@mikeyasem: زندگی اور معاشرے کی سب سے کڑوی سچائی* یہ لائن موٹیویشن نہیں ہے، یہ ہمارے معاشرے کا پوسٹ مارٹم ہے۔ *معاشرے کا اصل چہرہ:* یہ معاشرہ تمہیں کبھی آگے بڑھتا ہوا برداشت نہیں کرتا۔ تمہارا اپنا دوست، تمہارا اپنا رشتہ دار، تمہارا اپنا محلہ دار - سب بظاہر تمہارے ساتھ ہنسیں گے، لیکن دل میں دعا کریں گے کہ تم ان سے آگے نہ نکل جاؤ۔ کیوں؟ کیونکہ تمہاری کامیابی انہیں ان کی ناکامی یاد دلاتی ہے۔ تمہارا گرنا ان کے لیے سکون ہے۔ تم نوکری کے لیے بھاگو گے، وہ کہیں گے "اس سے نہیں ہوگا"۔ تم کاروبار شروع کرو گے، وہ کہیں گے "ڈوب جائے گا"۔ تم محبت کرو گے، وہ کہیں گے "چھوڑ جائے گی"۔ *زندگی کا قانون:* زندگی میں تمہیں کوئی گرانے نہیں آئے گا، تم خود گرو گے۔ تھک کر، ٹوٹ کر، رو کر۔ یہ فطری ہے۔ لیکن معاشرہ تمہیں گرا ہوا دیکھ کر تمہاری مدد کو نہیں آئے گا، وہ تمہاری ویڈیو بنائے گا۔ تمہاری کہانی کو تماشہ بنائے گا۔ اسی لیے اس جملے میں کہا گیا ہے - *"تم نے ثابت کرنا ہے"* تمہیں کسی کو صفائی نہیں دینی، کسی سے مدد نہیں مانگنی۔ تمہیں بس اٹھ کر چل کر دکھانا ہے۔ تمہارا چلنا ہی تمہارا جواب ہے۔ *منزل مشکل کیوں ہے؟* کیونکہ آسان منزل کا مزہ نہیں۔ اور یہ معاشرہ آسان راستے پر چلنے والوں کو کبھی یاد نہیں رکھتا۔ یاد اسے رکھا جاتا ہے جو گر کر، ٹوٹ کر، زخموں کے ساتھ بھی اپنی منزل تک پہنچا۔ مشکل ہے، کیونکہ تم اکیلے ہو۔ ناممکن نہیں ہے، کیونکہ تم ابھی زندہ ہو۔ *آخری بات:* یہ معاشرہ صرف کامیاب لوگوں کو سلام کرتا ہے۔ گرے ہوئے کو کوئی نہیں پوچھتا۔ تو گر کر وہیں مت بیٹھے رہو کہ کوئی آ کر تمہیں اٹھائے گا۔ کوئی نہیں آئے گا۔ خود اٹھو، خود چلو، اور جب منزل پر پہنچ جاؤ تو پیچھے مڑ کر ان سب کو دیکھو جو تمہارے گرنے کا انتظار کر رہے تھے۔