@cc_dg00: #viral #contenido

ᶜᵈᵍ
ᶜᵈᵍ
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 10 October 2026 03:06:28 GMT
349
37
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @cc_dg00, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

شير ماما#foryou #foryoupagе #tiktokviral
شير ماما#foryou #foryoupagе #tiktokviral "شیرِ پاکستان کرنل شیر خان" ایک بھارتی افسر کی جانب سے تحریر کردہ خراجِ تحسین (دی انڈین ایکسپریس، 16 جولائی 1999) کارگل کی برف پوش چوٹیوں پر لڑی جانے والی خونریز جنگ میں کیپٹن کرنل شیر خان شہید، نشانِ حیدر نے اپنی بے مثال جرات، غیر معمولی قیادت اور وطن سے لازوال محبت کا ایسا عملی مظاہرہ کیا کہ دشمن فوج کے افسران بھی ان کی بہادری کے معترف ہو گئے۔ بھارتی افسر کے مطابق، پاکستان آرمی کے کیپٹن کرنل شیر خان نے ٹائیگر ہل اور اس سے ملحقہ چوٹیوں کے محاذ پر اپنی دلیری اور جرات مندانہ حملوں کے ذریعے بھارتی فوج کے افسروں اور جوانوں کا احترام حاصل کیا۔ 18 گرینیڈیئرز اور 8 سکھ بٹالین کے افسران نے اپنی آنکھوں سے اس نوجوان پاکستانی افسر کو مغربی ٹائیگر ہل پر ایک دلیرانہ جوابی حملے کی قیادت کرتے دیکھا۔ شدید لڑائی کے بعد بھارتی فوج نے ٹائیگر ہل اور دیگر اہم مقامات پر قبضہ کر لیا تھا، لیکن 7 جولائی 1999 کی صبح تقریباً آٹھ بجے کیپٹن کرنل شیر خان نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ انتہائی جرأت مندانہ جوابی حملہ کیا۔ کھلے دن میں دشمن کی نظروں کے سامنے ایسا حملہ کرنا گویا اپنی جان ہتھیلی پر رکھنا تھا، لیکن انہوں نے اعلیٰ فوجی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا حملہ اس قدر شدید اور مؤثر تھا کہ بھارتی فوج کو اپنی مزید نفری طلب کرنا پڑی۔ اس معرکے میں دونوں جانب کے کئی فوجی مارے گئے، لیکن کیپٹن شیر خان ہر مشکل گھڑی میں اپنے جوانوں کا حوصلہ بڑھاتے رہے اور انہیں آخری دم تک لڑنے کی تلقین کرتے رہے۔ بھارتی افسر نے اعتراف کیا کہ ان کی فوج کو بھی اس لڑائی میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ کیپٹن کرنل شیر خان آخری سانس تک میدانِ جنگ میں ڈٹے رہے۔ وہ اس وقت تک لڑتے رہے جب تک دشمن کی گولیوں نے ان کی زندگی کا چراغ گل نہ کر دیا، اور جب وہ شہید ہوئے تو ان کی انگلی اب بھی بندوق کے گھوڑے پر موجود تھی، جو ان کے عزم، استقلال اور بہادری کی لازوال علامت ہے۔ بھارتی افسر نے اپنے خراجِ تحسین میں لکھا: "ہم پیشہ ور سپاہی ہیں اور ہمیں خوشی ہوگی کہ اس بہادر فوجی کی جرات اور قربانی کا اعتراف کیا جائے۔ ہماری خواہش ہے کہ نوجوان کیپٹن شیر خان کو ان کی بے مثال بہادری پر وہ اعزاز دیا جائے جس کے وہ مستحق ہیں۔" مزید یہ کہ دراس سیکٹر میں موجود بھارتی افسروں نے محسوس کیا کہ شاید وہ سرکاری ذرائع سے پاکستان تک اپنا پیغام نہ پہنچا سکیں، اس لیے انہوں نے ایک سادہ کاغذ پر یہ تعریفی تحریر لکھ کر پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا "ایک بہادر سپاہی اپنی بہادری کے اعتراف کا حق دار ہوتا ہے۔" کیپٹن کرنل شیر خان شہید، نشانِ حیدر، صرف پاکستان کے ہیرو ہی نہیں بلکہ ان عظیم سپاہیوں میں شامل ہیں جن کی جرات، استقامت اور قربانی کو دشمن نے بھی سلام کیا۔ ان کی شہادت آنے والی نسلوں کے لیے حب الوطنی، شجاعت اور وطن پر جان نچھاور کرنے کی ایک روشن مثال ہے۔ جس نے مادرِ وطن کی سربلندی کے لیے اپنی جان قربان کر دی اور اپنی بہادری سے دوست و دشمن سب کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے عزت و احترام کا مقام حاصل کیا۔ "شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے۔" اللہ تعالیٰ کیپٹن کرنل شیر خان شہید، نشانِ حیدر کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔#CapCut

About