@pashtoonistanzindaabad: خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف تعاون نہ کرنے کے الزام کو بنیاد بنا کر صوبائی حکومت کے اختیارات معطل اور ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ لیکن اگر بدامنی ہی کسی صوبائی حکومت کو ہٹانے کا معیار ہے، تو بلوچستان میں یہی معیار کیوں لاگو نہیں ہوتا؟ سی آر ایس ایس کی رپورٹ کے مطابق، جولائی سے ستمبر ۲۰۲۶ کے دوران بلوچستان میں پُرتشدد واقعات اور ان سے متعلق ہلاکتیں خیبر پختونخوا سے زیادہ تھیں: بلوچستان میں ۸۲۹، جبکہ خیبر پختونخوا میں ۵۵۶ ہلاکتیں ہوئیں۔ ان اعداد میں شہری، سکیورٹی اہلکار اور دہشت گردی و انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں مارے جانے والے مسلح افراد شامل ہیں۔ پھر ایک صوبے کی حکومت برقرار اور دوسرے کی حکومت بے اختیار کیوں؟ کیا بلوچستان کی حکومت کو اس لیے تحفظ حاصل ہے کہ وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی تابع ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کی حکومت سیاسی مخالفت کی سزا بھگت رہی ہے؟ میری نظر میں یہ دوہرا معیار دہشت گردی کے نام پر سیاسی اختیار چھیننے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر احتساب کرنا ہے تو صوبائی حکومتوں کے ساتھ اُن اداروں اور پالیسی سازوں کا بھی ہو جن کے ہاتھ میں سلامتی کے فیصلے ہیں۔ عوام کو امن بھی چاہیے اور اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق بھی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ عوامی مینڈیٹ ختم کرنے کا جواز نہیں بن سکتی۔ #KhyberPakhtunkhwa #Balochistan #DoubleStandards #ProvincialAutonomy #democracy