@ehsaas11211: بے شک عورت میں صبر زیادہ ہے! کیوں کہ وہ اُن تکلیفوں کو بھی اپنے دل میں دفن کر جاتی ہے، جن سے بچنے کے لیے بعض مرد نشے میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ مگر کبھی سوچا ہے، عورت آخر اتنا سہتی کیوں ہے؟ کبھی رشتے بچانے کے لیے، کبھی بچوں کی خاطر، کبھی گھر بکھرنے کے خوف سے، اور کبھی اس لیے کہ اُسے بچپن سے سمجھایا گیا ہوتا ہے: "گھر بسانا عورت کا کام ہے۔" پھر وہ گھر بسانے میں ایسی مصروف ہوتی ہے کہ آہستہ آہستہ خود ہی بکھرنے لگتی ہے۔ وہ اپنی پسند چھوڑتی ہے، تو اُسے سمجھوتا کہا جاتا ہے۔ اپنی بات دبا دیتی ہے، تو اُسے سمجھ داری کہتے ہیں۔ اپنا حق مانگ لے، تو اُسے ضدی کہا جاتا ہے۔ عجیب حساب ہے نا؟ عورت دے تو اُس کا فرض، اور اپنے لیے مانگے تو اُس کی خواہش۔ وہ ناراض ہو کر بھی کھانا بنا دیتی ہے۔ دل دُکھا ہو تو بھی بچوں کے سامنے مسکرا دیتی ہے۔ رات بھر رو کر صبح سب سے پہلے پوچھتی ہے: "سب نے ناشتہ کر لیا؟" کوئی اُس سے یہ نہیں پوچھتا کہ رات اُس نے خود کچھ کھایا بھی تھا یا نہیں۔ کیونکہ عورت کا خیال رکھنا اکثر لوگوں کو تب یاد آتا ہے جب وہ کام کرنا چھوڑ دے؛ اُس وقت نہیں جب وہ کام کرتے کرتے اندر سے تھک رہی ہوتی ہے۔ اور پھر لوگ بڑے اطمینان سے کہتے ہیں: "تم تو بہت صابر ہو!" کاش کوئی اُس سے پوچھتا: "تم صابر ہو، یا تمہیں کبھی اپنے دکھ کے لیے جگہ ہی نہیں ملی؟" کیونکہ ہر خاموشی صبر نہیں ہوتی، کچھ خاموشیاں بےفائدہ بحثوں سے تھک جاتی ہیں۔ ہر معافی دل کی وسعت نہیں ہوتی، کبھی انسان رشتہ بچانے کے لیے اپنی انا نہیں، اپنا حق بھی چھوڑ دیتا ہے۔ اور ہر مسکراہٹ خوشی کی دلیل نہیں ہوتی، کبھی وہ صرف اس بات کا پردہ ہوتی ہے کہ انسان اب اپنے دکھ کی وضاحت کرتے کرتے تھک چکا ہے۔ ایک عورت کہتی ہے: "مجھے بھی کبھی کسی کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔" جواب ملتا ہے: "تم تو ہر مشکل سنبھال لیتی ہو!" وہ دل میں سوچتی ہے: "ہاں، سنبھال تو لیتی ہوں… مگر ہر بار سنبھلنا، ٹھیک ہو جانا نہیں ہوتا۔" بس یہی فرق کوئی سمجھنا نہیں چاہتا۔ اُس نے ہر بار رشتہ بچانے کے لیے خود کو سنبھالا، اور لوگوں نے ہر بار سمجھا کہ اُسے سنبھالنے کی ضرورت ہی نہیں۔ پھر آہستہ آہستہ اُس کی برداشت لوگوں کا حق بن جاتی ہے۔ وہ معاف کرے تو غلطی معمولی ہو جاتی ہے۔ وہ واپس آئے تو جدائی کی دھمکی بےاثر ہو جاتی ہے۔ وہ خاموش رہے تو اُس کی تکلیف غیرضروری لگنے لگتی ہے۔ اُس نے صبر کیا تھا، لوگوں نے سہولت سمجھ لیا۔ اُس نے محبت کی تھی، لوگوں نے عادت سمجھ لیا۔ اُس نے ساتھ نبھایا تھا، لوگوں نے سمجھ لیا کہ وہ کبھی چھوڑ کر جا ہی نہیں سکتی۔ مگر یاد رکھنا، عورت کا صبر بھی انسان کا صبر ہے؛ کوئی ایسی نعمت نہیں جس سے دوسروں کو اُس پر ظلم کرنے کی اجازت مل جائے۔ اور مرد بھی درد سے خالی نہیں ہوتا۔ کوئی اپنے دکھ کو نشے میں چھپاتا ہے، کوئی غصے میں، کوئی خاموشی میں، اور کوئی سب کو سنبھالتے سنبھالتے خود کو کھو دیتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بعض عورتوں کو اپنے درد کے ساتھ بھی دوسروں کی ضروریات پوری کرنی پڑتی ہیں۔ اُس کی تکلیف اپنی جگہ، اور اُس کی ذمہ داریاں اپنی جگہ۔ شاید اسی لیے اُس کے آنسو بھی اکثر اُس وقت نکلتے ہیں جب سب سو چکے ہوتے ہیں؛ کیونکہ دن بھر وہ سب کی ہوتی ہے، رات کو کہیں جا کر چند لمحوں کے لیے اپنی ہوتی ہے۔ اس لیے کسی عورت کی تعریف صرف یہ کہہ کر نہ کرو کہ: "تم بہت کچھ سہہ لیتی ہو۔" کبھی اُس کے حصے کا بوجھ اٹھا کر بھی دیکھو۔ کبھی اُس کی بات پوری سنو۔ کبھی اُس کے "کچھ نہیں ہوا" کے پیچھے چھپی تھکن کو سمجھو۔ کیونکہ صبر کی تعریف کرنا آسان ہے، کسی کے دکھ میں شریک ہونا مشکل۔ اور عورت کو ہر بار مضبوط کہنے سے پہلے ایک بار یہ ضرور سوچنا: جسے تم مضبوط سمجھ کر تنہا چھوڑ دیتے ہو، شاید وہ بھی کبھی چاہتی ہو کہ کوئی اُس کا ہاتھ پکڑ کر کہے: "اب تمہیں سب کچھ اکیلے نہیں سنبھالنا۔ آج تم آرام کر لو، میں ہوں نا۔"
یہ تحریر پڑھ کر دل بھر آیا، کیونکہ بعض اوقات عورت واقعی سب کے لیے مضبوط بنتے بنتے خود سے ہی ہارنے لگتی ہے۔ سب کو لگتا ہے کہ وہ سب سنبھال لے گی، مگر کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ وہ خود کتنی تھک چکی ہے۔ کبھی کبھی ہمیں مشورے نہیں، بس کوئی ایسا چاہیے ہوتا ہے جو ہمارے بغیر کہے بھی سمجھ لے کہ ہم ٹھیک نہیں ہیں. 💔
2026-10-09 18:56:53
10
⏤͟͟͞➼⃟❦❤⃞ ᴢɪᴅᴅɪ ᴊᴜᴛᴛ🤍⃟💛❥⃟࿐ :
plz captain
2026-10-11 05:57:26
2
"Meeshal" :
beshak aisaa hi hai 👆👆🥹
2026-10-10 11:25:46
3
Beshak :
2026-10-10 10:04:04
2
celestialwhisper :
بہت اچھا لکھا آپ نے۔میں یہ سمجھتی ہوں کہ عورت صنف نازک ہونے کے ساتھ ساتھ صنف آہن بھی ہے۔
2026-10-10 04:02:24
4
itx-rajpoot 🦅 :
ye Zindagi ki haqeeqat hae 😭
2026-10-10 03:53:46
3
☾𓂃 ₣₳łⱤɎ 𓂃☽ :
waki ya ak urat hi jnti ha mry Dil ki bt ki ha veer ji
2026-10-09 18:18:58
4
Waqt :
haaay
2026-10-10 17:28:13
0
@adeelraja8885 :
right👍👍👍
2026-10-13 03:05:26
0
sad story :
آپ نے کبھی کسی کا اتنا صبر سے انتظار کیا ہے؟ ؟؟؟؟؟؟؟
2026-10-10 18:37:42
0
arhamanas :
مہ خانے سے پوچھا!!! ااِتنا سناٹا کیوں ہے؟
بولا صاحب،،، لہوکا دور ہے شراب کون پیتا ہے🖤
2026-10-10 05:25:16
5
Mano Bili :
😭😭😭😭😭😭
2026-10-09 18:38:17
5
Alina Khanzadi :
💯💯😭😭
2026-10-10 09:38:50
2
hunnybunny :
👍👍👍
2026-10-10 10:04:58
2
batool😊☺🌺🥀 :
😢😢😢
2026-10-10 04:28:22
3
MILAK M MUMTAZ PTI :
🥰🥰🥰
2026-10-10 16:28:29
2
🇵🇰🦋🥀Ŧă𝑦𝑦ăв ᴀʀᴀɪɴ🥀🦋🇦🇪 :
💯✅
2026-10-10 02:38:31
3
Mrs Aamir 💫 :
💯💯💯
2026-10-09 18:09:04
4
کیانی01.🫀 :
🥺🥺🥺
2026-10-10 04:07:40
3
Asim :
💯💯💯💯💯💯💯💯😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲
2026-10-10 06:29:49
2
Saifi khokhar :
❣️❣️❣️
2026-10-12 13:04:23
0
خرم شہزاد (جہلم آلا)🇵🇸 :
❤️❤️❤️
2026-10-12 13:20:40
0
خرم شہزاد (جہلم آلا)🇵🇸 :
🥰🥰🥰
2026-10-12 13:19:52
0
Bint.e.Hawa :
بے شک عورت میں صبر زیادہ ہے!
کیوں کہ وہ اُن تکلیفوں کو بھی اپنے دل میں دفن کر جاتی ہے، جن سے بچنے کے لیے بعض مرد نشے میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔
مگر کبھی سوچا ہے، عورت آخر اتنا سہتی کیوں ہے؟
کبھی رشتے بچانے کے لیے،
کبھی بچوں کی خاطر،
کبھی گھر بکھرنے کے خوف سے،
اور کبھی اس لیے کہ اُسے بچپن سے سمجھایا گیا ہوتا ہے:
"گھر بسانا عورت کا کام ہے۔"
پھر وہ گھر بسانے میں ایسی مصروف ہوتی ہے کہ آہستہ آہستہ خود ہی بکھرنے لگتی ہے۔
وہ اپنی پسند چھوڑتی ہے، تو اُسے سمجھوتا کہا جاتا ہے۔
اپنی بات دبا دیتی ہے، تو اُسے سمجھ داری کہتے ہیں۔
اپنا حق مانگ لے، تو اُسے ضدی کہا جاتا ہے۔
عجیب حساب ہے نا؟
عورت دے تو اُس کا فرض،
اور اپنے لیے مانگے تو اُس کی خواہش۔
وہ ناراض ہو کر بھی کھانا بنا دیتی ہے۔
دل دُکھا ہو تو بھی بچوں کے سامنے مسکرا دیتی ہے۔
رات بھر رو کر صبح سب سے پہلے پوچھتی ہے:
"سب نے ناشتہ کر لیا؟"
کوئی اُس سے یہ نہیں پوچھتا کہ رات اُس نے خود کچھ کھایا بھی تھا یا نہیں۔
کیونکہ عورت کا خیال رکھنا اکثر لوگوں کو تب یاد آتا ہے جب وہ کام کرنا چھوڑ دے؛ اُس وقت نہیں جب وہ کام کرتے کرتے اندر سے تھک رہی ہوتی ہے۔
اور پھر لوگ بڑے اطمینان سے کہتے ہیں:
"تم تو بہت صابر ہو!"
کاش کوئی اُس سے پوچھتا:
"تم صابر ہو، یا تمہیں کبھی اپنے دکھ کے لیے جگہ ہی نہیں ملی؟"
کیونکہ ہر خاموشی صبر نہیں ہوتی،
کچھ خاموشیاں بےفائدہ بحثوں سے تھک جاتی ہیں۔
ہر معافی دل کی وسعت نہیں ہوتی،
کبھی انسان رشتہ بچانے کے لیے اپنی انا نہیں، اپنا حق بھی چھوڑ دیتا ہے۔
اور ہر مسکراہٹ خوشی کی دلیل نہیں ہوتی،
کبھی وہ صرف اس بات کا پردہ ہوتی ہے کہ انسان اب اپنے دکھ کی وضاحت کرتے کرتے تھک چکا ہے۔
ایک عورت کہتی ہے:
"مجھے بھی کبھی کسی کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔"
جواب ملتا ہے:
"تم تو ہر مشکل سنبھال لیتی ہو!"
وہ دل میں سوچتی ہے:
"ہاں، سنبھال تو لیتی ہوں…
مگر ہر بار سنبھلنا، ٹھیک ہو جانا نہیں ہوتا۔"
بس یہی فرق کوئی سمجھنا نہیں چاہتا۔
اُس نے ہر بار رشتہ بچانے کے لیے خود کو سنبھالا،
اور لوگوں نے ہر بار سمجھا کہ اُسے سنبھالنے کی ضرورت ہی نہیں۔
پھر آہستہ آہستہ اُس کی برداشت لوگوں کا حق بن جاتی ہے۔
وہ معاف کرے تو غلطی معمولی ہو جاتی ہے۔
وہ واپس آئے تو جدائی کی دھمکی بےاثر ہو جاتی ہے۔
وہ خاموش رہے تو اُس کی تکلیف غیرضروری لگنے لگتی ہے۔
اُس نے صبر کیا تھا، لوگوں نے سہولت سمجھ لیا۔
اُس نے محبت کی تھی، لوگوں نے عادت سمجھ لیا۔
اُس نے ساتھ نبھایا تھا، لوگوں نے سمجھ لیا کہ وہ کبھی چھوڑ کر جا ہی نہیں سکتی۔
مگر یاد رکھنا، عورت کا صبر
2026-10-10 04:41:29
2
To see more videos from user @ehsaas11211, please go to the Tikwm
homepage.