جسے دنیا کی آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ ایک طرف حقیقت ہوتی ہے اور دوسری طرف اپنی ذات کو درست ثابت کرنے کی خواہش۔ جب حقیقت انسان کی انا کے خلاف جاتی ہے تو نفس فوراً دلیلیں تراشنا شروع کر دیتا ہے۔ کبھی وہ اپنی غلطی کو مجبوری کا نام دیتا ہے، کبھی اپنی ضد کو اصول کہتا ہے، اور کبھی اپنی برتری کے احساس کو غیرت کا لباس پہنا دیتا ہے۔ یوں انسان سچائی کی تلاش میں نکلتا ہے، مگر انجانے میں اپنی ہی سوچ کا قیدی بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر علم انسان کو صاحبِ معرفت نہیں بناتا، ہر عبادت دل میں عاجزی پیدا نہیں کرتی، اور ہر حق بات کہنے والا اپنی انا سے آزاد نہیں ہوتا۔ انسان بہت کچھ جان سکتا ہے، مگر اپنے اندر چھپی خود پسندی سے ناواقف رہ سکتا ہے۔ اصل مجاہدۂ نفس اُس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان اپنی ذات کے خلاف بھی سچ سننے کی ہمت پیدا کر لیتا ہے۔ جب وہ یہ تسلیم کر لیتا ہے کہ ممکن ہے غلطی اُس سے ہوئی ہو، ممکن ہے اُس کی نیت میں کوئی پوشیدہ خواہش شامل ہو، اور ممکن ہے جس برتری پر اُسے فخر ہے، وہ محض اُس کے نفس کا فریب ہو۔ یاد رکھو، عاجزی کا مطلب خود کو بے وقعت سمجھنا نہیں؛ بلکہ اپنی حقیقت کو پہچاننا ہے۔ جو شخص ہر اختلاف کو اپنی توہین سمجھتا ہے، وہ ابھی اپنی انا کے حصار میں ہے۔ اور جو شخص حق سامنے آنے پر اپنی غلطی تسلیم کر لیتا ہے، وہ اپنے نفس کی گرفت کمزور کرنے کا آغاز کر چکا ہے۔ اپنے دل سے کبھی یہ سوال ضرور کرنا: کیا میں سچ جاننا چاہتا ہوں، یا صرف یہ چاہتا ہوں کہ سچ میری بات کو درست ثابت کرے؟ کیا مجھے حقیقت عزیز ہے، یا لوگوں کی نگاہوں میں اپنی برتری؟ ان سوالوں کے جواب آسان نہیں، کیونکہ نفس دوسروں کے سامنے بے نقاب ہونے سے پہلے انسان کو خود اپنی نگاہوں میں بے قصور رکھنا چاہتا ہے۔ جس دن تم نے حق کو اپنی انا سے زیادہ عزیز کر لیا، اُس دن تم نے اپنے نفس کے خلاف ایک حقیقی قدم اٹھا لیا۔ درویش راز 🍂 فکرِ حقیقت • محاسبۂ نفس • راہِ فقر #Nafs #SelfReformation #Dhikrullah #IslamicReminder #viral

About