@mslavv__:

Qoramasman mulatkaman💅🏿
Qoramasman mulatkaman💅🏿
Open In TikTok:
Region: DE
Saturday 10 October 2026 07:45:06 GMT
7723
266
4
12

Music

Download

Comments

hyrllayvna
hyrllayvna :
Йигитм йоооо
2026-10-10 12:24:30
3
nasrd1novna7
. :
dostavka bn nech pul boladi
2026-10-10 13:43:42
1
z159_x1
з’🫆 :
😂
2026-10-10 13:36:03
1
rtyjioowd
rtyjioowdn :
👍👍👍👍👍
2026-10-10 11:35:09
1
To see more videos from user @mslavv__, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

🔴 خیبر پختونخوا میں آج تاریخ کا چوتھا گورنر راج 11 اکتوبر 2026، وفاقی کابینہ کی سفارش پر صدر نے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا۔ صوبائی حکومت معطل ہے اور اختیارات گورنر کے پاس ہیں۔  وفاق کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لاتعلق رہی۔  نیا چیف سیکریٹری تعینات، انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں۔ صوبائی وزیرِ اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو حراست میں لیا گیا۔ پی ایم او کے مطابق یہ فیصلہ کابینہ نے کیا، جبکہ پی ٹی آئی نے اسے مسترد کر کے عدالتوں، اسمبلیوں اور عوامی فورمز پر چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔  مولانا فضل الرحمٰن نے بھی اسے غیر آئینی قدم قرار دیا۔ اس سے پہلے کے پی میں گورنر راج 1975، 1994 اور 1999 میں لگ چکا ہے۔  ویڈیو میں دیکھیے، مختلف طلبہ تنظیموں کی آوازیں اور سڑکوں پر عوام کا سمندر۔ یہ نعرے کسی ایک جماعت کے نہیں، اس صوبے کے نوجوانوں کے ہیں جو پوچھ رہے ہیں کہ ان کا مینڈیٹ کہاں گیا؟  سوال یہ ہے: آئین اختیار دیتا ہے، مگر کیا ہر آئینی اختیار ہر وقت استعمال کرنا دانشمندی ہے؟ مسائل کا حل مکالمے اور سیاسی بصیرت میں ہے، طاقت کے زور پر نہیں۔  ہم امن چاہتے ہیں، جمہوریت چاہتے ہیں، اور عوام کے ووٹ کا احترام چاہتے ہیں۔ #Democracy#ptilongmarch  #sohailafridi #kpkupdates #governorhouse
🔴 خیبر پختونخوا میں آج تاریخ کا چوتھا گورنر راج 11 اکتوبر 2026، وفاقی کابینہ کی سفارش پر صدر نے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا۔ صوبائی حکومت معطل ہے اور اختیارات گورنر کے پاس ہیں۔ وفاق کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لاتعلق رہی۔ نیا چیف سیکریٹری تعینات، انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں۔ صوبائی وزیرِ اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو حراست میں لیا گیا۔ پی ایم او کے مطابق یہ فیصلہ کابینہ نے کیا، جبکہ پی ٹی آئی نے اسے مسترد کر کے عدالتوں، اسمبلیوں اور عوامی فورمز پر چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی اسے غیر آئینی قدم قرار دیا۔ اس سے پہلے کے پی میں گورنر راج 1975، 1994 اور 1999 میں لگ چکا ہے۔ ویڈیو میں دیکھیے، مختلف طلبہ تنظیموں کی آوازیں اور سڑکوں پر عوام کا سمندر۔ یہ نعرے کسی ایک جماعت کے نہیں، اس صوبے کے نوجوانوں کے ہیں جو پوچھ رہے ہیں کہ ان کا مینڈیٹ کہاں گیا؟ سوال یہ ہے: آئین اختیار دیتا ہے، مگر کیا ہر آئینی اختیار ہر وقت استعمال کرنا دانشمندی ہے؟ مسائل کا حل مکالمے اور سیاسی بصیرت میں ہے، طاقت کے زور پر نہیں۔ ہم امن چاہتے ہیں، جمہوریت چاہتے ہیں، اور عوام کے ووٹ کا احترام چاہتے ہیں۔ #Democracy#ptilongmarch #sohailafridi #kpkupdates #governorhouse

About