@salamykuhds33:

ابو إسلام
ابو إسلام
Open In TikTok:
Region: TR
Sunday 11 October 2026 15:35:09 GMT
3063
76
8
2

Music

Download

Comments

sarabest781
Akaza🇹🇳🇹🇳 :
والله بكل
2026-10-11 16:05:33
0
aaa.k24
𝕄𝕦𝕗𝕝𝕚𝕙📿 :
اول
2026-10-11 15:39:53
2
cd60055
CD 👑🪡 :
ضيفوني😔💔
2026-10-11 15:40:35
2
a885616
💙 ٠ :
🥰🥰🥰
2026-10-11 15:38:34
2
s6wsr
ساره :
🌺🌺😍
2026-10-11 15:45:14
1
user9880019945822
سالم احمد :
🥰🥰🥰
2026-10-11 19:02:12
0
user5746246294198
ود معاويه :
🥰🥰🥰
2026-10-11 19:54:28
0
user8186056571521
رضا جيرو :
🥰🥰🥰🥰
2026-10-11 21:06:26
0
To see more videos from user @salamykuhds33, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

موجودہ سیاسی اور سماجی تناظر میں خیبر پختونخوا اور وفاقی حکومت یا ریاستی اداروں کے درمیان تعلقات ایک انتہائی حساس اور پیچیدہ موضوع بن چکے ہیں۔ پاکستان کی داخلی سیاست میں یہ بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ مختلف صوبوں، بالخصوص خیبر پختونخوا کے عوام اور ان کے منتخب نمائندگان کے ساتھ ریاستی اداروں کا رویہ کیسا رہا ہے۔ تاریخی پس منظر اور محرکات پختون خطے کو طویل عرصے سے سکیورٹی کے حوالے سے شدید چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کے عوام نے جان و مال کی لازوال قربانیاں دی ہیں۔ اس خطے کے رہائشیوں کا یہ مؤقف رہا ہے کہ: امن و امان کی ابتر صورتحال: صوبے میں حالیہ برسوں میں بدامنی کے دوبارہ سر اٹھانے پر عوام کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ معاشی مشکلات: پسماندگی اور صنعتی ترقی کی کمی کی وجہ سے یہاں کے عوام میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ انہیں قومی دھارے میں وہ مقام نہیں ملا جس کے وہ حقدار تھے۔ پنجابی بھائی اور مشترکہ فہم پاکستان ایک کثیر الثقافتی ملک ہے جہاں تمام صوبوں کے عوام ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ عام سطح پر پنجابی اور پختون عوام کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور معاشی رشتے انتہائی مضبوط ہیں۔ تاہم، سیاسی اور ریاستی پالیسیوں پر تنقید اکثر اس تاثر کی وجہ سے جنم لیتی ہے کہ اقتدار اور وسائل کے مراکز میں فیصلوں کے دوران پختون حقوق اور احساسات کو نظر انداز کیا گیا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ کسی بھی خطے کی محرومی کا ازالہ کرنے کے لیے باہمی احترام، افہام و تفہیم اور آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے مکالمہ ناگزیر ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی گرفتاری کا واقعہ حالیہ سیاسی بحران اس وقت اپنے عروج پر پہنچا جب صوبے کے وزیر اعلیٰ کی گرفتاری یا حراست کے واقعات اور خبریں سامنے آئیں۔ سیاسی حلقوں میں اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ صوبائی حکومت اور مخالف سیاسی جماعتوں کے مطابق: جمہوری روایات کی پامالی: منتخب عوامی نمائندوں اور خصوصاً صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے خلاف اس طرح کے اقدامات سے عوام میں یہ تاثر مزید گہرا ہوتا ہے کہ جمہوریت اور آئینی بالادستی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ وفاق اور صوبے کے تعلقات میں کشیدگی: اس نوعیت کے واقعات وفاق اور صوبہ خیبر پختونخوا کے درمیان اعتماد کے فقدان کو بڑھاتے ہیں، جس سے سیاسی عدم استحکام میں اضافہ ہوتا ہے۔ نتیجہ اور حل کسی بھی ملک کی ترقی اور بقا کے لیے ضروری ہے کہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم ہو۔ طاقت کے استعمال یا سیاسی تناؤ سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ پختونخوا کے عوام کے جائز حقوق، ان کی عزتِ نفس کا تحفظ، اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ رویہ ہی ملک کو بحران سے نکال سکتا ہے۔ #unfreezemyacount🥺 #1millionauditionviwes #fypシ゚viral🖤tiktok☆♡🦋myvideo❤️❤️🥰🥰💯 #pleaseviralthisvideo🙏🙏pleas #foryourpagechallenge
موجودہ سیاسی اور سماجی تناظر میں خیبر پختونخوا اور وفاقی حکومت یا ریاستی اداروں کے درمیان تعلقات ایک انتہائی حساس اور پیچیدہ موضوع بن چکے ہیں۔ پاکستان کی داخلی سیاست میں یہ بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ مختلف صوبوں، بالخصوص خیبر پختونخوا کے عوام اور ان کے منتخب نمائندگان کے ساتھ ریاستی اداروں کا رویہ کیسا رہا ہے۔ تاریخی پس منظر اور محرکات پختون خطے کو طویل عرصے سے سکیورٹی کے حوالے سے شدید چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کے عوام نے جان و مال کی لازوال قربانیاں دی ہیں۔ اس خطے کے رہائشیوں کا یہ مؤقف رہا ہے کہ: امن و امان کی ابتر صورتحال: صوبے میں حالیہ برسوں میں بدامنی کے دوبارہ سر اٹھانے پر عوام کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ معاشی مشکلات: پسماندگی اور صنعتی ترقی کی کمی کی وجہ سے یہاں کے عوام میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ انہیں قومی دھارے میں وہ مقام نہیں ملا جس کے وہ حقدار تھے۔ پنجابی بھائی اور مشترکہ فہم پاکستان ایک کثیر الثقافتی ملک ہے جہاں تمام صوبوں کے عوام ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ عام سطح پر پنجابی اور پختون عوام کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور معاشی رشتے انتہائی مضبوط ہیں۔ تاہم، سیاسی اور ریاستی پالیسیوں پر تنقید اکثر اس تاثر کی وجہ سے جنم لیتی ہے کہ اقتدار اور وسائل کے مراکز میں فیصلوں کے دوران پختون حقوق اور احساسات کو نظر انداز کیا گیا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ کسی بھی خطے کی محرومی کا ازالہ کرنے کے لیے باہمی احترام، افہام و تفہیم اور آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے مکالمہ ناگزیر ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی گرفتاری کا واقعہ حالیہ سیاسی بحران اس وقت اپنے عروج پر پہنچا جب صوبے کے وزیر اعلیٰ کی گرفتاری یا حراست کے واقعات اور خبریں سامنے آئیں۔ سیاسی حلقوں میں اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ صوبائی حکومت اور مخالف سیاسی جماعتوں کے مطابق: جمہوری روایات کی پامالی: منتخب عوامی نمائندوں اور خصوصاً صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے خلاف اس طرح کے اقدامات سے عوام میں یہ تاثر مزید گہرا ہوتا ہے کہ جمہوریت اور آئینی بالادستی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ وفاق اور صوبے کے تعلقات میں کشیدگی: اس نوعیت کے واقعات وفاق اور صوبہ خیبر پختونخوا کے درمیان اعتماد کے فقدان کو بڑھاتے ہیں، جس سے سیاسی عدم استحکام میں اضافہ ہوتا ہے۔ نتیجہ اور حل کسی بھی ملک کی ترقی اور بقا کے لیے ضروری ہے کہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم ہو۔ طاقت کے استعمال یا سیاسی تناؤ سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ پختونخوا کے عوام کے جائز حقوق، ان کی عزتِ نفس کا تحفظ، اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ رویہ ہی ملک کو بحران سے نکال سکتا ہے۔ #unfreezemyacount🥺 #1millionauditionviwes #fypシ゚viral🖤tiktok☆♡🦋myvideo❤️❤️🥰🥰💯 #pleaseviralthisvideo🙏🙏pleas #foryourpagechallenge

About