@misslens_official: พาไปดู 7 วันหลังโกดังMisslens พัง🥹 ขอบคุณที่ Support @สมายมิสเลนส์ นะค้า รักกก ✨💗🫶🏻 #เกือบหลับแต่กลับมาได้ #น้ำท่วม #misslens

Misslens
Misslens
Open In TikTok:
Region: TH
Sunday 11 October 2026 15:47:53 GMT
41475
378
2
16

Music

Download

Comments

carrotishappycat
พี่แครอทพูดน้อยเรียบร้อยน่ารัก :
[หัวใจสีแดง][หัวใจสีแดง][หัวใจสีแดง]กำใจคับ
2026-10-11 16:08:26
0
To see more videos from user @misslens_official, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

یار، یہ کیا زندگی ہے۔۔۔؟ 💔 نبی جان ہمارے خڑ پڑ شاہ گئی میں پیدا ہوئے، اسی شاہ گئی کے سرکاری ٹاٹ کے اسکول میں پڑھ کر بڑے ہوئے۔ ایک مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھنے والا یہ بچہ اپنی محنت، قابلیت اور حوصلے کے بل بوتے پر میڈیکل فیلڈ میں گیا، ایم بی بی ایس کیا اور ڈاکٹر بن گیا۔ وہ مقام جس کا خواب لاکھوں نوجوان دیکھتے ہیں۔ ایم بی بی ایس کوئی آسان سفر نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر بننے کے لیے انسان کو اپنی جوانی، اپنی سوشل لائف، اپنی خوشیاں اور کئی خواہشات قربان کرنا پڑتی ہیں۔ لیکن نبی جان ان سب کے باوجود انمول تھا۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ سیاست اور سوشل ورک میں بھی اپنا ایک مقام بنایا۔ زمانۂ طالب علمی میں میرے ساتھ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا کولیگ رہا، پھر انصاف ڈاکٹر فورم کا حصہ بنا اور اپنی محنت سے انصاف ڈاکٹر فورم خیبرپختونخوا کے دو مرتبہ صدر منتخب ہوا۔ آج اسی ڈاکٹر نبی جان آفریدی کو خیبر ٹیچنگ ہسپتال سے اغوا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ساتھیوں نے مزاحمت کی تو فائرنگ ہوئی، میرے دوسرے کلاس فیلو ڈاکٹر زین العابدین کو سیدھی گولی ماری گئی، وہ زخمی ہوگئے اور دو مزید راہگیر بھی زخمی ہوئے۔ اور پھر میرے بچپن کے دوست، میرے کلیوال، میرے ہر دکھ سکھ کے ساتھی ڈاکٹر نبی جان آفریدی اور انصاف ڈاکٹر فورم خیبرپختونخوا کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر سعد کو اغوا کر لیا گیا۔ یار، ذرا سوچیں۔۔۔! ایک مڈل کلاس گھرانے کا بچہ، جو ٹاٹ کے اسکول سے پڑھ کر اپنی محنت سے ڈاکٹر بنتا ہے، لوگوں کی جانیں بچانے کا حلف اٹھاتا ہے، معاشرے کی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کرتا ہے۔۔۔ اور پھر ایک دن اسی ملک میں اسے اس طرح اٹھا لیا جاتا ہے کہ اس کے چھوٹے چھوٹے بچے گھر میں اپنے باپ کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ ماں باپ کی آنکھیں دروازے پر لگی ہوں گی۔۔۔ بچے پوچھتے ہوں گے کہ بابا کب آئیں گے۔۔۔ اور کسی کے پاس ان معصوم بچوں کو جواب دینے کے لیے الفاظ نہیں ہوں گے۔ 💔 اگر ہمارے ملک میں ایک عام مڈل کلاس گھرانے کا نوجوان اپنی محنت سے ڈاکٹر بننے کے بعد بھی محفوظ نہیں، اگر لوگوں کی جانیں بچانے والے ڈاکٹر بھی اپنے ہی ملک میں اس طرح غیر محفوظ ہیں، تو پھر ہمارے لیے اس ملک میں کیا اسپیس رہ جاتی ہے۔۔۔؟ ڈاکٹر نبی جان صرف ایک ڈاکٹر نہیں، میرا بچپن کا کلیوال دوست، میرا کلاس فیلو اور ہر دکھ سکھ کا ساتھی ہے۔ آج دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ پتہ نہیں میرا دوست اس وقت کس حال میں ہوگا۔۔۔ پتہ نہیں اس کے چھوٹے چھوٹے بچے کس حال میں ہوں گے۔۔۔ 💔 یا اللہ! ہم بہت بے بس ہیں، ہمارے حال پر رحم فرما۔ یا اللہ! ڈاکٹر نبی جان آفریدی کی حفاظت فرما، اسے خیریت اور سلامتی کے ساتھ اپنے بچوں کے پاس واپس پہنچا۔ یا اللہ! ڈاکٹر زین العابدین کو صحتِ کاملہ عطا فرما اور تمام زخمیوں کو شفا دے۔ یا اللہ! اس ملک کے ہر مظلوم کی حفاظت فرما اور ہمیں وہ دن دکھا جب اس ملک میں قانون، انصاف اور انسان کی جان کی حرمت واقعی مقدم ہو۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤲💔
یار، یہ کیا زندگی ہے۔۔۔؟ 💔 نبی جان ہمارے خڑ پڑ شاہ گئی میں پیدا ہوئے، اسی شاہ گئی کے سرکاری ٹاٹ کے اسکول میں پڑھ کر بڑے ہوئے۔ ایک مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھنے والا یہ بچہ اپنی محنت، قابلیت اور حوصلے کے بل بوتے پر میڈیکل فیلڈ میں گیا، ایم بی بی ایس کیا اور ڈاکٹر بن گیا۔ وہ مقام جس کا خواب لاکھوں نوجوان دیکھتے ہیں۔ ایم بی بی ایس کوئی آسان سفر نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر بننے کے لیے انسان کو اپنی جوانی، اپنی سوشل لائف، اپنی خوشیاں اور کئی خواہشات قربان کرنا پڑتی ہیں۔ لیکن نبی جان ان سب کے باوجود انمول تھا۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ سیاست اور سوشل ورک میں بھی اپنا ایک مقام بنایا۔ زمانۂ طالب علمی میں میرے ساتھ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا کولیگ رہا، پھر انصاف ڈاکٹر فورم کا حصہ بنا اور اپنی محنت سے انصاف ڈاکٹر فورم خیبرپختونخوا کے دو مرتبہ صدر منتخب ہوا۔ آج اسی ڈاکٹر نبی جان آفریدی کو خیبر ٹیچنگ ہسپتال سے اغوا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ساتھیوں نے مزاحمت کی تو فائرنگ ہوئی، میرے دوسرے کلاس فیلو ڈاکٹر زین العابدین کو سیدھی گولی ماری گئی، وہ زخمی ہوگئے اور دو مزید راہگیر بھی زخمی ہوئے۔ اور پھر میرے بچپن کے دوست، میرے کلیوال، میرے ہر دکھ سکھ کے ساتھی ڈاکٹر نبی جان آفریدی اور انصاف ڈاکٹر فورم خیبرپختونخوا کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر سعد کو اغوا کر لیا گیا۔ یار، ذرا سوچیں۔۔۔! ایک مڈل کلاس گھرانے کا بچہ، جو ٹاٹ کے اسکول سے پڑھ کر اپنی محنت سے ڈاکٹر بنتا ہے، لوگوں کی جانیں بچانے کا حلف اٹھاتا ہے، معاشرے کی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کرتا ہے۔۔۔ اور پھر ایک دن اسی ملک میں اسے اس طرح اٹھا لیا جاتا ہے کہ اس کے چھوٹے چھوٹے بچے گھر میں اپنے باپ کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ ماں باپ کی آنکھیں دروازے پر لگی ہوں گی۔۔۔ بچے پوچھتے ہوں گے کہ بابا کب آئیں گے۔۔۔ اور کسی کے پاس ان معصوم بچوں کو جواب دینے کے لیے الفاظ نہیں ہوں گے۔ 💔 اگر ہمارے ملک میں ایک عام مڈل کلاس گھرانے کا نوجوان اپنی محنت سے ڈاکٹر بننے کے بعد بھی محفوظ نہیں، اگر لوگوں کی جانیں بچانے والے ڈاکٹر بھی اپنے ہی ملک میں اس طرح غیر محفوظ ہیں، تو پھر ہمارے لیے اس ملک میں کیا اسپیس رہ جاتی ہے۔۔۔؟ ڈاکٹر نبی جان صرف ایک ڈاکٹر نہیں، میرا بچپن کا کلیوال دوست، میرا کلاس فیلو اور ہر دکھ سکھ کا ساتھی ہے۔ آج دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ پتہ نہیں میرا دوست اس وقت کس حال میں ہوگا۔۔۔ پتہ نہیں اس کے چھوٹے چھوٹے بچے کس حال میں ہوں گے۔۔۔ 💔 یا اللہ! ہم بہت بے بس ہیں، ہمارے حال پر رحم فرما۔ یا اللہ! ڈاکٹر نبی جان آفریدی کی حفاظت فرما، اسے خیریت اور سلامتی کے ساتھ اپنے بچوں کے پاس واپس پہنچا۔ یا اللہ! ڈاکٹر زین العابدین کو صحتِ کاملہ عطا فرما اور تمام زخمیوں کو شفا دے۔ یا اللہ! اس ملک کے ہر مظلوم کی حفاظت فرما اور ہمیں وہ دن دکھا جب اس ملک میں قانون، انصاف اور انسان کی جان کی حرمت واقعی مقدم ہو۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤲💔

About