اس تحریر میں انبیاء کرام علیہ السلام کا ذکر کسی (معاذ اللہ) موازنے کے لیے نہیں، بلکہ اردو ادب اور شاعری کی اس صوفیانہ روایت کے تحت کیا گیا ہے جسے 'تلمیح' (Allusion) کہتے ہیں۔
جس طرح صدیوں سے اردو کے عظیم شعراء (جیسے علامہ اقبال اور مرزا غالب) نے شدید ترین انتظار، بے لوث محبت، اور امیدِ سحر کو بیان کرنے کے لیے 'دشتِ یعقوب'، 'پیرہنِ یوسف' اور 'بوئے یوسف' کے استعارے استعمال کیے ہیں، یہ جملہ بھی اسی اداسی اور انتظار کی عکاسی کرتا ہے۔
• 'دشتِ یعقوب' کا مطلب: ایک ایسا دل جو اپنے پیارے کی جدائی میں ایک طویل عرصے سے شدید انتظار اور صبر کی حالت میں ہے۔
• 'یوسف کی خبر نہ آنا' کا مطلب: وہ امید، وہ انصاف، اور وہ حقیقی آزادی جس کا خواب اس قوم نے دیکھا تھا اور جس کے داعی عمران خان ہیں، اس کا تڑپا دینے والا انتظار۔
یہ کسی سیاسی شخصیت کا رتبہ بڑھانے کی کوشش نہیں، بلکہ ایک عام پاکستانی کے دل کی وہ اداسی ہے جو اپنے رہنما کی قید اور ملک کے حالات کو دیکھ کر محسوس ہوتی ہے۔ یہ تڑپ ایک ایسے مخلص اور بے لوث انتظار کی علامت ہے جو صرف ایک سچا کارکن ہی سمجھ سکتا ہے۔"