@embematnaoo: Biết đâu sau này… 🥰 #embematnaoo

Đàm Phương Linh
Đàm Phương Linh
Open In TikTok:
Region: VN
Saturday 10 October 2026 10:57:24 GMT
8597
1123
14
162

Music

Download

Comments

hung7272
Nguyễn Hưng :
Màn hình xinh qó
2026-10-10 11:16:18
1
truyvan01
truy vấn :
đãvậy Link
2026-10-10 16:10:33
0
nuochoachinhhanggiatot
Nước hoa chính hãng giá tốt :
đàm công chúa
2026-10-10 11:36:45
0
tuanmoney6688
Chích•bông :
2026-10-10 11:41:54
0
tokuda69966
Thô nhưng Thật! :
Dạo này toa thế em yêu😳😨
2026-10-10 11:04:44
0
user02199345
Hủ Tiếu Gõ :
Vó tu z tr
2026-10-10 16:41:46
0
faith.305
Faith :
ngon 😋
2026-10-10 19:11:31
0
quangvinh9xxx
Quang Vinh Nguyễn :
Sao nó bự quá zạy
2026-10-10 15:44:13
0
yagi2024vn
Yagi :
Linh vũ tố
2026-10-10 14:23:45
0
baduyyyy
Anh Ba Duy ☑️ :
Căng
2026-10-10 11:14:41
0
hein.thiha126
H. T. H :
[Big heart hug][Big heart hug][Big heart hug]
2026-10-10 11:53:35
0
nguoivohinh2704
zero :
❤️❤️❤️
2026-10-10 17:03:10
0
tuantrieu.196
tuantrieu.196 :
❤️
2026-10-10 11:41:26
0
chienbinhcr7
Cr7 :
❤️🌹
2026-10-10 17:40:37
0
To see more videos from user @embematnaoo, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ویران پہاڑ کی چوٹی پہ، ایک تنہا چرواہے نے بانسری بجائی خشک درخت کی کھوکھلی شاخوں میں اک پرانا زخم خاموشی سے سانس لے رہا تھا۔ زنگ آلود پنجرے کے سنسان کونے میں اک مکڑی نے جالا بُن ڈالا۔ ویران کمرے کے فرش پہ ایک اکیلی کتاب اپنی کہانی سناتی ہے۔۔ اور بوسیدہ مکان کی ٹوٹتی کھڑکی کے کنارے اک ننھے گلاب نے حسن کو آواز دی کہر آلود رات کی تاریکی میں اک تنہا شاعر نے آسمان کو اپنے خواب سنائے، اور ستارے ان کہانیوں کے گواہ بن گئے۔ بوسیدہ حویلی کے جھکتے محرابوں کے نیچے اک زخمی چمگادڑ نے اپنے پر رات سے لپیٹ لیے۔ خوابیدہ جھیل کے خاموش کنارے پر اک ادھ جلا چراغ اپنی روشنی کی آخری  سانسیں گن رہا تھا۔ خشک درخت کی گرتی شاخوں پر اک سنہری چڑیا نے آخری گیت لکھا۔ چمکتے میدان کے مٹیالے بادلوں میں اک قوسِ قزح نے اپنا پہلا رنگ کھو دیا۔ خاموش جھیل کی تھرتھراتی لہروں پہ اک پیلا پتّا دھوپ کا عکس لیے بہہ گیا حسنین اصغر  #poetry🥀 #fypシ゚viral #aestheticvideos #dontunderviewmyvideos🥀 #poeticcaptions
ویران پہاڑ کی چوٹی پہ، ایک تنہا چرواہے نے بانسری بجائی خشک درخت کی کھوکھلی شاخوں میں اک پرانا زخم خاموشی سے سانس لے رہا تھا۔ زنگ آلود پنجرے کے سنسان کونے میں اک مکڑی نے جالا بُن ڈالا۔ ویران کمرے کے فرش پہ ایک اکیلی کتاب اپنی کہانی سناتی ہے۔۔ اور بوسیدہ مکان کی ٹوٹتی کھڑکی کے کنارے اک ننھے گلاب نے حسن کو آواز دی کہر آلود رات کی تاریکی میں اک تنہا شاعر نے آسمان کو اپنے خواب سنائے، اور ستارے ان کہانیوں کے گواہ بن گئے۔ بوسیدہ حویلی کے جھکتے محرابوں کے نیچے اک زخمی چمگادڑ نے اپنے پر رات سے لپیٹ لیے۔ خوابیدہ جھیل کے خاموش کنارے پر اک ادھ جلا چراغ اپنی روشنی کی آخری سانسیں گن رہا تھا۔ خشک درخت کی گرتی شاخوں پر اک سنہری چڑیا نے آخری گیت لکھا۔ چمکتے میدان کے مٹیالے بادلوں میں اک قوسِ قزح نے اپنا پہلا رنگ کھو دیا۔ خاموش جھیل کی تھرتھراتی لہروں پہ اک پیلا پتّا دھوپ کا عکس لیے بہہ گیا حسنین اصغر #poetry🥀 #fypシ゚viral #aestheticvideos #dontunderviewmyvideos🥀 #poeticcaptions

About