@mareena786khan: ایک مرتبہ حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ اپنے مریدین جن میں خواجہ فخر الدینؒ اور خواجہ غریب نوازؒ شامل تھے کے ساتھ سفر پر تھے دورانِ سفر آپ کا گزر "رے" نامی ایک ایسی بستی سے ہوا جہاں آتش پرست آگ کی پوجا کرنے والے) رہا کرتے تھےوہاں ایک بہت بڑا آتش کدہ تھا، جس کی آگ کو وہ لوگ کبھی ٹھنڈا نہیں ہونے دیتے تھے اور اسے اپنا خدا مانتے تھے خواجہ عثمان ہارونیؒ نے بستی کے قریب ایک درخت کے نیچے قیام فرمایا چونکہ افطار کا وقت قریب تھا، اس لیے آپؒ نے اپنے مرید خواجہ فخر الدینؒ سے فرمایا"بستی والوں کے پاس جاؤ اور کھانا پکانے کے لیے تھوڑی سی آگ لے آؤ۔ خواجہ فخر الدینؒ جب بستی کے لوگوں کے پاس پہنچے اور آگ مانگی، تو بستی والوں نے صاف انکار کر دیا انہوں نے کہا "یہ آگ ہمارا خدا ہے اور ہم اس کی عبادت کرتے ہیں۔ اپنے مذہب کے مطابق ہم کسی کو اپنے خدا (آگ) کا حصہ نہیں دے سکتے۔ مرید نے واپس آ کر تمام ماجرا اپنے مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ کو سنایا یہ سن کر مرشدِ کامل نے تازہ وضو فرمایا اور خود اس آتش کدے کی طرف تشریف لے گئے وہاں پہنچ کر آپؒ نے دیکھا کہ ان کا سردار ایک لوہے کے تخت پر بیٹھا ہوا تھا اور اس کی گود میں اس کا 7 سال کا بیٹا تھا، جبکہ بہت سے پجاری ارد گرد بیٹھ کر آگ کی پوجا کر رہے تھے خواجہ عثمان ہارونیؒ نے سردار سے فرمایا "تم اس آگ کی پوجا کیوں کرتے ہو؟ یہ تو اللہ کی ایک معمولی سی مخلوق ہے جو تھوڑے سے پانی سے بجھ جاتی ہے۔ تم اس سچے رب کی عبادت کیوں نہیں کرتے جس نے اس آگ کو پیدا کیا ہے؟ سردار نے جواب دیا: "آگ ہمارے دین میں بہت بزرگ ہے اور یہی ہماری نجات کا ذریعہ ہے۔ آپؒ نے فرمایا "اگر یہ تمہاری نجات کا ذریعہ ہے اور تم اتنے عرصے سے اس کی پوجا کر رہے ہو، تو اس میں اپنا ہاتھ ڈالو۔ اگر یہ سچی ہے تو تمہیں نہیں جلائے گی۔ سردار بولا "جلانا تو آگ کی خاصیت ہے، کسی کی کیا مجال جو اس میں ہاتھ ڈالے اور محفوظ رہے؟ خواجہ عثمان ہارونیؒ نے جلال میں فرمایا "آگ کی کیا مجال جو اللہ کے حکم کے بغیر ایک بال بھی جلا سکے۔ یہ اپنے خالق کے حکم کی تابع ہے۔ یہ فرما کر آپؒ نے بڑھ کر اس سردار کی گود سے اس کے 7 سال کے معصوم بچے کو اپنی گود میں لے لیا اور قرآن پاک کی یہ آیت تلاوت فرمائی اے آگ! ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا ابراہیم پر۔ یہ پڑھ کر خواجہ عثمان ہارونیؒ اس معصوم بچے سمیت دھکتی ہوئی تیز آگ کے اندر داخل ہو گئے! یہ منظر دیکھ کر پوری بستی میں کہرام مچ گیا اور آتش پرست چیخنے چلانے لگے روایت ہے کہ آپؒ تقریباً 4 گھنٹے تک اس دہکتی ہوئی آگ کے اندر رہے جب آپؒ اس آگ سے باہر تشریف لائے، تو نہ تو آپؒ کا لباس جلا تھا اور نہ ہی اس بچے کو کوئی آنچ آئی تھی سردار نے خوشی اور حیرت سے اپنے بچے کو گلے لگایا اور پوچھا "بیٹا! تم نے آگ کے اندر کیا دیکھا؟ بچے نے جواب دیا "ابّاجان! ان بزرگ خواجہ عثمان ہارونیؒ کی برکت سے میں آگ کے اندر ایک خوبصورت اور ٹھنڈے باغ میں بیٹھا ہوا تھا مرشدِ کامل کی یہ زندہ کرامت اور معجزہ دیکھ کر سردار کا غرور ٹوٹ گیا وہ اور اس کی پوری بستی کے لوگ خواجہ عثمان ہارونیؒ کے قدموں میں گر گئے، آگ کی پوجا چھوڑ کر سچے دل سے اسلام قبول کیا اور آپؒ کے مرید بن گئے آپؒ نے سردار کا اسلامی نام عبداللہ اور اس کے بیٹے کا نام ابراہیم رکھا.