@cakal.zip: Kendi ekran okuyucumu yazdım ama yeni laptopta patladı!

Aysima Çakal
Aysima Çakal
Open In TikTok:
Region: TR
Saturday 10 October 2026 21:47:47 GMT
19849
724
30
32

Music

Download

Comments

ege.cosarr
𝐄𝐂 :
Bu videoyu kendin mi hazırlıyorsun yoksa yapay zekamı eğer yapay zekaysa nasıl bir yol ilerledin?
2026-10-10 21:50:29
17
_hamzaksc_
_hamzaksc_ :
Reis bende yazılımcıyım kimseye aldırış etme yorumlardaki kodunu vs yazmaya devam et bende robloxtan oyun geliştiriyorum baya yeteneklisin bu arada
2026-10-11 10:37:33
0
im.reallionaire
￴ :
sen bu azim ve istikrarla devam edersen ileride cok iyi yerlere gelecegin kesin arkadasım, keep it up
2026-10-11 02:13:27
6
recep.usta23
Recep Usta :
helal olsun sana yolun açık olsun
2026-10-10 22:19:23
5
zenidfdenir
Kelkevser :
Gözümün önünde olan hata 😳
2026-10-12 19:15:51
1
mutmacht2
Mutmacht :
Bilgisayardan bilgisayar projeyi venv le mi aktardın sen
2026-10-12 08:39:32
1
pika_pika_poo
selenkaranayy :
jaws ceneler yani
2026-10-11 14:33:32
2
jysx.yooo
JYSX :
opencodecuyuz abi
2026-10-12 09:35:59
1
ego_3hhg
ego🔥 :
yanındayız kardeşim
2026-10-11 15:30:47
1
raspberry.master2
Raspberry Master2 :
Helal olsun abi
2026-10-11 09:05:38
1
e.zeyn5
e.zeyn 🧿 :
Tebrik ediyorum yolun açık olsun ❤️
2026-10-11 00:53:48
2
musti_65563
Musti_6556 :
abla docker kullansan geçer
2026-10-11 09:43:38
1
ikeepscythe
spring :
çaQQal software vibecoding baBBası
2026-10-13 15:21:45
1
kursat.64
kürşat karadağ :
kolay gelsin
2026-10-11 08:48:24
1
aslan654097
aslan :
ben görme engeli olan 1kişiyim ve benyazılıma yeni başladım ekran okuyucu larla çok zorlanıyorum neleryapabilirim
2026-10-11 21:22:54
0
meowlet9
meowlet :
https://vt.tiktok.com/ZSbwDPwwx/
2026-10-12 11:30:52
0
etkileyicifilm
Akıncı Lojistik :
bu videoyu hangi yapay zeka aracı ile hazırladın acaba
2026-10-10 21:53:19
1
vitchez63
user53948441165 :
başka bir şeye yönelebilirsin istersen
2026-10-12 06:19:13
0
galiparar77
Galip Arar :
😰😥😥😰
2026-10-10 22:50:18
2
galiparar77
Galip Arar :
[Dua][Dua][Dua][Dua]
2026-10-10 22:50:22
2
mselcuk.33
Muzaffer :
😳😳😳
2026-10-11 01:41:41
0
ahmet.klavuz89
Ahmet Kılavuz :
❤️❤️❤️
2026-10-11 13:55:16
1
To see more videos from user @cakal.zip, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پختونخوا میں 11 اکتوبر 2026 کو ایمرجنسی کے نفاذ پر نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کا بیان  وفاقی حکومت کی جانب سے 11 اکتوبر 2026 کو پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ—جس کے نتیجے میں صوبائی حکومت کا خاتمہ، گورنر راج کا نفاذ اور وفاق کی جانب سے صوبے کے بارہ اضلاع کی غیر قانونی علیحدگی عمل میں آئی—ملک میں وفاقی جمہوریت اور پختونخوا کے عوام کے بنیادی حقوق پر ایک کھلم کھلا حملہ ہے۔ ملک میں پنجاب کے غلبے والے نظام کے اس اقدام نے پختونخوا کو بیسویں صدی کے اوائل کے نوآبادیاتی دور میں واپس دھکیل دیا ہے، جب اس وقت کے برطانوی وائسرائے لارڈ کرزن نے نام نہاد 'گریٹ گیم' کے تحت اضلاع کے درمیان نوآبادیاتی لکیریں کھینچ کر صوبے کے عوام کو تقسیم کر دیا تھا۔ صوبے سے 12 اضلاع کی علیحدگی کے حوالے سے وزیر داخلہ کا انکار بے معنی اور کھوکھلا معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اسلام آباد نے پختونخوا کے ان 12 اضلاع میں 'ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ' کے نام سے ایک بالکل مختلف انتظامی نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جو سابقہ فاٹا میں نافذ 'ایف سی آر' سے ملتا جلتا ہے۔ درحقیقت یہ اقدام صوبے کے قیمتی معدنی وسائل پر قبضے اور افغانستان و وسطی ایشیا میں نئی مہم جوئی کے لیے 'نو گو ایریا' اور 'بلیک ہول' کی بحالی کی خاطر سابقہ وفاقی زیرِ انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کو وسیع تر شکل میں دوبارہ زندہ کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔ سوال یہ ہے کہ آئینی ترمیم کے ذریعے ہونے والے فاٹا کے انضمام کو کسی انتظامی حکم (ایگزیکٹو آرڈر) کے ذریعے کیسے کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے؟ یہ عمل درحقیقت آئین کے ایک حصے کو معطل کرنے کے مترادف ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ اقدام پختونخوا میں سابقہ فاٹا کے انضمام کو ختم کرنے کے حوالے سے ٹی ٹی پی کے مطالبے کو جزوی طور پر تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ این ڈی ایم صوبائی حکومت کی نااہلی اور صوبے کے عوام کو گڈ گورننس، سماجی و اقتصادی ترقی اور بنیادی حقوق کی فراہمی میں اس کی ناکامیوں پر مسلسل تنقید کرتی رہی ہے۔ ہم نے خاص طور پر پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے سکیورٹی اسٹیٹ کے ایما پر اگست 2019 سے صوبے پر 'ایکشن ان ایڈ آف سول پاور ریگولیشن' (جسے پشاور ہائی کورٹ نے آئین سے متصادم قرار دیا تھا) کے غیر قانونی نفاذ پر کڑی تنقید کی ہے۔ مذکورہ ضابطے نے پختونخوا کو ایک 'پاکستانی گوانتانامو بے' میں تبدیل کر دیا ہے، جسے ہر قسم کے آئینی اور قانونی نظام سے باہر دھکیل دیا گیا ہے۔ جہاں تک صوبے میں دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے کا تعلق ہے، تو یہ
پختونخوا میں 11 اکتوبر 2026 کو ایمرجنسی کے نفاذ پر نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کا بیان وفاقی حکومت کی جانب سے 11 اکتوبر 2026 کو پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ—جس کے نتیجے میں صوبائی حکومت کا خاتمہ، گورنر راج کا نفاذ اور وفاق کی جانب سے صوبے کے بارہ اضلاع کی غیر قانونی علیحدگی عمل میں آئی—ملک میں وفاقی جمہوریت اور پختونخوا کے عوام کے بنیادی حقوق پر ایک کھلم کھلا حملہ ہے۔ ملک میں پنجاب کے غلبے والے نظام کے اس اقدام نے پختونخوا کو بیسویں صدی کے اوائل کے نوآبادیاتی دور میں واپس دھکیل دیا ہے، جب اس وقت کے برطانوی وائسرائے لارڈ کرزن نے نام نہاد 'گریٹ گیم' کے تحت اضلاع کے درمیان نوآبادیاتی لکیریں کھینچ کر صوبے کے عوام کو تقسیم کر دیا تھا۔ صوبے سے 12 اضلاع کی علیحدگی کے حوالے سے وزیر داخلہ کا انکار بے معنی اور کھوکھلا معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اسلام آباد نے پختونخوا کے ان 12 اضلاع میں 'ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ' کے نام سے ایک بالکل مختلف انتظامی نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جو سابقہ فاٹا میں نافذ 'ایف سی آر' سے ملتا جلتا ہے۔ درحقیقت یہ اقدام صوبے کے قیمتی معدنی وسائل پر قبضے اور افغانستان و وسطی ایشیا میں نئی مہم جوئی کے لیے 'نو گو ایریا' اور 'بلیک ہول' کی بحالی کی خاطر سابقہ وفاقی زیرِ انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کو وسیع تر شکل میں دوبارہ زندہ کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔ سوال یہ ہے کہ آئینی ترمیم کے ذریعے ہونے والے فاٹا کے انضمام کو کسی انتظامی حکم (ایگزیکٹو آرڈر) کے ذریعے کیسے کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے؟ یہ عمل درحقیقت آئین کے ایک حصے کو معطل کرنے کے مترادف ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ اقدام پختونخوا میں سابقہ فاٹا کے انضمام کو ختم کرنے کے حوالے سے ٹی ٹی پی کے مطالبے کو جزوی طور پر تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ این ڈی ایم صوبائی حکومت کی نااہلی اور صوبے کے عوام کو گڈ گورننس، سماجی و اقتصادی ترقی اور بنیادی حقوق کی فراہمی میں اس کی ناکامیوں پر مسلسل تنقید کرتی رہی ہے۔ ہم نے خاص طور پر پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے سکیورٹی اسٹیٹ کے ایما پر اگست 2019 سے صوبے پر 'ایکشن ان ایڈ آف سول پاور ریگولیشن' (جسے پشاور ہائی کورٹ نے آئین سے متصادم قرار دیا تھا) کے غیر قانونی نفاذ پر کڑی تنقید کی ہے۔ مذکورہ ضابطے نے پختونخوا کو ایک 'پاکستانی گوانتانامو بے' میں تبدیل کر دیا ہے، جسے ہر قسم کے آئینی اور قانونی نظام سے باہر دھکیل دیا گیا ہے۔ جہاں تک صوبے میں دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے کا تعلق ہے، تو یہ "فرنٹ لائن اسٹیٹ" کی ناکام سکیورٹی پالیسیوں، بالخصوص اس کی خودکشی پر مبنی افغان پالیسی کا نتیجہ ہے۔ پختونخوا کے عوام اس خود کشی پر مبنی پالیسی کے تہرے اثر یعنی بڑے پیمانے پر موت ، تباہی اور نقل مکانی جیسے سنگین مسائل کا شکار رہے ہیں۔ دہشت گردی کے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی اسٹیٹ کو پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کے بجائے اپنی ناکام سکیورٹی پالیسی کو تبدیل کرنا ہوگا۔ حکمران سیاسی جماعتیں پختونخوا کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کی ذمہ داری سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتیں۔ نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ، گورنر راج کے اطلاق اور بارہ اضلاع کو پختونخوا کے قانون سازی اور انتظامی دائرہ اختیار سے الگ کرنے کے اقدام کو مسترد کرتی ہے۔ ہم جمہوریت اور انسانی حقوق کی حمایت کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جمہوریت اور انسانی حقوق پر غاصبوں اور جمہوریت مخالف قوتوں کے اس حملے کے خلاف مزاحمت کے لیے متحد ہوں۔ #MohsinDawar #ndm #mohsindawarspeakstruth

About