@karuhun2en: Akhirnya Uchiha satu ini berguna juga #animedit #narutoshippudden #tenten #wofsq #karuhunasd

ENN
ENN
Open In TikTok:
Region: ID
Saturday 10 October 2026 09:24:37 GMT
83999
3967
48
75

Music

Download

Comments

introvert38472
Alvaro Raffael ZA👻 :
kok tenten di panggil uchiha? plis nanya
2026-10-10 09:41:31
64
jb763278
jb :
Hinata jadi baddie
2026-10-10 12:51:20
16
ylrez14
iamzer :
kena mugen tsukoyomi bukannya hidup damai malah perang njir🗿
2026-10-10 12:32:45
15
firmansyah_adnam
Tenggo ♏ :
uchiha tenten memang beda🤣
2026-10-10 11:14:06
8
kk058tart
kudo kaito :
episod berapa ni?
2026-10-10 10:50:03
2
faeimpact
—𝐅𝐚𝐞𝐱𝐲𝐭𝐚𝐚𝐚〆𝙆𝙂𝙉 :
telat nih
2026-10-10 10:06:51
3
cakcakf42
Cakcak :
Beliau sadar bahwa beliau MC di dunia itu 🫪
2026-10-11 03:30:42
0
pemburustiker8
*PEMBURU☆STIKER☆* :
uciha wkwk ngakak gua amaterasu
2026-10-10 13:25:13
1
vnsp038
Panggil Saja Sesuka mu :
tenten sadar kalau didunia itu tenten lah MC nya😂
2026-10-10 11:40:07
1
mangaifff
MANGAIF :
mungkin ini mirip seperti kejadian kaya Naruto movi pas lawan menma itu kan sama" tukoyomi tapi tingkat kekuatan nya beda juga sih tapi g tau lah sebabnya kenapa
2026-10-10 17:21:18
0
pdnauzz25
팔피니타스 ~PDCee :
tenten shipuden🗿
2026-10-10 11:53:49
0
gedhang_goyeng3835
😇🌗😈 :
disini lemah amat kyubi menma,lawan 2 Salamander aja dibantu tenten,kyubi Naruto aja solo vs 5 biju🤣
2026-10-10 13:56:37
0
sisillll123332
Vikiisisillll123332 :
sadar pulak dia kalau dia itu mc di situ
2026-10-10 15:22:41
0
edogawa13_
𝕊𝕦𝕕𝕒𝕙_𝕃𝕦𝕡𝕒_𝕜𝕒𝕟??? :
dia itu 10.10 [Tertawa sampai menangis][Tertawa sampai menangis]
2026-10-10 12:26:01
0
baggio_mulyo
Baggio Mulyo :
ini naroto apa iya
2026-10-10 15:01:20
1
691913114_
Ultraman :
senjata baru tenten yang di alam nyata kebawa sampai ke alam mimpi, gokilll, dan lagi dia juga yang sadar bahwa dia sedang terkena genjutsu, karena mengingat gulungannya yang sobek karna ulah uciha
2026-10-10 10:51:25
2
na.chan640
nana :
jadi gini ya teman" ini itu mimpi tenten yang sedang terkena genjutsu stugen mukoyomi saat perang dunia sedang terjadi dan tenten adalah salah satu ninja yang sadar bahwa itu bukan dunia asli melainkan genjutsu orang lain juga ada yang sadar seperti Naruto dan sasuke
2026-10-10 15:25:03
1
al_baeah
𝘼 👀 :
tertangkap basah bahwa anda karbit
2026-10-10 09:31:08
3
tan49348
*Virellplay* :
😳😳😳
2026-10-11 00:23:54
0
tan49348
*Virellplay* :
😁😁😁
2026-10-11 00:24:22
0
langmusafir
L :
🗿🗿🗿
2026-10-10 09:29:44
0
rahmad_dedy21
Diplo :
[Polos][Polos][Polos]
2026-10-10 18:48:07
0
tan49348
*Virellplay* :
😂😂😂
2026-10-11 00:24:19
0
tan49348
*Virellplay* :
🥰🥰🥰
2026-10-11 00:24:25
0
basyagnggzn
al :
[Terkekeh]
2026-10-10 10:07:31
0
To see more videos from user @karuhun2en, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

Surat No. 10 Ayat NO. 57  (آیت 57) يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ …: یہاں سے تمام لوگوں کو مخاطب کرکے قرآن مجید کی برکات اور خوبیاں بیان فرمائی ہیں۔ چنانچہ بنیادی خصوصیت اس کی یہ ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے تمھارے پاس آئی ہے، اب دنیا کی کسی اور کتاب کو یہ درجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ پھر اس کی چار صفات بیان فرمائیں، پہلی یہ کہ یہ ” مَوْعِظَةٌ “ ہے، تنوینِ تعظیم کی وجہ سے”عظیم نصیحت“ ترجمہ کیا ہے۔ خلیل نے فرمایا کہ اس کا معنی نیکی کی نصیحت ہے جس سے دل نرم ہو جائے۔ (مفردات) راغب نے خود اس کا معنی کیا ہے کہ کسی کام سے منع کرنا، جس کے ساتھ ڈرانا بھی شامل ہو، گویا یہ کتا ب موعظت نرمی و سختی ہر طرح سے سمجھا کر انسان کی اصلاح کرتی ہے۔ دوسری صفت ہے ” وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ “ یعنی یہ کتاب دلوں میں جو کفر و نفاق، حسد و ریا اور برے اخلاق کی بیماریاں پائی جاتی ہیں ان کے لیے سراسر تندرستی کا باعث ہے۔ بعض لوگوں نے ان آیات سے یہ بات اخذ کی ہے کہ قرآن مجید جسمانی بیماریوں کا بھی علاج ہے، جیسا کہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کرنے سے سانپ کا ڈسا ہوا تندرست ہو گیا اور انھوں نے اس پر تیس بکریاں لیں۔ [ بخاری، الإجارۃ، باب ما یعطي في الرقیۃ علی أحیاء العرب …: 2276 ] اور خارجہ بن صلت رضی اللہ عنہ کے چچا نے بیڑیوں میں جکڑے ہوئے پاگل آدمی کو سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو وہ تندرست ہو گیا اور ان لوگوں نے انھیں ایک سو بکریاں دیں۔ [ أبوداوٗد، الطب، باب کیف الرقی: 3896 و صححہ الألبانی ] اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ سورۂ فاتحہ اور دوسری آیات پڑھ کر دم کرنے سے اللہ تعالیٰ چاہے تو شفا ہوتی ہے اور صرف مسلمانوں کو نہیں بلکہ کافروں پر دم کریں تو انھیں بھی ہوتی ہے، مگر ان آیات کا یہ مطلب نہیں بلکہ ان سے مراد روحانی بیماریاں کفر و شرک، نفاق اور حسد و بغض وغیرہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَ لَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا ﴾ [ بنی إسرائیل: 82 ] ”اور ہم قرآن میں سے تھوڑا تھوڑا نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے سراسر شفا اور رحمت ہے اور وہ ظالموں کو خسارے کے سوا کسی چیز میں زیادہ نہیں کرتا۔“ اور فرمایا: ”اور رہے وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے تو اس (سورت) نے ان کو ان کی گندگی کے ساتھ اور گندگی میں زیادہ کر دیا اور وہ اس حال میں مرے کہ وہ کافر تھے۔“ [ التوبۃ: 125 ] اور فرمایا: ”کہہ دے یہ (قرآن) ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہدایت اور شفا ہے اور وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور یہ ان کے حق میں اندھا ہونے کا باعث ہے۔“ [ حٰمٓ السجدۃ: 44 ] یعنی کفار کو اس سے سینے کی بیماریوں سے شفا نہیں ہوتی۔ تیسری صفت ” هُدًى “ نرمی اور مہربانی کے ساتھ راستہ بتانا۔(مفردات) چوتھی صفت ” رَحْمَةٌ “ ہے، اس کا معنی ہر شخص سمجھتا ہے۔ یہاں چاروں صفات ” مَوْعِظَةٌ، شِفَآءٌ، هُدًى، رَحْمَةٌ “ مبالغہ کے لیے مصدر کے لفظ کے ساتھ آئی ہیں، مراد ان سے اسم فاعل کا مفہوم ہے، جیسے کہتے ہیں ”زَيْدٌ عَدْلٌ“ زید انصاف ہے۔ مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ اتنا عادل ہے کہ گویا سراسر عدل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص تو سراپا حسن ہے، مراد بہت حسن والا ہوتا ہے، یعنی یہ کتاب اس قدر نصیحت، شفا، ہدایت اور رحمت والی ہے، گویا یہ اہل ایمان کے لیے سراسر نصیحت، شفا، ہدایت اور رحمت ہے۔ #viral #foryou #quran @tiktok creators
Surat No. 10 Ayat NO. 57 (آیت 57) يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ …: یہاں سے تمام لوگوں کو مخاطب کرکے قرآن مجید کی برکات اور خوبیاں بیان فرمائی ہیں۔ چنانچہ بنیادی خصوصیت اس کی یہ ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے تمھارے پاس آئی ہے، اب دنیا کی کسی اور کتاب کو یہ درجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ پھر اس کی چار صفات بیان فرمائیں، پہلی یہ کہ یہ ” مَوْعِظَةٌ “ ہے، تنوینِ تعظیم کی وجہ سے”عظیم نصیحت“ ترجمہ کیا ہے۔ خلیل نے فرمایا کہ اس کا معنی نیکی کی نصیحت ہے جس سے دل نرم ہو جائے۔ (مفردات) راغب نے خود اس کا معنی کیا ہے کہ کسی کام سے منع کرنا، جس کے ساتھ ڈرانا بھی شامل ہو، گویا یہ کتا ب موعظت نرمی و سختی ہر طرح سے سمجھا کر انسان کی اصلاح کرتی ہے۔ دوسری صفت ہے ” وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ “ یعنی یہ کتاب دلوں میں جو کفر و نفاق، حسد و ریا اور برے اخلاق کی بیماریاں پائی جاتی ہیں ان کے لیے سراسر تندرستی کا باعث ہے۔ بعض لوگوں نے ان آیات سے یہ بات اخذ کی ہے کہ قرآن مجید جسمانی بیماریوں کا بھی علاج ہے، جیسا کہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کرنے سے سانپ کا ڈسا ہوا تندرست ہو گیا اور انھوں نے اس پر تیس بکریاں لیں۔ [ بخاری، الإجارۃ، باب ما یعطي في الرقیۃ علی أحیاء العرب …: 2276 ] اور خارجہ بن صلت رضی اللہ عنہ کے چچا نے بیڑیوں میں جکڑے ہوئے پاگل آدمی کو سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو وہ تندرست ہو گیا اور ان لوگوں نے انھیں ایک سو بکریاں دیں۔ [ أبوداوٗد، الطب، باب کیف الرقی: 3896 و صححہ الألبانی ] اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ سورۂ فاتحہ اور دوسری آیات پڑھ کر دم کرنے سے اللہ تعالیٰ چاہے تو شفا ہوتی ہے اور صرف مسلمانوں کو نہیں بلکہ کافروں پر دم کریں تو انھیں بھی ہوتی ہے، مگر ان آیات کا یہ مطلب نہیں بلکہ ان سے مراد روحانی بیماریاں کفر و شرک، نفاق اور حسد و بغض وغیرہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَ لَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا ﴾ [ بنی إسرائیل: 82 ] ”اور ہم قرآن میں سے تھوڑا تھوڑا نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے سراسر شفا اور رحمت ہے اور وہ ظالموں کو خسارے کے سوا کسی چیز میں زیادہ نہیں کرتا۔“ اور فرمایا: ”اور رہے وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے تو اس (سورت) نے ان کو ان کی گندگی کے ساتھ اور گندگی میں زیادہ کر دیا اور وہ اس حال میں مرے کہ وہ کافر تھے۔“ [ التوبۃ: 125 ] اور فرمایا: ”کہہ دے یہ (قرآن) ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہدایت اور شفا ہے اور وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور یہ ان کے حق میں اندھا ہونے کا باعث ہے۔“ [ حٰمٓ السجدۃ: 44 ] یعنی کفار کو اس سے سینے کی بیماریوں سے شفا نہیں ہوتی۔ تیسری صفت ” هُدًى “ نرمی اور مہربانی کے ساتھ راستہ بتانا۔(مفردات) چوتھی صفت ” رَحْمَةٌ “ ہے، اس کا معنی ہر شخص سمجھتا ہے۔ یہاں چاروں صفات ” مَوْعِظَةٌ، شِفَآءٌ، هُدًى، رَحْمَةٌ “ مبالغہ کے لیے مصدر کے لفظ کے ساتھ آئی ہیں، مراد ان سے اسم فاعل کا مفہوم ہے، جیسے کہتے ہیں ”زَيْدٌ عَدْلٌ“ زید انصاف ہے۔ مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ اتنا عادل ہے کہ گویا سراسر عدل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص تو سراپا حسن ہے، مراد بہت حسن والا ہوتا ہے، یعنی یہ کتاب اس قدر نصیحت، شفا، ہدایت اور رحمت والی ہے، گویا یہ اہل ایمان کے لیے سراسر نصیحت، شفا، ہدایت اور رحمت ہے۔ #viral #foryou #quran @tiktok creators

About