Book facts are facts written im early 80s by Wali Khan Baba.He disclosed these documents in his book.
2026-10-10 17:42:13
0
بابا عبدالوھاب :
2026-10-12 06:50:45
1
M Salman 716 :
nar mola Shakir mola
2026-10-13 10:29:47
0
Hairan Momand :
🥰🥰
2026-10-10 17:48:02
1
zakirfida561 :
علمائے حق اور علمائے سوء — ایک دینی و تاریخی سوال
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «الْعُلَمَاءُوَرَثَةُالْأَنْبِيَاءِ» یعنی علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ (سنن ابی داؤد: 3641)
علمائے حق وہ ہیں جو حق بات کہیں، ظلم کے سامنے خاموشی اختیار نہ کریں اور اپنے علم کو ذاتی مفاد پر قربان نہ کریں۔ اس کے برعکس، جو شخص جان بوجھ کر حق چھپائے، ناجائز فائدے کے لیے دین کو استعمال کرے یا ظلم کی حمایت کرے، اس کا کردار علمائے سوء کی تعریف میں آ سکتا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «إِنّالّذِينَيَكْتُمُونَمَا أَنْزَلْنَا مِنَالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ...» (البقرہ: 159) یعنی جو لوگ واضح دلائل اور ہدایت کو چھپاتے ہیں، ان کے لیے سخت وعید ہے۔
انگریز دور کے علماء کے بارے میں اصل سوال: کیا کسی نے انگریز حکومت سے تنخواہ یا وظیفہ لے کر جائز خدمت انجام دی، یا مالی فائدے کے بدلے ظلم کی حمایت کی، حق چھپایا اور عوام کو گمراہ کیا؟ پہلی صورت بذاتِ خود حرام نہیں؛ دوسری صورت شرعاً قابلِ مذمت ہے اور ناجائز مالی لین دین گناہ ہو سکتا ہے۔ محض انگریزوں سے رقم لینے یا ان کے دور میں عہدہ رکھنے سے کسی عالم کو علمائے سوء قرار نہیں دیا جا سکتا؛ اس کے لیے مستند تاریخی شواہد ضروری ہیں۔
اصل معیار یہ ہے: پیسہ لینا نہیں، بلکہ پیسے کے بدلے حق بیچنا؛ عہدہ حاصل کرنا نہیں، بلکہ عہدے کے لیے دین اور انصاف سے غداری کرنا۔ کسی خاص عالم کے آخرت کے انجام کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کرے گا۔
2026-10-10 15:57:25
0
Habibullah 9080098031351 :
mashallah
2026-10-11 04:44:38
0
SHAHWAIZ 888 :
2026-10-11 00:47:24
0
zakirfida561 :
علماء ورثۃ الانبیاء ہیں؛ مگر کیا ہر عالم اس ذمہ داری پر پورا اترتا ہے؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «الْعُلَمَاءُوَرَثَةُالْأَنْبِيَاءِ» یعنی علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ (سنن ابی داؤد: 3641)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا — ’’میری آیات کے بدلے تھوڑی قیمت نہ لو۔‘‘ (البقرہ: 41)
تاریخ کا ایک اہم سوال یہ ہے کہ انگریز دور میں جن علماء نے انگریز حکومت سے تنخواہیں، وظائف یا مالی فوائد حاصل کیے، اور اگر کسی نے ان فوائد کے بدلے ظلم کی حمایت کی، حق چھپایا یا عوام کو گمراہ کیا، تو کیا یہ عمل انبیاء کی وراثت کے شایانِ شان تھا؟
شرعی اصول واضح ہے: جائز خدمت کی اجرت لینا بذاتِ خود حرام نہیں؛ لیکن رشوت لینا، حق چھپانے کے لیے پیسہ وصول کرنا یا ظلم میں تعاون کرنا ناجائز اور گناہ ہے۔ قرآن مجید (البقرہ: 188) ناحق مال کھانے سے منع کرتا ہے۔
لہٰذا ہر اس عالم کو محض تنخواہ یا وظیفہ لینے کی وجہ سے مجرم نہیں کہا جا سکتا؛ اصل فیصلہ اس کے عمل، نیت اور مستند تاریخی شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔ کسی شخص کے آخرت کے انجام کا قطعی فیصلہ کرنا بھی ہمارے اختیار میں نہیں؛ آخری فیصلہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔
عالم کی عظمت اس کے لقب میں نہیں، بلکہ حق گوئی، دیانت اور ظلم کے مقابلے میں اس کے کردار میں ہے۔