@usa.police9112: soi cailoon

Usa.police9112
Usa.police9112
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 10 October 2026 13:18:22 GMT
5
0
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @usa.police9112, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

Replying to @maliknasirthaheem4 #ملتان کے یتیم بچے وسیم عباس کا دردناک قتل اور ملزم کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت تحریر: ایک سماجی و عوامی نقطۂ نظر سے ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کو گاڑی تلے کچل کر ہلاک کرنے کا افسوس ناک واقعہ پوری انسانیت کے لیے ایک بڑا سوال بن کر سامنے آیا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف اہلِ ملتان بلکہ ملک بھر کے لوگوں کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا۔ ابھی اس معصوم بچے کے قتل کا صدمہ تازہ ہی تھا کہ 21 اکتوبر 2026ء کو مرکزی ملزم توقیر نذیر کی بہاولپور کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کی خبر سامنے آگئی۔ اس واقعے نے انصاف، قانون کی بالادستی اور معاشرتی ذمہ داریوں پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک معصوم زندگی کا المناک اختتام خبروں کے مطابق وسیم عباس ایک یتیم بچہ تھا جو ایک فلاحی ادارے میں رہتا تھا۔ اسے الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ایک ٹھیکیدار کے پاس بھیجا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق وہ مبینہ سخت رویے سے پریشان تھا اور کام چھوڑ کر جانا چاہتا تھا۔ اسی دوران اس کا گاڑی کے ذریعے تعاقب کیا گیا اور وہ گاڑی کی زد میں آکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد عوامی سطح پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ وسیم عباس محض ایک نام نہیں بلکہ اس معاشرے کے ان بے شمار بچوں کی علامت ہے جو والدین کے سائے سے محروم ہو کر دوسروں کے رحم و کرم پر زندگی گزارتے ہیں۔ ایسے بچوں کو محبت، تحفظ، تعلیم اور بہتر مستقبل کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ ظلم، تذلیل اور تشدد کی۔ ملزم کی ہلاکت اور کئی اہم سوالات واقعے کے مرکزی ملزم توقیر نذیر کو گرفتار کرنے کے بعد عدالت نے چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔ حکام کے مطابق ملزم بعد ازاں پولیس حراست سے فرار ہوگیا۔ سی سی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ بہاولپور کے ناردرن بائی پاس کے قریب موٹر سائیکل پر سوار دو افراد کو روکنے کی کوشش کی گئی تو مبینہ طور پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں توقیر نذیر ہلاک ہوگیا۔ حکام کے مطابق وہ اپنے ساتھی کی فائرنگ سے مارا گیا، جبکہ دوسرا شخص فرار ہوگیا۔ تاہم یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: اگر ملزم پولیس کی تحویل میں تھا تو وہ فرار کیسے ہوا؟ اس کی حفاظت اور نگرانی کی ذمہ داری کس پر تھی؟ اس فرار کے حقائق کیا ہیں، اور مقابلے کے واقعے کی مکمل حقیقت کیا ہے؟ ان سوالات کے جواب شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کے ذریعے سامنے آنے چاہییں۔ انصاف صرف ملزم کی موت کا نام نہیں کسی سنگین جرم کے ملزم کی ہلاکت سے عوامی غصہ وقتی طور پر کم ہوسکتا ہے، لیکن اس سے انصاف کے تمام تقاضے خودبخود پورے نہیں ہوجاتے۔ انصاف کا اصل تقاضا یہ ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات ہوں، ذمہ دار افراد کی نشاندہی کی جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ اگر کسی ملزم پر قتل کا الزام ہو تو اس جرم کی حقیقت، اس کے محرکات اور ممکنہ معاونین کے کردار کو قانونی طریقے سے سامنے لانا ضروری ہوتا ہے۔ ملزم کی موت کے بعد بھی یہ سوالات باقی رہتے ہیں کہ آیا اس واقعے میں کوئی اور شخص ملوث تھا، بچے کو مناسب تحفظ کیوں نہ ملا، اور ایسے سانحات کو مستقبل میں روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔ قانون کی بالادستی کا مطلب یہی ہے کہ جرم کرنے والا کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہ ہو اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی جواب دہی سے مستثنیٰ نہ ہوں۔ یتیم بچوں کا تحفظ کس کی ذمہ داری ہے؟ وسیم عباس کا واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ یتیم خانوں، فلاحی اداروں اور بچوں کو کام سکھانے والے افراد کی نگرانی کس حد تک مؤثر ہے۔ کیا بچوں کو کام پر بھیجنے سے پہلے ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جاتا ہے؟ کیا ان کے ساتھ ہونے والے سلوک کی باقاعدہ نگرانی ہوتی ہے؟ اور اگر کوئی بچہ کسی جگہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرے تو کیا اس کے پاس شکایت کرنے کا مؤثر ذریعہ موجود ہے؟ حکومت، متعلقہ اداروں، فلاحی تنظیموں اور معاشرے کے ہر ذمہ دار فرد کو چاہیے کہ وہ بچوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں۔ کسی بھی بچے کو محض اس لیے ظلم برداشت کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ یتیم ہے، غریب ہے یا اس کے پیچھے طاقتور خاندان موجود نہیں۔ معاشرے کے نام ایک پیغام وسیم عباس کی موت صرف ایک خاندان یا ایک ادارے کا دکھ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کے لیے ایک امتحان ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کمزور انسان کی عزت اور جان کی حفاظت ہی ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔ ہمیں غصے اور انتقام کے بجائے انصاف، شفاف تحقیقات اور قانون کی بالادستی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی ان تمام نظامی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جو بچوں کو استحصال اور تشدد کے خطرے سے دوچار کرتی ہیں۔ اختتامیہ وسیم عباس واپس نہیں آسکتا، لیکن اس کے ساتھ پیش آنے والے سانحے سے سبق ضرور حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس بچے کی یاد کا حقیقی احترام اسی
Replying to @maliknasirthaheem4 #ملتان کے یتیم بچے وسیم عباس کا دردناک قتل اور ملزم کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت تحریر: ایک سماجی و عوامی نقطۂ نظر سے ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کو گاڑی تلے کچل کر ہلاک کرنے کا افسوس ناک واقعہ پوری انسانیت کے لیے ایک بڑا سوال بن کر سامنے آیا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف اہلِ ملتان بلکہ ملک بھر کے لوگوں کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا۔ ابھی اس معصوم بچے کے قتل کا صدمہ تازہ ہی تھا کہ 21 اکتوبر 2026ء کو مرکزی ملزم توقیر نذیر کی بہاولپور کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کی خبر سامنے آگئی۔ اس واقعے نے انصاف، قانون کی بالادستی اور معاشرتی ذمہ داریوں پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک معصوم زندگی کا المناک اختتام خبروں کے مطابق وسیم عباس ایک یتیم بچہ تھا جو ایک فلاحی ادارے میں رہتا تھا۔ اسے الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ایک ٹھیکیدار کے پاس بھیجا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق وہ مبینہ سخت رویے سے پریشان تھا اور کام چھوڑ کر جانا چاہتا تھا۔ اسی دوران اس کا گاڑی کے ذریعے تعاقب کیا گیا اور وہ گاڑی کی زد میں آکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد عوامی سطح پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ وسیم عباس محض ایک نام نہیں بلکہ اس معاشرے کے ان بے شمار بچوں کی علامت ہے جو والدین کے سائے سے محروم ہو کر دوسروں کے رحم و کرم پر زندگی گزارتے ہیں۔ ایسے بچوں کو محبت، تحفظ، تعلیم اور بہتر مستقبل کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ ظلم، تذلیل اور تشدد کی۔ ملزم کی ہلاکت اور کئی اہم سوالات واقعے کے مرکزی ملزم توقیر نذیر کو گرفتار کرنے کے بعد عدالت نے چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔ حکام کے مطابق ملزم بعد ازاں پولیس حراست سے فرار ہوگیا۔ سی سی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ بہاولپور کے ناردرن بائی پاس کے قریب موٹر سائیکل پر سوار دو افراد کو روکنے کی کوشش کی گئی تو مبینہ طور پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں توقیر نذیر ہلاک ہوگیا۔ حکام کے مطابق وہ اپنے ساتھی کی فائرنگ سے مارا گیا، جبکہ دوسرا شخص فرار ہوگیا۔ تاہم یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: اگر ملزم پولیس کی تحویل میں تھا تو وہ فرار کیسے ہوا؟ اس کی حفاظت اور نگرانی کی ذمہ داری کس پر تھی؟ اس فرار کے حقائق کیا ہیں، اور مقابلے کے واقعے کی مکمل حقیقت کیا ہے؟ ان سوالات کے جواب شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کے ذریعے سامنے آنے چاہییں۔ انصاف صرف ملزم کی موت کا نام نہیں کسی سنگین جرم کے ملزم کی ہلاکت سے عوامی غصہ وقتی طور پر کم ہوسکتا ہے، لیکن اس سے انصاف کے تمام تقاضے خودبخود پورے نہیں ہوجاتے۔ انصاف کا اصل تقاضا یہ ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات ہوں، ذمہ دار افراد کی نشاندہی کی جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ اگر کسی ملزم پر قتل کا الزام ہو تو اس جرم کی حقیقت، اس کے محرکات اور ممکنہ معاونین کے کردار کو قانونی طریقے سے سامنے لانا ضروری ہوتا ہے۔ ملزم کی موت کے بعد بھی یہ سوالات باقی رہتے ہیں کہ آیا اس واقعے میں کوئی اور شخص ملوث تھا، بچے کو مناسب تحفظ کیوں نہ ملا، اور ایسے سانحات کو مستقبل میں روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔ قانون کی بالادستی کا مطلب یہی ہے کہ جرم کرنے والا کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہ ہو اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی جواب دہی سے مستثنیٰ نہ ہوں۔ یتیم بچوں کا تحفظ کس کی ذمہ داری ہے؟ وسیم عباس کا واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ یتیم خانوں، فلاحی اداروں اور بچوں کو کام سکھانے والے افراد کی نگرانی کس حد تک مؤثر ہے۔ کیا بچوں کو کام پر بھیجنے سے پہلے ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جاتا ہے؟ کیا ان کے ساتھ ہونے والے سلوک کی باقاعدہ نگرانی ہوتی ہے؟ اور اگر کوئی بچہ کسی جگہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرے تو کیا اس کے پاس شکایت کرنے کا مؤثر ذریعہ موجود ہے؟ حکومت، متعلقہ اداروں، فلاحی تنظیموں اور معاشرے کے ہر ذمہ دار فرد کو چاہیے کہ وہ بچوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں۔ کسی بھی بچے کو محض اس لیے ظلم برداشت کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ یتیم ہے، غریب ہے یا اس کے پیچھے طاقتور خاندان موجود نہیں۔ معاشرے کے نام ایک پیغام وسیم عباس کی موت صرف ایک خاندان یا ایک ادارے کا دکھ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کے لیے ایک امتحان ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کمزور انسان کی عزت اور جان کی حفاظت ہی ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔ ہمیں غصے اور انتقام کے بجائے انصاف، شفاف تحقیقات اور قانون کی بالادستی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی ان تمام نظامی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جو بچوں کو استحصال اور تشدد کے خطرے سے دوچار کرتی ہیں۔ اختتامیہ وسیم عباس واپس نہیں آسکتا، لیکن اس کے ساتھ پیش آنے والے سانحے سے سبق ضرور حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس بچے کی یاد کا حقیقی احترام اسی

About